مصیبت کے وقت مسلمان صبراورنمازکےذریعہ مددطلب کرے ۔ مفتی ظل الرحمن  

پٹنہ… (پریس ریلیز) مؤرخہ 4 جولائی 2018 بروز بدھ بمقام دھرم پورسمستی پور حسب سابق ڈاکٹر اشتیاق صاحب کے دولت خانہ میں درس قرآن کی مجلس منعقد ہوئی جس میں مولانا قاضی ظل الرحمن قاسمی نے سورۃبقرہ کی تفسیر پیش کی، انہوں نے تحویل قبلہ کے واقعہ کوتفصیل سے بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ تحویل قبلہ کے پس پردہ جوحکمتیں تھیں وہ یہودیوں کو دین اسلام سے قریب کر ناتھا لیکن ناہنجار یہودی قوم حکمت الہی کو کہاں سمجھنے والی تھی سولہ یاسترہ مہینہ کے بعد اللہ رب العزت نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوبذریعہ وحی کعبتہ اللہ ہی کی طرف نماز پڑھنے کاحکم دیا اس بات کولیکر یہودیوں نے کافی شور مچایا اور طرح طرح کی باتیں گڑھ نی شروع کردی جس سے مسلمانوں کو دلی رنج وغم پہنچنا یقینی بات تھی اسلئے اللہ نے مسلمانوں کومخاطب کرتے ہوئے فرمایا۔ایسے موقع پر صبر او رنماز کے ذریعہ ہم سے مدد طلب کرو یقیناہم تمہارے ساتھ ہیں لہذا ہر مصیبت اور پریشانی کے وقت صبر اور نماز ہی کے ذریعہ ایک ایمان والے کو مدد طلب کرنی چاہئے مزید انہوں نے شعائر اسلام کو بالتفصیل بیان کیاکہاکہ صفا مروہ کے مابین سعی ، وقوف عرفہ،وقوف مزدلفہ اوروقوف منی یہ تمام منجملہ شعائر حج ہیں پہر انہوں نے کہاکہ اللہ مسلمانوں کو مختلف انداز سے آزماتاہے کبھی دشمنوں کاخوف دلاکر کبھی فاقہ کشی کرکے کبھی مالوں میں کمی کرکے اور کبھی پیداوار میں کمی کرکے لیکن ایک مسلمان بحیثیت مومن اس پر لازم ہے کہ وہ ان آزمائشوں کی گھڑیوں میں وہ ثابت قدم رہے۔ مولانا نے فرمایا کہ آج لوگ رواداری اور مصالحت کی بات کرتے ہیں، اس کی بھی اسلام نے حد بیان کی ہے، اسلام امن و آشتی اور رواداری کا سچا اور پکا حامی ہے لیکن اسی وقت تک جب تک رواداری اسلام کی حدوں کو توڑتی نہ ہو اور اسلامی تعلیمات سے ٹکراتی نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ سوریہ نمسکار، یوگا اور وندے ماترم جیسی چیزیں اسلام کو کبھی منظور نہیں۔ اور اگر امن، چین، رواداری، آپسی بھائی چارہ، انسانیت، مانوتا اور اخلاق کی بات کرو تو اسلام تو اسی کا نام ہے۔مولانا کی دعا پر مجلس اختتام پذیر ہوئی،اس مبارک موقع پر بڑی تعداد میں مردوخواتین موجود رہے ۔

آئندہ بدھ11/جولائی 2018ء کوبوقت9بجے صبح ان شاء اللہ تعالیٰ درس قرآن کی مجلس ڈاکٹر صاحب کے گھر میں ہی منعقد ہو گی،جس میں سورۃ البقر ہ کی تفسیر پیش کی جائے گی۔ تمام حضرات سے شرکت کی درخواست ہے۔

Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *