تنوع اوراختلاف ہندوستان کی خوبصورتی ہے


جے این یو کے آزاد اسکوسئر پر کانگریس ایم پی ششی تھرور کا خطاب
نئی دہلی، ۲۰؍ مارچ (نامہ نگار): ہندوستان کسی ایک مخصوص فرقے کا ملک نہیں ہے، اس کی قومیت صرف ہندو، ہندی، ہندوستان سے تشکیل نہیں پاتی بلکہ اس میں اور بھی بہت کچھ ہے۔ یہاں مختلف مذاہب و ملت کے لوگ رہتے ہیں،ان کی تہذیبیں اور ثقافتیں الگ الگ ہیں، لیکن سب مل کر ایک ملک اور ایک قوم کی تشکیل کرتے ہیں، اسی کا نام ہندوستان ہے اور ہم اس ہندوستان پر فخر کرتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار کانگریس لیڈر اور رکن پارلمینٹ ششی تھرور نے پیر کی شب کو جے این یو کے آزادی اسکوائر پر خطات کرتے ہوئے کیا۔

جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں کانگریس پارٹی کی طلبہ تنظیم این ایس یو آئی کی طرف سے ’’جے این یو اور وطن پرستی‘‘ پر ایک لیکچر کا انعقاد کیا جس میں انہوں نے مہمان مقرر کے طورپر شرکت کی۔یہاں ان کا استقبال جے این یو طلبہ یونین کے صدر کنہیاکمار نے کیا ۔
طلبہ کے ایک جم غفیر سے مخاطب ہوتے ہوئے ششی تھرور نے کہا کہ قدیم زمانے سے ہمارے ملک کے رگ رگ میں اختلاف اور تنوع کا خون موجود ہے،اس ملک کے اندر دنیا کے چار بڑے مذاہب نے جنم لیا ہے،جبکہ دیگر بڑے مذاہب کے ماننے والے کو پناہ دی ہے اورانہیں اپنایاہے،یہودیت کے ماننے والوں نے یہاں پناہ لی،جبکہ عیسائی مذہب یوروپ پہنچنے سے پہلے اس ملک میں آیا،دوسری طرف اسلام اور اس کے ماننے والوں نے شروع زمانہ ہی سے کیرل کی سرزمین پر قدم رکھا،یہاں تک کہ تاریخ میں یہ بھی محفوظ ہے کہ یہاں کا راجا محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنے کے لیے روانہ بھی ہوا۔اسی طرح گجرات کی سرزمین نے پارسیوں کو آٹھویں صدی عیسوی میں پناہ دی۔

انہوں نے جے این یو اور موجودہ حالات پرگفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دراصل ہمارے ملک کی خوبصورتی اس کے تنوع اور اختلاف میں ہے،یہاں ۲۳ زبانوں کو دستور ہند نے مانا ہے، جبکہ مختلف نظریات کی درجنوں سیاسی پارٹیاں سرگرم ہیں۔ غداری کی مسئلہ پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہ غداری جیسے کالے قانون میں ترمیم لانے کی سخت ضرورت ہے۔یہ انگریزوں کا دیاہوا قانون ہے،جس کی مار ہمارے اسلاف واکابرین اور آزادی ہند کے مجاہدین جھیل چکے ہیں۔ہم اسے اپنے ہی ملک میں جھیلنا نہیں چاہتے ہیں۔ششی تھرور نے مرکز کی موجودہ حکومت پر نشانہ سادھتے ہوئے کہا کہ ایک خاص نظریے کے فروغ کے لیے تعلیمی مراکز پر حملہ کرنا نہایت ہی غلط ہے۔

انہوں نے ’’بھارت ماتا کی جے ‘‘والے تنازع پر بولتے ہوئے کہا کہ دستور ہند کے اعتبار سے یہ نعرہ لگانا کسی کے لیے لازم نہیں ہے،اور خاص طور سے اگرکوئی یہ سمجھتا ہے کہ اس سے اس کے مذہبی جذبات مجروح ہورہے ہیں تو اس کو خود آئین نے اپنے مذہبی تشخص کے تحفظ کا حق دیا ہے۔جے این یوتنازع کے تعلق سے انہوں نے کہا کہ ہمارا ملک اتنا کمزور نہیں ہے کہ دوچار چندلوگوں کے غلط نعرے سے ٹوٹ جائے گا۔ اس عظیم اور قدآور یونیورسٹی کو کسی کے کہنے سے بند نہیں کیا جاسکتاہے۔انہوں نے کہا کہ جمہوریت کی اہم شناخت یہ ہے کہ کسی ایک خیال اور فکر کو اپنانے کے ساتھ ہی دوسروں کو برداشت کرنا اور جگہ دینا،اسی میں ہمارے ملک کے بھلائی ہے۔
20160320_214138

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *