ثقافتی پروگراموں کی پیشکش میں مدرسے بھی کسی سے کم نہیں

دارالعلوم امام ربانی کا شاندارغیر روایتی کامیاب اجلاس

Annual Ijlas Madarsa Imam Rabbani 1

ممبئی: کرلا کے بنتارا بھون میں دارالعلوم امام ربانی اور معہد الامام ولی اللہ الدہلوی للدراسات الاسلامیہ کا سالانہ اجلاس ۶ فروری کو منعقد ہوا، جس میں عام روایتی انداز سے ہٹ کر جاذب نظر، پرکشش اور جدید تقاضوں کے عین مطابق پروگرام پیش کئے گئے۔ عام طور پر مدارس کے پروگرام میں پرجوش تقریریں اور حمد و نعت کی دھوم ہوتی ہے، لیکن اس بار پروگرام کو مختلف نوعیت سے پیش کیا گیا۔ حمد و نعت بھی پیش کئے گئے۔ تقریریں بھی ہوئیں، لیکن ان کو نئے انداز سے جدید تکنیکی اور تقاضوں سے ہم آہنگ کرکے جس نے حاضرین کے دل و دماغ کو مسحور کرلیا۔ ادارہ کا تعارف ایک ڈاکیومنٹری کی شکل میں پیش کیا گیا جو کہ یقیناًمولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی کی انقلابی فکر کا غماز ہے۔ سماج کے اور معاشرے کے مختلف مسائل کو ڈراموں کی شکل میں پیش کیا گیا، جس میں ادارے کے طالب علموں نے ہی بڑے خوبصورت انداز میں اور موثر ڈھنگ سے پیش کیا۔ ڈراموں کی شکل میں جن مسائل کو پیش کیا گیا ان میں بزم افکار کے عنوان سے ایک ٹاک شو پیش کیا گیا، جس میں معاشرے کے تئیں علماء اور دانشوروں کی ذمہ داری کی عکاسی کی گئی تھی۔ طلبہ اور اساتذہ کے رشتوں اور تعلیم و تدریس کے انداز کو کلاس روم میں پیش کیا گیا۔ موجودہ دور میں حلال و حرام کی تمیز ایک مسئلہ بن گئی ہے۔ اس پر ایک ڈرامہ پیش کیا گیا جس میں مختلف ڈبہ بند کھانے کی اشیاء میں خنزیر کی چربی سمیت دیگر حرام اشیاء کی ملاوٹ کے بارے میں بتایا گیا۔ اسی طرح جدید ترقی یافتہ دور میں اخلاقی اقدار کے زوال پر ایک ڈرامہ پیش کیا گیا جس میں اولڈ ایج ہوم میں مجبور اور معذور ضعیفوں کے مسائل کو اسلام کی روشنی میں پیش کیا گیا اور اس کے ذیل میں والدین کی قدر قیمت بتائی گئی۔
Annual Ijlas Madarsa Imam Rabbani 3

موجودہ ملکی حالات کے تحت تعلیم کو زعفرانی رنگ دینے کے خلاف ایک ڈرامہ میں پارلیمانی بحث کو پیش کیا گیا۔ سورہ کہف کی روشنی میں ایک ڈرامہ پیش کیا گیا جس میں دو دوستوں کے واقعہ کو پیش کیا گیا ایک دوست غریب لیکن اللہ پر کامل یقین رکھنے والا جبکہ دوسرا دو باغات کا مالک ہوتا ہے اللہ نے اسے خوب اپنی نعمتوں سے نوازا لیکن وہ مغرور اور ناشکرہ اللہ کی نعمت کا شکر کرنے کی بجائے اس نے اپنے غریب دوست کو حقیر اور ذلیل سمجھا نتیجتاً ایک اللہ نے اس کے باغات برباد کردیئے۔ کسانوں کے مسائل، ٹریفک کے مسائل اور اس کے حل کو پیش کرنے والی نمائش کا بھی اہتمام کیا گیا تھا جس طلبہ نے خود سے تیار کیا تھا۔ صرف یہی نہیں انہوں نے ان مسائل اور اس کے تدارک کے لئے حل بھی پیش کئے۔ انہوں نے مہمانان کو اس تعلق سے انگریزی میں تفصیلات بھی بتائیں۔
یہ مختصر سا تعارف تھا اس پروگرام کا جس کو دینی مدارس نے پیش کیا تھا اور جو کہ مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی کی سرپرستی میں کامیابی سے منزل کی جانب رواں دواں ہے، جس کا اندازہ طلبہ کے سائنسی کارناموں اور جدید مسائل پر مبنی نمائش، ڈراموں میں ان کے کردار تقاریر اور حمد و نعت پیش کرنے کا نیا انداز ظاہر کرتا ہے۔ مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی نے بہت ہی مختصر خطاب میں صرف اتنا کہا کہ مجھے جو کچھ کہنا تھا وہ آپ لوگوں نے مختلف ڈراموں کی شکل میں طلبہ نے پیش کردیا ہے اور جس کے بارے میں اجلاس کے صدر مولانا سعید الرحمن اعظمی نے تعریفی انداز میں کہا کہ ’’یہ ایک مثالی پروگرام ہے۔ یہ قابل رشک ہی نہیں قابل تقلید بھی ہے۔ مدارس کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے سارے علوم سیکھیں جس سے وہ دنیا کی قیادت کرنے کے قابل بنیں۔ اگر ہم اس سے دور ہیں تو یہ ہماری کمی ہے۔ دین کامل انسان کامل پیدا کرتا ہے۔ سائنس و ٹیکنالوجی سمیت تمام قسم کے علم کا حصول انسان کو انسان کامل بناتا ہے ‘‘۔
Annual Ijlas Madarsa Imam Rabbani 2

لندن سے تشریف لائے مہمان مفتی عبد الرحمن نقشبندی نے اپنے انگریزی خطاب میں اجلاس میں طلبہ کی شاندار کارکردگی پر کہا کہ دعوت دین کے لئے انگریزی میں تقریر کرنے والے مقرر امپورٹ کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ یہ مدرسہ دوسرے مدارس کے لئے رول ماڈل بنے گا۔ مہمان خصوصی ولی رحمانی نے طلبہ کی پروگرام پیش کرنے کی صلاحیت کے بارے میں کہا کہ میرے لئے یہ ایک یادگار لمحہ ہے ۔دینی مدارس کو اسی نہج پر رہنمائی کی ضرورت ہے۔ اس طرح کے قابل اور جدید و قدیم تعلیم سے فیضیاب ہو کر عالم میدان عمل میں آئیں گے تو علم کا بھی بھلا ہوگا اور اسلام کی صحیح نمائندگی بھی ہو گی۔ ظہیر قاضی صدر انجمن اسلام نے کہا کہ طلبہ کے ذریعہ پیش کئے گئے پروگرام پر طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’’آپ کسی بھی کانوینٹ اسکول سے زیادہ بہتر ہیں۔ پروگرام کے ایک غیر مسلم مہمان دلت لیڈروامن میشرام نے مدرسہ کے تعارف کے لئے بنائی گئی ڈاکیومنٹری فلم پر کہا کہ ’’اس ڈاکیومنٹری فلم کو پورے ملک میں دکھانے کا اہتمام کیجئے تاکہ لوگوں نے مدرسہ کے تعلق سے جس غلط فہمی کو اپنے دل میں جگہ دی ہے وہ دور ہو‘‘ ،انہوں نے مزید کہا کہ ’’یہ ایک انقلابی قدم ہے ‘‘۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *