نوٹ بندی عوام کے ساتھ کھلی دشمنی ہے: نازیہ الہیٰ

عوام بینک میں روپیہ رکھنے پر مجبور اور سرمایہ داروں کو اربوں کے قرضہ کی معافی
معروف سماجی کارکن ایڈوکیٹ نازیہ الہیٰ خان نے نوٹ بندی کے خلاف مہم چھیڑی

کولکاتا:
پانچ سو اورہزار روپے کے کرنسی نوٹوں کو اچانک منسوخ کیے جانے کے فیصلے کے خلاف ملک گیر پیمانہ پر احتجاج اور مخالفت کے درمیان فورم فارآر ٹی آئی ایکٹ اینڈ اینٹی کرپشن نے صدر جمہوریہ کو اس کے مضمرات بتاتے ہوئے ایک عرضداشت پیش کی ہے اور اس عوام دشمن فیصلہ کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

 نازیہ الہیٰ خان
نازیہ الہیٰ خان

فورم کی سربراہ معروف سماجی کارکن ایڈوکیٹ نازیہ الہیٰ خان نے اپنی عرضداشت میں کہا ہے کہ ۸ نومبر کو وزیراعظم نریندر مودی کے اعلان کے بعد سے ہی ہندوستان کی معیشت تہس نہس ہوگئی ہے۔ اس فیصلہ نے راتوں رات پورے ہندوستان کو قطار میں کھڑا کردیا۔ نریندر مودی دنیا کے ایسے وزیراعظم ہیں جنہوں نے اپنے عوام کو ان کی اپنی ہی محنت کی کمائی کا پیسہ بینک اور اے ٹی ایم سے نکالنے کے لیے لائن میں کھڑا کردیا اور پھر وہاں سے بھی وہ انہیں خالی ہاتھ لوٹا رہے ہیں۔
عرضداشت میں ایڈوکیٹ نازیہ الہی خان نے کہا ہے ریزرو بینک آف انڈیا کے نوٹیفیکیشن اور خود مرکزی حکومت کے گزٹ نوٹیفیکیشن میں ۵۰۰ روپے اور۱۰۰۰ روپے کے کرنسی نوٹوں کے بند کیے جانے کے سلسلے میں وضاحت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس سے کالادھن جو نقد رقم کی شکل میں ہے، وہ بے کار ہوجائے گا۔ دوسرا، ملک میں چلنے والے تمام جعلی نوٹوں سے نجات ملے گی اور تیسرا یہ کہ اس سے دہشت گردانہ سرگرمیوں، منشیات اور جعلی نوٹوں کی اسمگلنگ کوختم کیا جاسکے گا۔ لیکن حکومت کے یہ تینوں مقاصد پورے ہوتے نظر نہیں آرہے ہیں۔ انہوں نے اعداد و شمار کے حوالے سے یہ ثابت کیا ہے کہ ۸۰ فیصد کالادھن ملک سے باہر ہے اور جو اندرون ملک ہے وہ بھی کارپوریٹ گھرانوں کے پاس ہے لیکن اس کے لیے نہ تو مودی حکومت اور نہ ہی اس سے قبل کی کسی حکومت نے کوئی اقدام کیا ہے۔
جہاں تک بدعنوانی اور دہشت گردانہ سرگرمیوں کی بات ہے تو اس کا سدباب اداروں کی اصلاح، عوامی بیداری، اور احتیاط کے ساتھ پالیسی کے نفاذ سے ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو حکومت سے اپنی دولت چھپاتے ہیں وہ عام طور پر نقدی کے بجائے املاک، جائیداد، زمین اور سونے چاندی کی شکل میں یا پھر اسے غیرملکی بینکوں میں رکھتے ہیں اور حکومت کے تازہ فیصلے سے ان کا کچھ نہیں بگڑے گا۔
نازیہ الہی نے قومی سروے کے حوالے سے کہا ہے کہ کالا دھن کا صرف تین فیصد ہی نقد رقم کی شکل میں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ موجودہ نوٹ بندی صرف تین فیصد کے لیے ہی ہے اور۹۷ فیصد کالا دھن پر حکومت کی نظرنہیں جارہی ہے۔
محترمہ نازیہ نے کہا ہے کہ حکومت کے اس فیصلے سے کالا دھن رکھنے والوں، جرائم پیشہ افراد، دہشت گردوں کی مالی اعانت کرنے والوں، منشیات اور دیگر دھندہ کرنے والوں کو کوئی مشکل نہیں ہوئی۔ تمام تکلیفیں اور اذیتیں عوام کے حصہ میں آئی ہیں۔ اپنی ہی محنت کی کمائی کے لیے بینک اوراے ٹی ایم کی قطاروں میں کھڑے افراد اپنی جان گنوا رہے ہیں۔ اب تک ۸۰ افراد وزیراعظم نریندر مودی کی ہٹ دھرمی کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔ اس پر طرہ یہ کہ بی جے پی اور آر ایس ایس سے جڑی دوسری تمام تنظیمیں اس معاملے کو دیش بھکتی سے جوڑ رہی ہیں جو عوام کے ساتھ سراسر مذاق اور ان کے زخموں پرنمک چھڑکنے جیسا ہے۔ غریب عوام اپنی بیٹیوں کی شادیاں نہیں کر پا رہے ہیں، کسان اپنی فصل نہیں بو پا رہے ہیں، غلہ پیدا نہیں ہوگا تو ہندوستان بھوکوں مرنا شروع ہوجائے گا۔
ایڈوکیٹ نازیہ الہیٰ خان نے اپنی عرضی میں کہا ہے کہ یہ بی جے پی اور وزیر اعظم نریندر مودی کا بے مغز فیصلہ ہے۔ اس فیصلہ سے ملک کی معیشت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ روزمرہ کی چیزوں کی خریداری مشکل ہوگئی ہے۔ نقد رقم سے خریدی جانے والی اشیاکی دکانوں پر سناٹا پھیلا ہوا ہے۔ یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدور کام کرکے بھی محروم ہیں، انہیں پیسہ نہیں مل رہا ہے۔
انہوں نے الزام لگایا ہے کہ حکومت کا یہ فیصلہ امیر اور دولت مند سرمایہ داروں کی مدد اور غریب عوام کے ساتھ کھلی دشمنی ہے۔ حکومت غریب عوام پر ظلم اور جبر کرکے ان کی محنت کی کمائی انہیں بینکوں میں رکھنے پر مجبور کر رہی ہے اور دوسری طرف ایسے ضابطے اور قانون بنارہی ہے کہ عوام اپنی ہی رقم واپس نہیں لے پائیں گے۔ اس سلسلے میں محترمہ خان نے مثال دے کر بتایا ہے کہ بڑے کاروباریوں اور سرمایہ داروں کے اربوں روپے کے قرضے معاف کیے جارہے ہیں۔ حال ہی میں شراب کے سب سے بڑے کاروباری اور ملک سے فرار سرمایہ دار وجے مالیا کے ۱۲۰۰ کروڑ روپے کے قرضہ کو معاف کردیا گیا۔ نوٹ بندی سے عام آدمی بینکوں میں اپنی رقم رکھنے پر مجبور ہے۔ یہ بینکوں کی مدد کی جارہی ہے تاکہ وہ ان ہی بینکوں سے اربوں روپے کے قرضے لینے والے سرمایہ داروں کے قرضے معاف کیے جاسکیں اور یہ چکر یوں ہی چلتا رہے۔نادہندوں سے ہونے والے نقصان کو عوام پر ظلم کرکے پورا کیا جائے۔ نوٹ بندی عوام دوست نہیں ملک دشمن فیصلہ ہے، اسے واپس لیا جانا چاہیے۔
انہوں نے اپنی عرضداشت میں کہا ہے کہ معیشت میں عوام کی شراکت داری کے لیے منی سسٹم انہیں حوصلہ دیتا ہے اور ان کا اعتماد حاصل کرتا ہے۔ کرنسی نظام کا مقصد یہ ہے کہ عوام کی ان کی رقم کی مالیت کے تحفظ اور اس مالیت کے استحکام کا یقین ہونے کے ساتھ ساتھ انہیں یہ بھی یقین ہونا چاہیے کہ ان کے مالی لین دین کو تحفظ ملے گا لیکن نریندر مودی نے اپنے اس فیصلے سے عوام کا یہ اعتماد بھی تار تار کردیا ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ کالا دھن کے خلاف اشتہار اور بیان بازی کے بجائے ٹھوس کام کیا جانا چاہیے نہ کہ عوام کے خلاف ہی مہم چھیڑ دی جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ بینکوں کی لائن میں کھڑے ہوکر جان گنوانے والے افراد کے ساتھ ساتھ اس فیصلہ سے تباہ ہونے والے عوام کے ہرجانہ کا انتظام کیا جائے۔
اس عرضداشت کی نقل صدر جمہوریہ پرنب مکھرجی کے ساتھ ساتھ نائب صد جمہوریہ حامد انصاری، وزیراعظم نریندر مودی اور مغربی بنگال کے گورنر کیسری ناتھ ترپاٹھی کو بھی دی گئی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *