دربھنگہ میں اُردو زبان و ادب کا ارتقاء

نظرعالم *

لفظ متھلانچل سن ہمارے ذہنوں میں جو نام سب سے پہلے اُبھرتا ہے وہ دربھنگہ ہے، شہر دربھنگہ اپنی پہچان خود ہی بتاتا ہے۔ صوبہ کے تمام شہروں میں دربھنگہ کو ایک خاص مقام حاصل ہے۔ دربھنگہ شمالی بہار کا ایک ایسا شہر ہے جہاں فطرت کے حسین مناظر بے حجاب دیکھنے کو ملتے ہیں۔ یوں تو دربھنگہ کو میتھل اور سنسکرت زبان نے شہرتِ دَوَام بخشی ہے، مگر دوسرے عناصر بھی بہت سارے یہاں موجود ہیں جو اِس کے حُسن میں چارچاند لگاتے ہیں:
دیکھ شمشیر ہے یہ، ساز ہے یہ، جام ہے یہ
تو جو شمشیر اُٹھالے تو بڑا کام ہے یہ
دربھنگہ میں اُردو ادب کے ابتدائی نقوش 18 ویں صدی سے ہی بزرگوں کے یہاں دیکھنے کو ملتے ہیں۔ معاملہ ملاابوالحسن کا ہو یا کسی اور کا، یہاں کے لوگوں نے تعلیم کا شمشیر اٹھایا ہے، ساز اور جام تو عام ہے خاص تو ہمیشہ سے ہی عام ڈَگر سے ہٹ کر چلے ہیں۔ یہاں کا تعلیم یافتہ طبقہ اوّل روز سے ہی تعلیم و تعلّم کے میدان میں اپنی ایک الگ پہچان بنائی ہے۔ تب کی پہچان اور تھی اب کی پہچان اور ہے، ہو بھی کیوں نہیں؟ جب ہم محقق تھے تو زمانہ نے ہمیں توجہ نہیں دیا اور آج جب ہم کچھ نہیں ہیں، دوسروں کے چبائے کو چبارہے ہیں تو پوری اُردو دنیا کے مرکز بنے ہوئے ہیں۔ ہمارے باصلاحیت ریسرچ اسکالر وقتاً فوقتاً اپنے بزرگوں کی خدمات کا اعتراف کرتے رہے ہیں اور اُمید ہے آگے بھی کرتے رہیں گے۔اپنے بزرگوں کے لئے ہمیں کچھ نہیں کہنا، خود ان کی تخلیقات چیخ چیخ کر ہمیں پکار رہی ہے۔ متھلانچل نے ہمیں بہت ہی عظیم المرتبت شخصیات سے نوازا ہے جن میں سے چند نام آپ کو یاد دلانے کے واسطے گنواتا چلتا ہوں، اُن میں قابل ذکر ہیں، ملاابوالحسن، محسن دربھنگوی، منظرامام، اویس احمد دوراں، مظہرامام، شاداں فاروقی اور لطف الرحمن۔
مذکورہ بزرگ تو اب ہمارے درمیان نہیں رہے مگر ان کی تخلیقات ہمیں اور ہماری نسلوں کو ہمیشہ راہ دکھلانے کا کام کرتی رہیں گی، ان کی تخلیقات کے لئے بس اتناہی کہوں گا:
چھلکے تری آنکھوں سے شراب اور زیادہ
مہکیں ترے عارِض سے گلاب اور زیادہ
موجودہ نسل بے راہ روی کی شکار ہوچکی ہے اور یہ میں کیوں کہہ رہا ہوں ، ہاں شاید اس لئے کہ میں اِس درد کو اپنے سینے میں محسوس کرتا ہوں۔ کہاں تھے، کہاں آگئے ہم! موجودہ نسل کو برباد کرنے میں ہمارے اساتذہ نے بھی اہم رول ادا کیا ہے۔ چند سکوں کی خاطر اپنے ضمیر کو بیچنا، صاحبِ اقتدار کی درباری کرنا، پیسے والوں کا جھولا اُٹھانا یہ ہمارے اساتذہ کا وطیرہ ہے۔ میں کس کو سنارہا ہوں، مجھے کہنے دیجئے پوری اُردو دنیا آج خاموش ہے، اپنے زوال پر آنسوبہانے کے بجائے قصیدہ پڑھ رہی ہے۔ چندہی شخصیات تو آج ہند میں باقی ہیں جو مشعل راہ ہوسکتے ہیں مگر وجوہات سمجھ نہیں آتے کہ انہوں نے لکھنا چھوڑ دیا ہے یا پھر رسائل والوں نے اُنہیں کسی خاص بنا پر چھاپنا چھوڑ دیا  ہے۔ آپ نے شمس الرحمن فاروقی اور شارِب رُدَولوی کا نام تو سناہی ہوگا، اُنہیں جیسے ہند میں کچھ اور نام ہیں جن کے پاس مانگے کا اُجالا نہیں بلکہ خود کا چراغ ہے۔ آہ ! نئی نسلوں اور اپنے ادبی اساتذہ کو کیا کہوں، بقول اسرارالحق مجازؔ :
کچھ تجھ کو خبر ہے، ہم کیا کیا، اے شورشِ دوراں بھول گئے
وہ زُلف پریشاں بھول گئے، وہ دِیدہ گِریاں بھول گئے
اے شوقِ نظارہ کیا کہئے، نظروں میں کوئی صورت ہی نہیں
اے ذوقِ تصور کیا کیجئے، ہم صورتِ جاناں بھول گئے
دربھنگہ تو خیر چھوڑئیے، یہ تو اب فراڈزم کا اڈہ بن چکا ہے۔ پوری اُردو دُنیا، پورا اُردو ادب تحقیق و تنقید سے اپنا رشتہ توڑ چکا ہے، اِسے ایک دوسروں کو حاجی کہنا آتا ہے بس ! کوئی منفرد آواز دُور دُور تک سننے کو نہیں ملتی، میں اپنی باتیں آپ سے زبردستی منوا نہیں رہا بلکہ بتارہوں کہ ہم کہاں آگئے۔ آپ ہند سے نکلنے والے تمام اُردو رسائل کو جمع کر اُس کی وَرَق گردانی کیجئے، آپ کو ایک بھی نئی بات نہیں ملے گی، وہی پرانی باتیں ملیں گی جو 20 ویں صدی کے آخری عشرہ تک کہہ دی گئی ہوں۔ کیا یہ غور و فکر کا مقام نہیں، جسے بحر کی خبر تک نہیں وہ آج کے دَور میں عظیم شاعر ہے، جس کے ہاتھ تحقیق و تنقید کے کوئی نسخے نہیں لگے وہ آج بہت بڑا محقق و ناقدہے، خدا معاف کرے یہ تمام کے تمام فرضی ہیں، فرضی ہیں، فرضی ہیں۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہمارے باصلاحیت اساتذہ سامنے آئیں اور نئی نسلوں کی صحیح رہنمائی کریں، اِس فکر سے آزاد ہوکر کہ زمانہ ہمیں کیا کہے گا، اگر ایسا نہیں ہوا تو اُردو زبان و ادب میں ہمیشہ کے لئے تحقیق و تنقید کا دروازہ بند ہوجائے گا، جس کی شروعات 21 ویں صدی کے ابتداء سے ہی ہوچکی ہے۔ جاتے جاتے اپنے سینے کے کرب کو عامرؔ عثمانی کی زبان میں دِکھاتا چلوں، شاید کہ آپ کچھ محسوس کرسکیں:
قدم قدم کھُلے ہوئے، ہیں مَکر و فن کے مدرسے
مگر یہ میری سادگی، تو دیکھئے کہ آج بھی
وفا کی درسگاہوں کا نصاب ڈھونڈتا ہوں میں
مرے سفر کے ساتھیوں! تم ہی سے پوچھتا ہوں میں
بتاؤ کیا صنم ملے، بتاؤ کیا خدا ملا
جواب چاہئے مجھے، جواب ڈھونڈتا ہوں میں

* قومی صدر، آل انڈیا مسلم بیداری کارواں

Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *