مدھوبنی میں مرنے والوں کی تعداد ۲۶؍ پہنچی

مدھوبنی(شرف الدین عبدالرحمن تیمی): مدھوبنی ضلع
میں آئے سیلاب کے سبب اب تک ۲۶؍ افرادجان گنواچکے ہیں۔ضلع کے تقریبا پندرھ بلاکوں میں آئے سیلاب نے جہاں بہت سے بچوں کو یتیم، بہت سی بیویوںکو بیوہ اور بہت سی ماؤوں کو بے اولاد کر دیا وہیں کھیتوں میں لہلاتی فصلوں کو بھی تہس نہس کر کے رکھ دیا ہے۔مدھوبنی ضلع میں سیلاب کی وجہ سے سب سے زیادہ  اموات بینی پٹی بلاک میں ہوئیں۔یہاں سات افراد سیلاب کا شکار ہوگئے ۔وہیں لوکہی بلاک میں چار افراد کی جان چلی گئی۔اس کے علاوہ بسفی میں دو،باسو پٹی میں دو،مدھواپور میں دو،لدنیا میں دو،راج نگر،کلواہی،بابو بڑھی،جے نگر اور اندھراٹھاری میں ایک ایک موت ہونے کی خبر ہے۔
مدھوبنی میں سیلاب کا منظر

قابل ذکر ہے کہ مدھوبنی ضلع کے کئی علاقوں میں سیلاب نے تباہی مچا رکھی ہے۔ اس علاقے میں ۱۵؍ اگست سے پہلے ہی سیلاب کا پانی داخل ہوگیا تھا۔ مدھوبنی کے سیلاب زدگان مصیبت کی گھڑی میں حکومت کی راہ دیکھتے رہے لیکن کوئی انہیں پوچھنے کے لیے نہیں پہنچا۔ اس دوران بہت سے لوگ گھر سے بے گھر ہوگئے۔ معصوم بچوں کی حالت بھوک سے بے حال ہوتی رہی مگرکوئی ان کی سدھ لینے کے لیے نہیں آیا۔ حکومت کےرویے سے مایوس مدھوبنی کے سیلاب زدگان پریشان ہیں کہ ان کا حال جاننے کے لیے کوئی مسیحا آئے گا بھی کہ نہیں۔ویسے کچھ لوگ سیلاب کو عذاب الٰہی مانتے ہیں۔ تیلیا پوکھر کے عبداللہ کا کہنا ہے کہ یہ سیلاب نہیں عذاب الہی ہے۔ ہم قدرت کے اس فیصلے سے راضی ہیں۔بس ہم لوگوں کے گھر وںمیں پانی ہے ۔فی الحال ہم لوگ دوسروں کے گھر وںمیں پناہ گزیں ہیں ۔کھانے پینےکے لالے پڑ رہے ہیں۔حکومت کی جانب سے اب تک کچھ راحتی اشیاء نہیں مل پائی ہے۔اسی طرح محمد اکرم نے اپنی داستان غم سناتے ہوئےکہا کہ اس سیلاب نے کئ سالوں کا ریکارڈ توڑ دیا ہے۔اس سے جہاں مالی نقصان ہوا ہے وہیں بہت زیادہ جانیں بھی گئ ہیں۔ لوگ بہت پریشان ہیں،خوف ودہشت کے سائے تلے جی رہے ہیں۔امید ہے کہ رب کا یہ عذاب جلد ہی ٹل جائے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *