بغیر سوچے لیا گیا نوٹ بندی کا فیصلہ: شیوانند

شیوانند تیواری
شیوانند تیواری

پٹنہ:
پارلیمنٹ کے سابق رکن شیوانند تیواری نے کہا ہے کہ نوٹ بندی کا فیصلہ دیوانگی میں اٹھایا گیا قدم ہے. انہوں نے کہا کہ گذشتہ آٹھ نومبر کو وزیر اعظم نریندر مودی نے پانچ سو اور ہزار روپے کے نوٹ منسوخ کیے جانے کا اعلان کیا تھا. ریزرو بینک آف انڈیا کے مطابق اس دن ملک میں پانچ سو اور ہزار روپے کے ۱۵کروڑ ۴۴ لاکھ نوٹ چلن میں تھے. ایک مہینہ بعد منسوخ کیے گئے نوٹوں میں سے بدھ تک ساڑھے گیارہ کروڑ یعنی کل منسوخ نوٹوں کا ۸۰ فیصد بینکوں میں واپس آ چکا ہے. فائنانس سکریٹری کے مطابق اس ماہ کے آخر تک یعنی منسوخ نوٹوں کو بینکوں میں جمع کرنے کی آخری مہلت تک تقریبا سارے منسوخ نوٹ بینکوں میں واپس آ سکتے ہیں. اس کا مطلب یہ ہوا کہ نقدی میں کالا دھن ہونے کا جو دعوی کیا جا رہا تھا، وہ غلط ثابت هوا يا وہ کالا دھن کم تھا جو بدعنوان بینک عہدیداروں کی مدد سے سفید کر لیا گیا. اس طرح نوٹوں کو منسوخ کیے جانے کا جو بنیادی مقصد وزیر اعظم نے بتایا تھا، وہ غلط ثابت ہو رہا ہے.

شیوانند تیواری نے کہا کہ نوٹ بندی کے پہلے ملک کی اقتصادی حالت کم و بیش ٹھیک تھی. خود مرکزی حکومت کا دعوی تھا کہ ہم دنیا میں سب سے تیز رفتار سے ترقی کرنے والے ملکوں میں سے ایک ہیں. ہماری ترقی کی رفتار چین سے بھی تیز ہے. گذشتہ دو تین برسوں سے ملک کا بڑا حصہ خشک سالی سے متاثر تھا. کچھ علاقوں میں تو پینے کے پانی تک کا بحران پیدا ہو گیا تھا۔ لیكن اس سال بارش بہت اچھی ہوئی. خريف کی بہت اچھی فصل ہوئی هے۔ ربیع کی فصل بھی اچھی ہو گی، اس کا امکان دکھائی دے رہا تھا. جب معیشت بالکل صحت مند حالت میں دکھائی دے رہی تھی، تب وزیر اعظم کی طرف سے اٹھائے گئے اس قدم کا جواز سمجھ سے بالاتر ہے. ریزرو بینک کی طرف سے ملک میں جاری کل کرنسی کا ۸۶ فیصد پانچ سو اور ہزار رپے کے نوٹ کے طور پر تھا. ٹھیک ٹھاک چل رہی معیشت سے اتنی بڑی رقم نکال لینا ایک صحت مند شخص کے جسم سے ۸۶ فیصد خون نکال کر اسے ادھ مرا بنا دینے کے مانند ہے.

انہوں نے کہا کہ دیوانگی کی حالت میں اٹھائے گئے اس قدم سے ملک کی معیشت کو کل کتنا نقصان پہنچا ہے، اس کا آخری تجزیہ تو بعد میں ہوگا، لیکن ریزرو بینک کے گورنر ارجت پٹیل نے بدھ کو جو تجزیہ بتایا ہے، اس کے مطابق ملک کی ترقی کی شرح ۷ء۶ سے ۷ء۱ فیصد پر آ جانے کا امکان ہے. یعنی قومی آمدنی میں ۰ء۵ فیصد کی کمی آئے گی. اے این سنہا انسٹی ٹیوٹ، پٹنہ کے شعبئہ معاشیات کے پروفیسر ڈی ایم دیواکر کے مطابق اقتصادی سروے کی بنیاد پر ۱۶-۲۰۱۵ کی موجودہ قیمت کی بنیاد پر ہماری مجموعی قومی آمدنی ۱۳۴۰۹۸۹۲ کروڑ روپے تھی. اس میں ۰ء۵ فیصد کی کمی کا مطلب ہے مجموعی گھریلو آمدنی میں ۶۷۰۴۹۴۶ کروڑ روپے کی کمی یا مجموعی ملکی پیداوار میں یہ ۶۷۸۳۵۹۶ کروڑ روپے ہے. پروفیسر دیواکر کے مطابق نوٹوں کی پرنٹنگ اور ملک بھر میں ان کو پہنچانے کی لاگت تقریبا ۱۲۸۰۰۰ کروڑ روپے تک آ سکتی ہے. اس سے پہلے سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نوٹ بندی کے قدم سے مجموعی قومی پیداوار میں دو فیصد کمی آنے کا خدشہ کا اظہار کر چکے ہیں.

سابق ممبر پارلیمنٹ شیوانند تیواری نے کہا کہ ملک میں جو حالت ہے، اسے دیکھتے ہوئے یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ نوٹ بندی کا یہ فیصلہ مثبت اقتصادی سوچ کی بنیاد پر نہیں لیا گیا ہے. اس فیصلے کے ذریعے پی ایم مودی غریبوں سے محنت اور امیروں کو موج کرا رہے ہیں. آگے آنے والے دنوں میں اس فیصلے کے پورے اثرات جب سامنے آئیں گے تو جو بھکت آج ان کی جے كار لگا رہے ہیں، وہی ان کی جان کے پیچھے لگے نظر آئیں گے.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *