کورونا کے پیش نظر عبادت گاہ جانے سے کلی اجتناب کیا جائے: ڈی ایم

سہرسہ (جعفرامام قاسمی): بھارت میں تیزی کے ساتھ پھیل ریے کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے ایک دوسرے سے دوری بنائے رکھنا ہی سب سے اہم اور موثر طریقہ ہے کیونکہ اس خطرناک وائرس کا اثر متاثرہ شخص سے دوسرے تک فورا پہنچتا ہے اور اب تک اس کا کوئی علاج بھی سامنے نہیں آیا ہے۔ اس لیے اس سے بچاؤ کا واحد طریقہ ایک دوسرے سے دوری بنائے رکھنا ہے۔ اسی تدبیر کو بروئے کار لانے کے لیے 22  تاریخ سے عوامی کرفیو جاری ہے۔ اسے پورے طورپر نافذ کرنے کے لیے مرکزی حکومت کے علاوہ ریاستی حکومتیں بھی کمربستہ نظر آرہی ہیں۔ اس کرفیو کے دوران جہاں لوگوں کو بلا ضرورت چوک چوراہے اور دوسری جگہوں پر اکٹھا ہونے سے منع کیا جا رہا ہے، وہیں سبھی مذاہب کے لوگوں سے یہ اپیل بھی کی جارہی ہے کہ اپنے مذہبی امور کو گھر میں ہی انجام دیں۔  اس کے لیے عبادت گاہوں میں اکٹھا نہیں ہوں۔ اس سلسلے میں سہرسہ ڈی ایم کوشل کمار نے جمعرات کو جہاں ہندو سماج کے لوگوں سے یہ اپیل کی کہ لاک ڈاؤن کے  میں پوجاپاٹ کے لیے مندروں کا بالکل قصد نہ کریں اور اپنے گھروں میں ہی اسے انجام دیں، وہیں مسلم سماج سے بھی اپیل کی کہ جمعہ کی نماز اور پنج وقتہ نمازوں کے لیے مسجد جانے کی بجائے اپنے گھروں ہی میں پڑھیں اور لوگوں سے بالکل دوری بنائے رکھیں کیونکہ کورونا کے اثر سے بچنے کا یہی ایک مناسب طریقہ ہے۔  انہوں نے اس کے لیے علاقے کے ذمہ داروں سے اپیل کی ہے کہ وہ لوگوں کو سمجھا بجھا کر اس کی مکمل تعمیل کروائیں۔اس دوران مساجد میں باجماعت نمازوں کے تعلق سے رانی باغ کی جامع مسجد میں تنظیم ائمہ مساجد کے زیر اہتمام جمعرات کو ایک میٹنگ ہوئی جس میں یہ فیصلہ لیا گیا کہ امارت شرعیہ، دارالعلوم دیوبند، ندوة العلماء اور ملک کے دوسرے مرکزی اداروں کے دارالافتاء نے ملک میں تیزی کے ساتھ پھیل رہی اس وبا کے پیش نظر جو فتوی جاری کیا ہے کہ مساجد میں اذانیں دینے کا عمل جاری رہے اور مسجد کے امام، موذن اور اس کے خدام باجماعت نماز ادا کر لیا کریں اور بقیہ لوگ اپنے گھروں میں نماز ادا کریں، اور نماز جمعہ کی جگہ اپنے گھروں میں ظہر کی نماز ادا کریں اور گھر کے سبھی مرد و عورت بقیہ اوقات ذکر و اذکار، تلاوت قرآن پاک اور احادیث کی کتابوں کے مطالعے میں اپنا وقت لگائیں، ساتھ ہی تہجد، اوابین اور چاشت کی نمازوں کا بھی اہتمام کریں اور اللہ سے اس وباء کے جلد دور کرنے کی دعائیں کرتے رہیں،  اس کا معمول جمعہ سے سمری بختیار پور سب ڈویزن کے عوام بنائیں اور پورے طور پر اپنے گھروں میں ہی بند رہنے کو ترجیح دیں۔ اس دوران آج دن بھر سہرسہ شہر کے علماء و دانشوران گھوم گھوم کر مائک سے اعلان کرتے نظر آئے جس میں وہ لوگوں سے گھروں میں پنچ وقتہ نماز اور  جمعہ کی نماز ادا کرنے کی اپیل کر رہے تھے۔

Facebook Comments
Spread the love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply