بہار جرائم پیشہ افراد کے ہاتھوں میں چلا گیا ہے: پریم کمار

پٹنہ(نامہ نگار):
بہار اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور بی جے پی کے سینئر رہنما ڈاکٹر پریم کمار نے کہا ہے کہ پوری ریاست جرائم پیشہ افراد کے ہاتھوں

پریم کمار
پریم کمار

میں چلی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بہار میں نتیش کمار صرف نام کے وزیر اعلیٰ ہیں، ان کا نظم وقانون پر کوئی کنٹرول نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ نتیش کمار اور لالو پرساد کے اس راج میں خاص طور سے خواتین پر آئے دن مظالم بڑھتے جارہے ہیں۔
ڈاکٹر پریم کمار نے راجدھانی پٹنہ کے پرسا بازار میں ایک مہادلت طالبہ کی اجتماعی عصمت دری کے بعد اس کے قتل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے گھناؤنے اور رونگٹے کھڑے کردینے والے جرائم وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی ناک کے نیچے ہورہے ہیں اور وہ محض تماشائی بن کر دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ راشٹریہ جنتادل ، جنتادل متحدہ اور کانگریس کے مہاگٹھ بندھن کی حکومت میں عورتوں کے ساتھ ظلم وزیادتی کے معاملات روزانہ ہی سامنے آرہے ہیں ، اور وزیر اعلیٰ ایسی وارداتوں کو روکنے میں اب تک بری طرح ناکام رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مظفر پور میں ۴؍ اکتوبر کو ایک خاتون کو ڈائن بتا کر اسے پیٹا گیا اور پھر پیڑ سے باندھ دیا گیا۔ اس سے پہلے ۲۹؍ ستمبر کو حاجی پور میں ایک خاتون ملاز م سے لوٹ پاٹ کرنے کے بعد اس کا قتل کردیا گیا۔ اسی طرح ۲۷؍ ستمبر کو نوبت پور میں ایک کوچنگ سینٹر کے سربراہ نے ایک طالبہ کے ساتھ چھیڑخانی کی۔ اس سے ایک دن پہلے موتیہاری میں ایک نابالغہ کو اغوا کرکے اس کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کی گئی۔ اس سے قبل ۲۳؍ ستمبر کو گیا میں ایک خاتون کو ڈائن بتا کر اس کو مارا پیٹا گیا۔ اس سے دو دن پہلے حاجی پور میں ایک خاتون کا قتل کرکے اس کی لاش غائب کردی گئی۔ بھاگلپور ضلع کے بانکا میں ایک نابالغہ کا ہاتھ پاؤں باندھ کر اس کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کی گئی۔ ڈاکٹر پریم کمار نے وزیر اعلیٰ نتیش کمار سے پوچھا ہے کہ جب دلتوں اور مہادلتوں پر مظالم ہورہے ہیں تو وہ خاموش کیوں ہیں؟ انہوں نے کہا کہ ۲۰۱۳ء میں دلتوں پر مظالم کے چار ہزار ۸۲۱؍ معاملے درج کیے گئے تھے ،جبکہ ۲۰۱۵ء میں دلتوں اور مہادلتوں پر ہونے والے مظالم کے سات ہزار ۸۷۴؍ معاملے درج کیے گئے۔ اس سب کے باوجود نتیش کمار دعویٰ کرتے ہیں کہ بہار میں قانون کا راج ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *