ناراض مت ہونا، تصویرنہیں چھپی

قلم گوید
اسفر فریدی

بابری مسجد کی شہادت کو چوبیس برس بیت گئے۔ اس کی بازیابی کے لیے جدوجہد کرنے سے لے کر شہادت کے بعد ہونے والی سبھی تقریبات میں مہمان خصوصی رہنے والے افراد ان دنوں کم دکھائی دیتے ہیں۔ ان کے ناپید ہونے کی خبر ۶/ دسمبر کو بڑی تیزی سے پھیلی۔ لیکن کئی جگہوں سے چند ایک لوگوں نے ہاتھ اٹھا اٹھا کر اپنی موجودگی کا اعلان کیا۔ وہ کہہ رہے تھے کہ ناپید نہیں ہوئے ہیں۔ ہر برس کی طرح اس بار بھی اپنے حامیوں اور حواریوں کے ساتھ سڑک پر اترے ہیں۔ فرق اتنا ہے کہ اس بار اپنا بوریا بسترا الگ کرلیا ہے۔ اصل میں پہلے دوسروں کو پتہ ہی نہیں چلتا تھا کہ اسٹیج کس نے سجایا، گاڑی کا انتظام کس کے ذمہ تھا۔ نعرے بازی کس کے لوگ کررہے تھے؟ اس پریشانی سے پوری قوم پریشان تھی۔ ظاہر ہے، قوم کی پریشانی سے پریشان رہنے والے ملی قائدین کب تک اس کا دکھ درد برداشت کرتے رہتے۔ اس لیے سب نے متفقہ طور سے اور قوم کے حق میں اپنے اپنے نعرے بازوں کی الگ الگ ٹیم بنانے کا فیصلہ کیا۔ وقت ضرورت اس کی نمائش بھی کی جاتی رہی۔ قوم کی خدمت کرتے کرتے جب قائدین کمزور پڑنے لگتے تو پھر کسی فلسطین یا روہنگیا کے نام پر ایک جگہ جمع ہوجاتے۔ بابری مسجد نے بھی ان کو ایک جگہ پر چائے پانی کرنے کا بہت بار موقع دیا۔ لیکن ہر بار ایک ہی کام کے لیے ایک ہی جگہ جمع ہونے سے طبعیت تھوڑی ویسی ہونے لگی،اس لیے گذشتہ چند ایک برس سے ملت کے بہی خواہوں نے وقت کی اہمیت اور حالات کی نزاکت کے پیش نظر۶/ دسمبر کو گھروں میں بند رہنا یا پھر دوستوں اور مہربانوں ہی سے ملنے میں گذارنے کا فیصلہ کیا۔ ملت کے بڑے قائدین کے اس فیصلے پر کم وبیش پوری قوم نے لبیک کہا اور دیکھتے ہی دیکھتے سب اپنے اپنے گھروں میں یا روزمرہ کے کاموں مصروف رہنے لگے۔ اس صورت حال نے چند ایک لوگوں کو پریشان کردیا۔ دراصل انہیں ۶/ دسمبر کے موقع پر میڈیا میں اپنی تصویریں دیکھنے کی عادت ہوگئی تھی۔ یہ عادت چند ایک برس کے بعد لت میں بدل گئی تھی، اس لیے معالجوں کی کوشش کے باوجود مرض میں کمی نہیں آئی۔ اس لیے انہوں ایک دوسرا راستہ نکالا۔ پارٹی اور جھنڈا کے مالک تو پہلے ہی سے تھے، بس ایک دن کے لیے کچھ لوگوں کو اپنا حامی بنانے کی ضرورت تھی۔ ملت کے نام پر مر مٹنے والے ایسے جانباز افراد ہر شہر اور قصبے میں کیا ہر گلی محلے میں مل جاتے ہیں۔ اس کی وجہ سے قائدین حضرات کا کام آسان ہوگیا۔ اب وہ گھر بیٹھے ہی احتجاج اور مظاہرہ کرسکتے تھے۔ اس بار کے ۶/ دسمبر کو کئی جگہوں پر اس کا تجربہ بھی کیا گیا۔ پارٹی کارکنوں کو دھرنا مظاہرہ کے لیے بھیجا گیا۔ پولیس نے مختلف وجوہ سے انہیں ایسا کرنے سے منع کیا۔دھرنا مظاہرہ کے لیے زبردستی بھیجے گئے لوگوں نے زبردستی دھرنا مظاہرہ کی کوشش کی۔ اس کے جواب میں پولیس نے انہیں تھانے چلنے کو کہا۔ تھانے میں مظاہرین کو دوتین گھنٹے رکھا گیا۔ اتنی دیر میں قائدین حضرات کو حکومت کی اس سازش کے خلاف اپنا اخباری بیان جاری کرنے کا موقع مل گیا۔ ای میل سے ایک آسانی یہ بھی ہوئی کہ وہ اخباری بیان کے ساتھ ہی اپنی تصویر بھی ارسال کردیتے ہیں۔ ان بیانوں میں حکومت کو خبردار کرنے کی بات بہت زور سے کہی جاتی ہے۔اس کا اثر بھی کبھی کبھی دیکھنے کو مل جاتا ہے۔ ہوتا یہ ہے کہ جو قائد جتنی زور سے حکومت کو دھمکی دیتا ہے، اس کو اتنی ہی جلدی برسراقتدار پارٹی کے کسی اہم لیڈر کو میمورنڈم دینے اور اس کے ساتھ تصویر کھنچوانے کا موقع مل جاتاہے۔ اس طرح راہ ورسم بڑھتی ہے اور وہ چند ماہ وسال کی محنت کے بعد ملت کا ایک بڑا سیاسی لیڈر بنادیا جاتا ہے۔ گذشتہ چند برسوں سے قائدین بناکر ملت کی خدمت میں پیش کیے جانے کی رفتار تھوڑی دھیمی پڑی ہے۔ شاید اسی لیے متوقع امیدواروں نے بھی محنت کرنا ترک کردیا ہے۔ لیکن بابری مسجد کو ملت کے قائدین کا یہ انداز پسند نہیں آیا۔ اس کا احساس کچھ لیڈروں کو بھی ہوا۔ ان میں سے ہی ایک نے بابری مسجد کو ایک خط تحریر کیا۔
میری پیاری بابری مسجد !
تم سلامت رہو۔ دیکھو، ناراض مت ہونا۔ تمہارے لیے میں برسوں لڑتا رہا ہوں۔ تم کو معلوم ہے کہ باپ دادا کی بہت سی زمین بھی تمہاری خدمت کے دوران پیش آنے والی اپنی ضرورتوں کے لیے مجھے فروخت کرنی پڑی۔ میں تمہارا بہت ہی بڑا فین رہا ہوں۔ آج بھی ہوں۔ جب تم کو مسجد سے ڈھانچوں میں تبدیل کیا گیا، اس وقت میں نہیں تھا۔ میں اس وقت بھی نہیں تھا، جب تمہارے اوپر اپنا اپنا حق جمانے کے لیے نہ جانے کتنے فریق عدالت میں پہنچ گئے۔ سب کے اپنے اپنے دعوے تھے۔ عدالت کا اپنا رتبہ ہوتا ہے۔ اس نے اپنی سہولت کے مطابق سب کی فریادوں کو سنا، دعویٰ کرنے والوں کو باربار حاضر ہونے کا حکم دیا۔ یہ سب ہورہا تھا کہ اسی زمانے میں میری آنکھیں کھلیں۔ یہ بھی میں اندازے ہی سے بتارہا ہوں۔ البتہ اس وقت کا پورا ہوش ہے، جب لوگ جلسوں اور جلوسوں میں تمہارے نام کا نعرہ لگاتے تھے۔ مجھے بھی یہ سب اچھا لگتا تھا۔ خاص طور سے ایسے جلسوں میں شعلہ بیانی کرنے والے افراد کا تو میں گرویدہ ہوگیا تھا۔ مجھے لگتا تھااگر قوم کے لیے کچھ کرنا ہے، تو ان کے ہی نقش قدم پر چلنا ہوگا۔ میں ان کے نقش قدم پر چلنے لگا۔ شروع شروع میں گاؤں محلوں ہی میں تقریر سے کام چلایا، لیکن دیکھتے ہی دیکھتے ملت مجھے سرآنکھوں پر بٹھانے لگی۔ میں اس کا احترام کرنے لگا۔ مجھے ادھر ادھر کرنا آتا بھی نہیں تھا۔ و ہ تو بعد میں پتہ چلا کہ ملت کا لیڈر بننے کے لیے کچھ الگ سے کرنا پڑتا ہے۔ اس کی عقل تو مجھ میں تھی نہیں۔ اس لیے بہت جلدی کنارے لگتا چلا گیا۔ گوشہ نشینی تو تب کرتا نہ جب کوئی گوشہ ہوتا۔ میرے پاس تو کچھ تھا ہی نہیں۔ حد تو یہ ہے کہ اتنے برسوں تک خدمت کرنے کے باوجود میری ایک بھی جیب میں ملی نام کا کوئی کارڈ نہیں تھا۔ تم جانتی ہو۔ ویسے بھی شہید کو بہت کچھ معلوم ہوتا ہے۔ شہید زندہ ہوتے ہیں۔ تم بھی زندہ ہو۔ تم سے کیا چھپانا۔ تم جانتی ہو کہ میں نے تم کو کبھی نہیں دیکھا۔ تمہاری صورت والی دوسری مسجدوں سے بھی اکثر دور ہی رہا۔ انہیں دیکھا تو ضرور، لیکن اندر جانے کا کم ہی موقع ملا، وہ بھی ہفتے میں ایک بار یا پھر پورے سال میں دوچارمرتبہ۔اس سب کے باوجود، میں یہ کہوں گا کہ تمہارے لیے میرے دل میں عزت ہے۔ میرے خلوص میں کمی نہیں ہے۔ میں دوسروں کی بات نہیں کرتا۔ اب وہ زمانہ بھی نہیں رہا کہ دوسروں کی بات کی جائے۔ اب تو گھر میں چار افراد پر مشتمل خاندان کے افراد بھی ایک دوسرے کی بات نہیں کرتے۔ ہاں، اجازت دو تو تمہاری برسی پر ایک ساتھ سڑکوں اور چوک چوراہوں پر نکلنے والے ایک گروہ کی بات کرسکتا ہوں۔ ان کی تعداد بہت زیادہ نہیں ہوتی، لیکن انہیں میں نے زور زور سے کہتے ہوئے سنا ہے:’آواز دو، ہم ایک ہیں‘۔ ’لڑیں گے، جیتیں گے‘۔ وہ بار بار متحد ہونے کی بھی بات کرتے ہیں۔ عام دنوں میں وہ مختلف گروہوں میں بٹے رہتے ہیں، لیکن تمہاری برسی کے دن سب ایک ساتھ ہوجاتے ہیں۔ ان کا جھنڈا لال رنگ کا ہوتا ہے۔ سنا ہے، ان کا کوئی دھرم اور مذہب بھی نہیں ہوتا، لیکن وہ ’بابری مسجد کی شہادت‘ جیسے الفاظ والے بینروں کو لے کر گھومتے رہتے ہیں۔ ان کو کس نام سے یاد کیا جائے، فی الحال یہ سمجھ میں نہیں آتا۔ ابھی تو بس اتنا ہی کہہ سکتا ہوں کہ تم ناراض مت ہونا، اس بار میری تصویر نہیں چھپی!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *