دلت طالب عالم روہت ویمولا کو خودکشی پر مجبور کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ

irshad ahmed
نئی دہلی، (پریس ریلیز): حیدرآباد مرکزی یونیورسٹی کے ذہین ریسرچ اسکالرروہت ویمولا کو خود کشی پر مجبور کرنے کے لیے یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور مرکزی وزیر کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اولڈ بوائز ایسوسی ایشن دہلی کے صدر ارشاد احمد اور اے ایم یو الومنائی متحدہ عرب امارات کے صدر سید محمد قطب الرحمن نے سوال کیا کہ آزاد ہندوستان میں آخر کب تک دلتوں کے ساتھ مظالم کا سلسلہ جاری رہے گا؟
مسٹر احمد نے کہا کہ دلتوں کے ساتھ آزادی کے بعد بھی مظالم کا سلسلہ جاری ہے اور بہت سے علاقوں میں اس وقت بھی دلتوں کو اونچی ذات کے لوگوں کے سامنے بیٹھنے کا حق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہمارے نظام کی خامیاں ہیں کہ ہم نے اب تک انہیں مساوی درجہ نہیں دیا ہے جبکہ ہندوستان کا آئین سب کو مساوی درجہ دیتا ہے اور سب کے ساتھ یکساں سلوک کی تلقین کرتا ہے۔
انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کو مکتوب خط میں سوال اٹھایا کہ آخر ایک وزیر کی شکایت پر حیدرآباد مرکزی یونیورسٹی کو چھ ریمائنڈر کیسے بھیجے گئے جس کی وجہ سے وائس چانسلر نے روہت ویمولا کے ساتھ پانچ دیگر دلت طلبا کو معطل کردیا تھا۔انہوں نے کہاکہ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ جب کسی دلت طالب علم کے ساتھ اس طرح کا واقعہ پیش آیا ہے۔ اس یونیورسٹی میں اب تک سات دلت طلبا خودکشی کرچکے ہیں۔ اس سے انتظامیہ کا دلتوں کے ساتھ سلوک کا پتہ چلتا ہے۔
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی متحدہ عرب امارات کے صدر سید محمد قطب الرحمن نے کہا روہت ویمولا کی خودکشی نے مرکزی حکومت اور یونیورسٹی انتظامیہ کا دلت مخالف چہرہ سامنے لادیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ روہت ویمولا کو مسلسل پریشان کیا جارہا تھا جس کی وجہ سے انہیں خودکشی پر مجبور ہونا پڑا۔ اگر فروغ انسانی وسائل کی وزارت کا ریمائنڈر اور ایک مرکزی وزیرکا دباؤ نہ ہوتا توویمولا آج زندہ ہوتا۔انہوں نے کہا کہ جب سے مرکز میں مودی حکومت آئی ہے اس وقت سے دلتوں، اقلیتوں اور کمزور طبقوں کا جینا دوبھر ہوگیا ہے۔
مسٹر رحمن نے کہا کہ ویمولا کا قصور یہی تھا کہ وہ ہر ظلم کے خلاف لڑتا تھا خواہ اس کا شکار کوئی بھی ہوا ہو۔ انہوں نے مظفر نگر فسادات پر اگست ۲۰۱۵ میں ایک دستاویزی فلم ’’مظفرنگر باقی ہے‘‘کی نمائش کی تھی جس کی وجہ سے سنگھ پریوار اور اس سے وابستہ تنظیمیں ویمولا کو پریشان کر رہی تھیں اور وہ ان لوگوں کی نظروں میں کانٹے کی کھٹک رہا تھا۔مسٹررحمن نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ دلتوں اور مسلمانوں پر مظالم بند کیے جائیں اور اس کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروئی کی جائے۔
اسی کے ساتھ مسٹر رحمن نے مسلم تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ دلتوں کے حق میںآواز اٹھانے کے لیے آگے آئیں اور ہر صورت میں دلتوں کا ساتھ دیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر وہ ایسا نہیں کریں گے تو پھر ان پرہونے والے مظالم کے خلاف بھی کوئی کھڑا نہیں ہوگا۔
Qutbur Rahman

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *