سر بلندی چاہتے ہیں تو اسلام کو اپنے گفتار و کردار میں اتارئے : حضرت امیر شریعت

سر بلندی چاہتے ہیں تو اسلام کو اپنے گفتار و کردار میں اتارئے : حضرت امیر شریعت

عیدگاہ میدان سہرسہ بستی میں منعقد عظیم الشان اجلاس عام میں حضرت امیر شریعت اور علمائے کرام کا بصیرت افروز خطاب
سہرسہ(جعفرامام قاسمی)آپ سب لوگ امت کے ذمہ دار افراد ہیں ، آپ سب کو اپنی اور ملت کی سر بلندی اور سرفرازی کے لیے کام کرنا ہے، اور اس راہ میں آنے والی مصیبتوں سے گھبرانا نہیں ہے بلکہ مردانہ وار اس کا مقابلہ کرنا ہے ، لیکن آج ہمارا یہ حال ہے کہ جب کوئی پریشانی آتی ہے تو کہتے ہیں کہ ملت کا کوئی سربراہ نہیں ہے ، سچی بات یہ ہے کہ ملت کے لیے سربراہ کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ملت میں ماننے اور مان کر چلنے کا مسئلہ ہے ، آج ماننے کی بڑی کمی ہے، ہر جگہ آپس کا اختلاف اور گروہ بندی ہے ، اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر آدمی کو اپنی رائے پسند ہے اور وہ اپنی رائے کو اوپر رکھنا چاہتا ہے ، دوسرے کی رائے کو سننے کے لیے تیارنہیں ہے ، ہمارے اندر جلد بازی کی بیماری ہے اس کی وجہ سے آپس میں اختلاف ہو تا ہے او ر دوریاں بڑھتی ہیں ، اس لیے اپنے اندر ماننے کا مزاج پیدا کیجئے ، ایک جٹ ہو کر اور مل جل کر مسائل کو حل کرنے کی محنت کریں گے تبھی مسائل حل ہوں گے ۔

 

 

یہ پیغام ا میر شریعت مفکر اسلا م حضرت مولانا محمد ولی رحمانی صاحب نے سہرسہ بستی کے عید گاہ میدان میں منعقد عظیم الشان اجلاس عام میں ہزاروں فرزندان توحید کے سامنے دیا ۔خیال رہے کہ سہرسہ بستی میں نقباء، نائبین نقباء امارت شرعیہ ، علماء و ذمہ داران مدارس ، ارکان شوریٰ و عاملہ امارت شرعیہ ، ارباب حل و عقد، ائمہ کرام و دانشوران کے خصوصی دو روزہ تربیتی اجلاس کا چوتھا اور آخری سیشن حضرت امیر شریعت مد ظلہ کی صدارت میں اجلاس عام کی صورت میں منعقد ہوا ۔اپنے صدارتی خطاب میں حضرت امیر شریعت نے اجلاس کی غرض و غایت بیا ن کرتے ہوئے فرمایا کہ اس طرح کے اجلاس کا مقصد یہ ہے کہ آپ کو بیدار اور چوکنا کیا جائے اور تسبیح کے دانوں کی طر ح آپ کو ایک دھاگے میں پرویا جائے ۔آپ نے ضلع سہرسہ کے سبھی گیارہ بلاکوں کے نو منتخب صدر/نائب صدر، سکریٹری/ نائب سکریٹری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جن لوگوں کو ذمہ داریاں دی گئی ہیں وہ کام کرنے والے لوگ ہیں ، امید ہے کہ وہ امیر شریعت کی نمائندگی کا حق ادا کریں گے و اپنے کردار و عمل سے اسلام کی اور امارت شرعیہ کی نمائندگی کریں گے ، او ر امارت شرعیہ کے پیغام پر خود بھی عمل پیرا ہوں گے اور اس کو مضبوطی کے ساتھ زمین پر پھیلائیں گے ۔

 

 

آپ نے اپنے خطاب میں لوگوں کو حرام کی کمائی سے بچنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ عبادتوں کی کوتاہیوں کو معاف کر دیتے ہیں لیکن مالی خرد برد اور روپئے پیسے کی گڑبڑی کو معاف نہیں کرتے ، آپ نے ملکی حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں جو معاملات اور مسائل ہیں وہ تعداد میں کم ہونے کی بنا پر نہیں ہیں ، جب اس ملک میں مسلمان سرفراز و سر بلند تھے اور اس ملک کے اقتدار کی باگ ڈور ان کے ہاتھوں میں تھی اس وقت مسلمانوں کی تعداد آج سے بہت ہی کم تھی ، لیکن ا س وقت ان کا کردار اعلیٰ تھا اور ایمان پختہ تھا، آج ہمارا کردار اور ایمان کمزور ہو گیا ہے اس لیے ہم لوگ کمزور ہو گئے اور مسائل و مشکلات میں گھر گئے ہیں ۔آپ نے کہا کہ مسلمانوں کا امتیاز یہ نہیں کہ گنتی میں زیادہ ہو بلکہ ان کا امتیاز یہ ہے کہ ان کا اکردار اعلیٰ اور اخلاق سب سے بہتر ہوں ۔آپ نے اچھے اخلاق ، حسن سلوک اور اتحاد و اتفاق کی دعوت بھی اپنے خطاب کے ذریعہ دی ، آپ نے کہا کہ سماج کے کمزور اور مضبوط، پڑھے لکھے اور ان پڑھ ہر طبقہ کو یکجٹ ہو کر متحد ہونا ہو گا تبھی ملت سربلند ہو گی ،یہی اسلام کا پیغام ہے اور یہی سبق امارت شرعیہ کا ہے ، آپ نے نظام زکوٰۃ کو مضبوط کرنے اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑ نے ،اللہ کے راستے میں اپنا مال اور توانائی خرچ کرنے ، اللہ سے اپنے رشتہ کو استوار کرنے اور اپنی سوچ و فکر میں مثبت تبدیلی لانے کی تلقین بھی کی ۔

 

اس سے قبل جناب مفتی محمد ثنائ الہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ نے اپنی تقریر میں علم کی اہمیت پر روشنی ڈالی ، آپ نے کہا کہ ضلالت و گمراہی کے طوفان کا مقابلہ علم کے ذریعہ ہی کیا جا سکتا ہے ، اسی لیے اللہ اور اس کے رسول نے علم اور اصحاب علم کی بڑی فضیلت بتائی ہے ، حتی کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے علم کے حصول کو فرض قرار دیا ، آپ نے حکومت کے رائٹ ٹو ایجوکیشن ایکٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے آج تعلیم کوہر فردکا حق قرار دیا ہے، جب کہ اسلام نے آج سے ساڑھے چودہ سو سال پہلے رائٹ ٹو ایجوکیشن سے بہت زیادہ بڑی بات کہی اور علم کے حصول کوہر فرد کے لیے فر ض قرار دیا ، فرض حق سے بہت بڑی چیز ہے ، حق کو چھوڑا جا سکتا ہے اس پر کوئی مواخذہ نہیں ہو گا ، جبکہ فرض کو چھوڑنا کوتاہی اور قابل سزا جرم قرار دیا جائے گااو ر ا س پر مواخذہ ہو گا، اس سے پتہ چلتا ہے کہ اسلام میں علم کا کیا مقام ہے۔

مولانا مفتی نذر توحید مظاہری صاحب قاضی شریعت چترا نے اپنے خطاب میںاللہ اور اس کے رسول کی اطاعت اور امیر کی سمع و طاعت کی اہمیت پر روشنی ڈالی آپ نے پیدائش سے لے کر موت تک شریعت پر عمل کرنے ،گناہ کبیرہ سے بچنے اور والدین سے حسن سلوک کرنے کی تلقین کی۔ مولانا مفتی محمد سہراب ندوی صاحب نائب ناظم امار ت شرعیہ نے اپنی تقریر میں ایمان کے بنیادی تقاضوں کو تفصیل کے ساتھ مثالوں کے ذریعہ واضح کیا ، آپ نے اپنی اور دوسروں کے جان ، مال ، عزت و آبرو کی حفاظت ،سماجی اتحاد، انصاف ، سماج سے برائی کو مٹانے، سماج میں تعلیم کو عام کرنے ،سماج کی خدمت کر نے ، مصیبت زدوں اور ضرورت مندوں کے کام آ نے کی تلقین کی۔آپ نے سماج میں پھیل رہی نفرت ، ظلم، تلک و جہیز، لڑکیوں اور عورتوں کی بے حرمتی، نشہ اور جوا جیسی بڑی بڑی خرابیوں کی مذمت کی ۔آپ نے کہا کہ امارت شرعیہ کا مقصد ہے کہ ان سب برائیوں سے پاک سماج بنایا جائے ، ایک ایسا سماج بنایا جائے جہاں کوئی بھید بھاو نہ ہو ، سب انسان برابر ہوں،کسی پر ظلم نہ ہو، ہر ایک کے ساتھ انصاف کا معاملہ کیا جائے ،جہاں سود، جوا ، شراب اور تلک و جہیز کی لعنت نہ ہو، جہاں امن ، سکون ،شانتی ، محبت، پیار اور انصاف کا بول بالا ہو۔

 

مولانا شمشاد رحمانی استاذ حدیث دار العلوم دیوبند نے کہا کہ آج ہم اور آپ جن حالات سے گذر رہے ہیں ان کی وجہ سے بہت سے لوگ کش مکش میں مبتلا ہیں ، بہت سے لوگ مایوس ہو رہے ہیں ، ان کا یقین متزلزل ہو رہا ہے ، اللہ کی ذات پر جو بھروسہ تھا اس میں کمی آرہی ہے ، ا س کی وجہ یہ ہے کہ ہم اللہ کے کلام سے دور ہ ہو گئے ، اس لیے مایوسی سے نکلیے اور اللہ کے کلام سے اپنا رشتہ جوڑیے ، آپ نے تاریخ اسلام کے مختلف واقعات بیان کر کے اولوالعزمی اختیار کرنے کی دعوت دی ، آپ نے کہا کہ اللہ والوں سے بھی اپنا رشتہ بنائیے ، اللہ والوں کی نظر جس پر پڑ جاتی ہے ، اس کی زندگی سنور جاتی ہے۔آپ نے کہا کہ اپنی زندگی میں اسلام کو اتاریں تبھی اسلام زندہ رہے گا، اسلام کو اپنے قول و عمل ، گفتار و کردار ، اور اقوال و افعال میں اتاریے۔مولانا قمر انیس قاسمی صاحب معاون ناظم امارت شرعیہ نے اپنی تقریر میں امارت شرعیہ کی خدمات کا تفصیلی تعارف کرایا ، آپ نے اللہ کے ڈر ، نماز کے قیام ، زکواۃ کی ادائیگی اور امیر کی فرماں برداری کی تلقین حدیث کے حوالہ سے کی ، آپ نے کہا کہ قوموں کا وزن تعدا د کی بنیاد پر نہیں بلکہ استعداد کی بنیاد پر ہو تا ہے ،اس لیے اپنے اندر استعداد پید اکرےں۔ مولانا مفتی احمد حسین قاسمی معاون ناظم امارت شرعیہ نے اپنی تقریر میں فرمایا کہ امارت شرعیہ کی بنیاد قرآن و حدیث اور منہاج نبوت پر ہے، اس کی بنیاد ریاست مدینہ پر ہے،آپ نے امارت شرعیہ کے اغراض و مقاصد اور تنظیم امات شرعیہ کے طریقہ کار پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ امارت شرعیہ کی تنظیم کا تقاضہ یہ ہے کہ کوئی فرد ملت اس کے دائرہ سے باہر نہ رہے ، ہر شخص کا اس سے فکری، روحانی اور شرعی تعلق قائم ہو ۔ آپ نے امارت شرعیہ کی موجودہ تنظیمی کارکردگی کو تفصیل سے بیان کیا اور کہا کہ امارت شرعیہ کی تنظیم کو تینوں ریاستوں کے جملہ اضلاع اور بلاک کے ایک ایک فرد سے جوڑنے کی یہ مہم بہت ہی اہم ہے اور یہ تحریک موجودہ حالات میں امت کے داخلی اور خارجی مسائل کو حل کرنے میں بہت ہی ممد اور معاون ثابت ہو گی۔ اجلاس کا آغاز قاری عبد القدوس صاحب کی تلاوت کلام پاک سے ہوا ، قاری عیسیٰ صاحب اور مولانا منظر قاسمی صاحب نے نعت شریف کا نذرانہ بارگاہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں پیش کیا ،مولانا یوسف صاحب قاسمی قاضی شریعت دار القضائ مصطفی نگر سہرسہ اور مولانا اظہار الحق قاسمی قاضی شریعت للجہ نے کامیاب اجلاس کے انعقاد پر تمام لوگوں کا شکریہ ادا کیا، اور حضرت امیر شریعت کے تئیں اپنے جذبۂ خلوص کا اظہار کیا۔ آخر میں حضرت امیر شریعت مد ظلہ کی دعا پراجلا س عام اختتام کو پہونچا۔اجلاس کی نظامت کے فرائض مولانامفتی محمد سہراب ندوی نے انجام دیا ۔اس اجلاس عام میں ضلع سہرسہ کے عوام و خواص نے ہزاروں کی تعداد میں شرکت کی ۔اس اجلاس کو کامیاب بنانے میں اجلاس کو کامیاب بنانے میں استقبالیہ کمیٹی کے صد ر جناب ڈاکٹر ابو الکلام صاحب،نائب صدر جناب پروفیسر محمد طاہر صاحب، خازن جناب محبوب عالم صاحب عرف جیبو ، دفتر استقبالیہ کے انچارج مولانا عبد الصمد رحمانی اور مولانا مزمل حسین قاسمی، جناب ڈاکٹر محمد طارق صاحب ، محمد آزاد صاحب،مولانا سہراب ندوی، آفتاب عالم صاحب ، اعظم صاحب، مظفر عالم صاحب، مولانا شعیب عالم رحمانی ،جناب فیصل عبد اللہ صاحب،فیرو ز عالم ، مولانا محبوب رحمانی ، مولانا عبد القادر قاسمی،مولانانوشاد عالم قاسمی ، مولانا عبد الحق صاحب ، مولانا یوسف قاسمی معاون قاضی شریعت دار القضائ سہرسہ ، مولانا اظہار الحق قاسمی قاضی شریعت للجہ ، مولانا ممتاز عالم رحمانی کے علاوہ شہر سہرسہ کے تمام بلاک کے استقبالیہ کے اراکین ، تمام رضاکاروں اور مخلص نوجوانوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ۔ اجلاس عام کے ساتھ ضلع مدھے پورہ، سوپول اور سہرسہ کا چھ روزہ خصوصی تربیتی اجلاس بہت ہی کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوا ۔

🌻وجیہ احمد تصور 🌻

Facebook Comments
Spread the love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply