نائیجیریا حکومت شیخ ابراہیم زکزکی کو رہا کرے:محمد عسکری

نئی دہلی،۵جنوری(نامہ نگار): نائیجیریا کے معروف شیعہ رہنما شیخ ابراہیم زکزکی گذشتہ تین ہفتوں سے کہاں اور کس حالت میں ہیں، اس کی اطلاع عام لوگوں کو نہیں ہے۔ ان حالات میں ان کی رہائی کا مطالبہ مزید زور پکڑتا جارہا ہے۔ ہندوستان میں بھی شیخ ابراہیم زکزکی کی رہائی کے لیے مہم چلائی جارہی ہے۔ اس سلسلے میں پچھلے دنوں نئی دہلی میں ایک احتجاجی مظاہرہ بھی کیا گیا تھا۔

شیخ ابراہیم زکزکی کے بارے میں مصدقہ اطلاعات نہیں ملنے کے سبب ان کے چاہنے اور ماننے والوں کی بے چینی میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ اس سلسلے میں نئی دہلی میں واقع امامیہ ہال کے امام شیخ محمد عسکری نے’نیوزان خبرڈاٹ کام‘ سے بات کرتے ہوئے اپنی تشویش کا اظہار کیا اور کہا:’’ہم ایک انسان کی حیثیت سے جاننا چاہتے ہیں کہ وہ کہاں ہیں اور کس حال میں ہیں۔ ہم نائیجیریا حکومت سے ان کی رہائی کا شدید مطالبہ کرتے ہیں۔‘‘

قابل ذکر ہے کہ نائیجیریائی فوج نے زاریا کے علاقے میں واقع ابراہیم زکزکی کے گھر کا ۱۳ دسمبر ۲۰۱۵ کومحاصرہ کیا تھا۔ اس فوجی کارروائی کے دوران بہت سے لوگ ہلاک اور زخمی بھی ہوئے تھے۔ کہاجاتا ہے کہ اس کارروائی میں آیت اللہ زکزکی بھی زخمی ہوگئے تھے۔ انہیں اسی حالت میں گرفتار کیا گیاتھا۔ کم وبیش دس دنوں تک ان کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں دینے کے بعد گذشتہ دنوں نائیجیر یا پولیس کے سربراہ سلیمان اراسا نے نائیجیریا کے قومی سلامتی امور کاؤنسل کے ایک وفد کو بتایا کہ ابراہیم زکزکی ایک اسپتال میں زیر علاج ہیں۔ تاہم وفد کے اصرار کے باوجود یہ نہیں بتایا گیا کہ وہ کہاں اور کس اسپتال میں زیر علاج ہیں۔ سلیمان اراسا نے وفد کو بتایا کہ علاج ہونے تک ابراہیم زکزکی سے کسی کو ملاقات کی اجازت نہیں ہے۔

اس دوران اسلامک موومنٹ میڈیا فورم کے صدر ابراہیم موسیٰ نے ایک پریس بیان جاری کرتے ہوئے حکومت نائیجیریا سے کہا ہے کہ لوگ اپنے لیڈر یعنی نائیجیریا اسلامک موومنٹ ( آئی ایم این) کے رہنما ابراہیم زکزکی کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں۔

اس سب کے درمیان ایک اطلاع یہ بھی ہے کہ گذشتہ دسمبر میں جب نائیجیریا فوج کے سربراہ جنرل توکور بوراتی کا قافلہ زاریا کی طرف جا رہا تھا تب اابراہیم زکزکی کے حامیوں نے ان کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کردی تھیں۔ فوج نے اس اقدام کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے جنرل بوراتی کے قتل کی کوشش بتایا۔لیکن آئی ایم این نے ان الزامات کو بے بنیاد بتاتے ہوئے سرے سے خارج کردیا۔

کون ہیں ابراہیم زکزکی؟
شیخ ابراہیم زکزکی نائیجیریا میں اقلیتی شیعہ فرقہ کے روحانی پیشوا ہیں۔ وہ ۱۹۸۰ میں قائم ہونے والی اسلامک موومنٹ آف نائیجیریا کے لیڈر بھی ہیں۔ یہ تنظیم ملک کے شمالی حصے میں سرگرم ہے۔ آئی ایم این کی زیرنگرانی بہت سے اسکول اور اسپتال بھی کام کررہے ہیں۔ سن ۲۰۱۴ میں فوج اور این آئی ایم کے مابین ایک شدید جھڑپ ہوئی تھی جس میں ابراہیم زکزکی کے تین بیٹے بھی ہلاک ہوگئے تھے۔

نائیجیریائی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے اپنے سربراہ جنرل بوراتی کا قتل کرنے کی سازش کرنے کے الزام میں ابراہیم زکزکی کو حراست میں لیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *