نہیں رہے ایم کروناندھی، آخری رسم آج

نئی دہلی: تمل ناڈو کی سیاست میں گزشتہ 60 سالوں سے بھی زیادہ عرصے سے اہم کردار نبھانے والے ایم کروناندھی کا منگل کو 94 سال کی عمر میں چنئی کے کاویری اسپتال میں شام 6 بج کر 10 منٹ پر انتقال ہو گیا. 3 جون 1924 کو پیدا ہوئے موتوویل کروناندھی 14 سال کی چھوٹی سی عمر ہی سے سیاست میں سرگرم ہو گئے تھے. وہ تمل ناڈو میں ہندی زبان اور اعلی ذات کے خلاف کھڑی ہوئی دراوڑ تحریک کے بڑے لیڈر تھے. انہوں نے اس تحریک سے نوجوانوں کو جوڑنے کے لیے ایک تنظیم بنائی تھی اور بعد میں ایک اخبار بھی نکالنے لگے. اپنے مداحوں کے درمیان كلائنار یعنی فن کے ماہر کے طور پر مشہور ایم کروناندھی کی موت کو تمل ناڈو کی سیاست میں ایک دور کا خاتمہ مانا جا رہا ہے. انہوں نے ڈی ایم کے یعنی دراوڑ مونیتر كجگم کے بانی كانجيورم نٹراجن انادورئی کی قیادت میں 1950 کی دہائی میں پارٹی کو مضبوط کرنے کی کا کامیاب کوشش کی. اس کے لیے وہ اس وقت کے کانگریس لیڈر اور مشہور فلم اداکار ایم جی رام چندرن کو بھی پارٹی میں لانے میں کامیاب رہے. ایم کروناندھی نے 1969 میں سی این انادورئی کی موت کے بعد پارٹی کی باگ ڈور سنبھالی اور آخر تک اس کے صدر رہے.

ایم کروناندھی پہلی بار 1969 میں تمل ناڈو کے وزیر اعلی بنے. اس کے بعد انہوں نے چار بار اس عہدے کو سنبھالا. آخری بار وہ 2006 میں وزیر اعلی بنے اور 2011 تک حکومت چلائی.

گزشتہ 10 سالوں سے پارٹی کی ذمہ داری سنبھالنے میں ان کے بیٹے ایم کے اسٹالن نے ان کی مدد کی. ایم کروناندھی 11 دنوں سے بہت بیمار تھے اور کاویری ہسپتال میں ان کا علاج چل رہا تھا. ایم کروناندھی کے بارے میں مشہور صحافی جے آر شرن بتاتے ہیں کہ وہ ملحد تھے اور مذہب کی بنیاد پر کبھی کسی سے امتیازی سلوک نہیں کیا. سماج اور سیاست کے بارے میں ان کی سوچ بہت صاف تھی. وہ پسماندہ طبقات اور كمزوروں کو ان کا حق دلانے کے لیے زندگی بھر جد وجہد کرتے رہے. جے آر شرن کہتے ہیں کہ ملک میں پسماندہ طبقات کی اور پسماندہ طبقات کے لیے سیاست کرنے کی بنیاد کو مضبوط کرنے میں ایم کروناندھی کا بڑا نام ہے.

Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *