جب بات خود پر آتی ہے۔۔۔!

ممتاز میر
اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے : اے عقل والو،قصاص کے قانون میں تمہارے لیے زندگی کا سامان ہے۔ یعنی قاتل کو بھی سزائے موت نہ دی گئی تو وہ معاشرے کی موت کا سامان کرے گا۔اسلام سے پہلے تو یہ ہوتا تھا کہ کوئی مرکزی اتھارٹی نہ ہونے کی بنا پر صرف ایک فرد کے قتل کی وجہ سے قبائل کے قبائل آپسی جنگوں میں الجھ جاتے تھے اور ان کی دشمنیاں نسلوں چلتی تھی۔آج گو کہ قانون بھی موجود ہے، قانون نافذ کرنے والوں کا بھی وجود ہے مگر قانون طاقتوروں کے ہاتھوں میں موم کی ناک بنا ہوا ہے۔اس لیے جو ایک بار قتل کرکے بچ جاتا ہے پھر وہ بار بار قتل کرتا ہے۔ اس سے بھی آگے بڑھ کر وہ معاشرے میں بے چینی و بدامنی پیدا کرتا ہے، مگر اس ترقی یافتہ زمانے میں بہت سارے ممالک اور دانشور ایسے ہیں جو سزائے موت کے خلاف ہیں۔ان کی آنکھوں میں سب سے زیادہ اسلامی سزائیں کھٹکتی ہیں مگر قدرت پر بس نہیں چلتا وہ کبھی کبھی اپنا جلوہ دکھاتی ہے تب اڈوانی اورسشما سوراج جیسے مستند سنگھی بھی اسلامی سزاؤں کے چاہنے والوں میں نظر آتے ہیں۔ پچھلے دنوں دوران مطالعہ حضرت مولانا مفتی تقی عثمانی کی ایک کتاب کا ایک واقعہ پڑھنے کو ملا۔ جی چاہتا ہے قارئین سے شیئر کیا جائے۔
yakub
کناڈا کے علاقے برٹش کولمبیا میں ایک مجرم کلفرڈ اولسن کو قتل، زنا بالجبر اور غیر فطری عمل کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔یہ شخص نو عمر لڑکوں اور لڑکیوں کو روزگار دلانے کے بہانے ساتھ لے جاتا ۔پھر نشہ آور اشیاء کھلا کر زبردستی جنسی عمل کرتا اور پھر انہیں قتل کرکے دور دراز مقامات پردفن کر دیتا۔گرفتاری کے بعد اس نے یہ اعتراف کیا کہ اس نے ۱۱؍ نو عمر لرکوں اور لڑکیوں کے ساتھ جنسی عمل کرکے انہیں قتل کیا ہے اور ان کی لاشیں مختلف مقامات پر چھپادی ہیں۔اور قتل بھی اس درندگی کے ساتھ کیا کہ جب ایک بچے کی لاش برآمد ہوئی تو اس کے سر میں لوہے کی میخ ٹھکی ہوئی پائی گئی۔

اسلام پر تنقید کرنے والوں کی جدت کہیے یا کوئی نفسیاتی عارضہ کہ جب مجرم گرفتار ہوا تو پولس نے اس سے مطالبہ کیا کہ وہ گیارہ مقتول بچوں کی نشاندہی کرے تو اس ستم ظریف نے جو مطالبہ کیا وہ بھی مغرب کی فکرکی طرح بے نظیر تھا۔اس نے کہا میں پتہ اس شرط پر بتاؤں گا کہ حکومت مجھے فی لاش دس ہزار ڈالر معاوضہ ادا کرے ۔ حسب توقع اس مطالبے کو شرف قبولیت بھی عطا کیا گیا۔مگر جب پولس نے اس کی خوشامد درآمد کی تو موجودہ دور کے تجارتی اصول کے مطابق ۱۰؍ پر ایک فر ی کردیااور ایک لاکھ ڈالر لے کر ۱۱؍ بچوں کی لاشیں برآمد کروادیں۔ یہ بچے ۱۲؍ سے۱۸؍ سال کی عمر تک کے تھے۔ کناڈا میں بھی برسوں پہلے سزائے موت ختم کر دی گئی تھی اس لیے عدالت مجرم کو زیادہ سے زیادہ جو سزا دے سکی وہ سزائے عمر قید تھی ۔ساتھ ہی عدالت نے یہ سفارش بھی کردی کہ مجرم کو کبھی پیرول پر رہا نہ کیا جاسکے گا ۔اس شرط سے یہ لگتا ہے کہ منصف محترم کو جرم کی سنگینی کا احساس تھا۔ اگر ان کے بس میں ہوتا تو وہ مجرم کو سزائے موت دیتے، مگران کے بس میں اس شرط پر لازمی عمل کروانا بھی نہ تھا۔ اس لیے انہیں بس سفارش کر کے دل مسوس کر رہ جانا پڑا۔ حیرت ہے کہ یہ دانشور اسلامی قوانین کو جامد کہتے ہیں۔ اگر ایسا معاملہ کسی مسلم قاضی کو پیش آیا ہوتا تو کیا وہ مجرم کو قرار واقعی سزا دلائے بغیررہتا ؟مگر مغرب کی مزید ستم ظریفیاں ابھی باقی ہیں۔

ان گیارہ بچوں کے والدین کوجب پتہ چلاکہ جس درندے نے ان کے بچوں کو انتہائی درندگی کے ساتھ موت کے گھاٹ اتارا تھا اسے ایک لاکھ ڈالر معاوضہ ادا کیا گیا ہے تو فطری طور پر ان میں اشتعال کی لہر دوڑ گئی اور انہوں نے اولسن پر ہرجانے کا مقدمہ دائر کردیا۔ اس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ کناڈا کے ٹیکس دہندگان کے جو ایک لاکھ ڈالراس درندے کی جیب میں گئے ہیں وہ اس سے لے کر مرنے والے بچوں کے ورثاء کے حوالے کیے جائیں۔ مگر مغرب کی مہذب اور عقلمند کورٹ نے فیصلہ ان کے خلاف دیا۔ اپیل کورٹ نے بھی مقدمہ خارج کر دیا اور سپریم کورٹ نے اس کی سماعت سے ہی انکار کردیا۔ البتہ جب اولسن نے بہتر رہائشی سہولتوں کے لیے کورٹ میں درخواست دی تو یہ سماعت کے لیے منظور کرلی گئی۔ آخری اطلاعات یہ تھیں کہ متاثرہ لوگوں نے ایک انجمن بنا لی تھی جس کا مطالبہ یہ تھا کہ کناڈا میں سزائے موت کا قانون واپس لایا جائے۔
خدا بیزار معاشروں کا حال یہ ہے کہ کہیں اجتماعی ضمیر کے اطمینان کی خاطر بھی مجرموں کوسزا دینے کی بجائے سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں اور کہیں ثبوت و گواہ کی عدم موجودگی میں بھی اجتماعی ضمیر کی تسکین کے لیے رات کے اندھیروں میں’’ملزموں‘‘ کو پھانسی پر چڑھا دیا جاتا ہے۔سونے پہ سہاگہ یہ ہے کہ ایسے ’’نکٹے‘‘ لوگ اسلامی سزاؤں پر انگلیاں اٹھاتے ہیں۔

آخر میں ہم خود اپنا ایک تجربہ بیان کرتے ہیں۔ یہ ۸۱۔۱۹۸۰ ء کی بات ہے۔ ہم بمبئی کی ایک بڑی ٹیکسٹائل مل میں کام کرتے تھے جہاں ہمارے زیادہ تر ساتھی بنگالی تھے۔ بنگالی اپنے آپ کوبڑا دانشور سمجھتے ہیں۔ یہ اکثرہم سے اسلام اور اسلامی سزاؤں پر بحث کرتے۔ ان میں ایک تھے مسٹر پال جو ہم سے دیگر بنگالیوں کے مقابلے زیادہ قریب تھے مگر انہیں بھی اسلامی سزاؤں سے شکایت تھی۔ ایک روز ہم ڈیوٹی پر ذرا فرصت میں تھے ۔مسٹر پال ہمیں بنگال کی قبائلی زندگی کی باتیں بتا رہے تھے۔ باتوں باتوں میں انہوں نے بتایا کہ ایک بار ایک قبیلے نے دوسرے قبیلے پر حملہ کر دیا اور نہ صرف مردوں کو بلکہ بچوں بوڑھوں اور عورتوں کو بھی موت کے گھاٹ اتار دیا۔ایک ایک کو چن چن کر قتل کر دیا۔ یہ سب بتاتے بتاتے مسٹر پال اشتعال میں آگئے اور کہنے لگے کہ میرا بس چلے تو میں ظالم قبیلے کے ایک ایک فرد کو نہ صرف قتل کردوں بلکہ ان کی لاشوں کا مثلہ کردوں۔ ہم نے ان سے پوچھا کہ کیوں؟ کیا اس وقت وہاں آپ کے بھائی، بہن یا دیگر قریبی رشتے دار تھے؟ جواب دیا ،نہیں۔ ہم نے پھر پوچھا کیا دوست و احباب تھے۔ پھر جواب ملا، نہیں، آخر میں انہوں نے بتایا کہ ان کا نسلی تعلق اسی مظلوم قبیلے سے ہے۔ ہم نے کہا کہ نہ آپ کا کوئی دوست اس واقعے میں قتل ہوا ہے اور نہ کوئی قریبی عزیز۔ صرف نسلی تعلق کی بنا پر آپ قاتلوں کو قتل ہی نہیں کرنا چاہتے بلکہ ان کی لاشوں کا مثلہ کرنا چاہتے ہیں پھر وہ جس کے قریبی عزیز کو کوئی قتل کردے اور وہ حکومت کے پاس اس کے قتل کا دعویٰ کرے تو بتائیے مظلوم کو تسکین کس طرح حاصل ہوگی؟ اس دن کے بعد ہمارے ساتھیوں میں سے کسی نے ہم سے اسلامی سزاؤں پر بحث نہیں کی۔
رحمدلی بڑی اچھی صفت ہے مگر صحیح وقت اور صحیح جگہ پر ہی مفید ثابت ہوتی ہے۔
07697376137

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *