میں اُڑتی پھروں نیلے گگن میں

anis-in-rajoriمحمد انیس الرحمٰن خان

“میں بڑی ہوکر پائلٹ بننا چاہتی ہوں، میں چاہتی ہوں کہ دنیا بھر کی سیر ہوائی جہاز سے کروں اور خوب سارا پیسہ کما کر غریبوں کی خدمت کروں کیونکہ میں جانتی ہوں کہ زندگی میں پیسہ ہونا بہت ضروری ہے، میرے پاپا کا نام فتح محمد ہے اور وہ بڑھئی کا کام کرتے ہیں۔ میرے پانچ بھائی اور دو بہنیں ہیں، میرے پاپا ایک غریب آدمی ہیں، میں بٹلہ ہاؤس میں ایم سی ڈی کے لال والے سرکاری اسکول کی چھٹی جماعت میں پڑھتی ہوں، میں خوب سارا پیسہ کما کر دوسروں کی مدد کرنا چاہتی ہوں”۔
یہ الفاظ دس سالہ مسکان کے ہیں، جو ہندوستان کی راجدھانی نَئی دہلی کے جامعہ نگر علاقہ میں بٹلہ ہاؤس کے بیس فٹا روڈ پر واقع مدرسہ عبد الرحیم میں زیر تعلیم ہے، اس مدرسہ میں تمام طلبہ وطالبات کو مفت دینی و مذہبی تعلیم مہیا کرائی جاتی ہے۔ عصر اور مغرب کے درمیان چلنے والے اس مدرسہ کے بورڈ پر تحریر ہے کہ “یہاں قرآن پاک ناظرہ کی تعلیم مفت دی جاتی ہے”۔ اس مدرسے کی خاصیت یہ ہے کہ اس کو ایک گھریلو خاتون محترمہ شہناز پروین اپنے دم پر چلاتی ہیں، کسی سے کوئی مالی تعاون حاصل نہیں کرتیں۔ مذکورہ مدرسہ میں تعلیم حاصل کرنے والی صبا کے مطابق “میرے والد کا نام عبداللہ ہے وہ رکشہ چلاتے ہیں، میں چاہتی ہوں کہ قرآن پاک کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد میں ایک اچھی انسان بنوں اور اسکول میں تعلیم حاصل کرکے ڈاکٹر بننا چاہتی ہوں تاکہ غریبوں اور ضرورت مندوں کا کم پیسے میں یا مفت میں اچھا علاج کرسکوں، میرا ایک بھائی اور ایک بہن ہے۔ پاپا غریب آدمی ہیں۔ کبھی کبھی ہمارے پاس دوا کا بھی پیسہ نہیں ہوتا ہے تو ہم لوگ کسی طرح دن رات گزارتے ہیں۔” ایک دوسرا طالب علم سات سالہ ایاز عالم کہتا ہے کہ “میرے ابو کا نام نوشاد عالم ہے، میں بڑا ہو کر سائنسداں بننا چاہتا ہوں اور اپنے
ملک کی حفاظت و ترقی کے لیے دن رات کام کرنا چاہتا ہوں”۔ نو سالہ لعیبہ پورے جوش وجذبہ سے سرشار ہو کر کہتی ہے کہ “میں آئی پی ایس بن کر اپنے ملک کی خدمت کرنا چاہتی ہوں، اپنے ملک کے مجرموں کو سخت سے سخت سزا دے کر انہیں ایک اچھا انسان بنانا چاہتی ہوں، میں چاہتی ہوں کہ میرے ملک میں کہیں بھی چوری نہ ہو، ہمارا ملک محفوظ رہے”۔ اگلے ہی پل لعیبہ کا چہرہ غمناک ہوجاتا ہے اور بڑی افسردگی سے کہتی ہے: “مگر میں کیا کروں، ہم لوگ تین بہن بھائی ہیں اور پاپا بڑھئی کا کام کرتے ہیں، پاپا کے پاس پیسے کم ہیں نا، اسی لیے ہم تمام بہن بھائی سرکاری اسکول میں پڑھتے ہیں، اور یہاں مدرسہ میں بھی بغیر فیس دیے ہی پڑھتے ہیں”۔ سات برس کی رخسانہ بڑے اطمینان کے ساتھ اپنی بات کرتے ہوئے کہتی ہے کہ “میں پڑھ لکھ کر ٹیچر بننا چاہتی ہوں اور چاہتی ہوں کہ تمام بچوں کو تعلیم دوں تاکہ کوئی بھی جاہل نہ رہے، کیوں کہ میرے والد پڑھے لکھے نہیں ہیں، اسی لیے انہیں سب کے دروازے پر جاجا کر پانی فروخت کرنا پڑتا ہے۔ اگر وہ پڑھے لکھے ہوتے تو دوسرے بچوں کے پاپا کی طرح وہ بھی کسی آفس میں کام کرتے، جب مجھ سے کوئی پوچھتا ہے تو بتاتے ہوئے بھی شرم آتی ہے، اس لیے میں نے سوچا ہے کہ ٹیچر بن کر سب کو تعلیم دوں گی، تاکہ پھر کسی کو اپنے پاپا کے بارے میں بتاتے ہوئے شرمندہ نہ ہونا پڑے۔”

img_20161010_170655_hdr

مدرسہ عبدالرحیم میں ایسی لڑکیاں بھی تعلیم حاصل کرتی ہیں جو اپنا گھر چلانے کے لیے دن رات دوسروں کے گھروں میں کام کرتی ہیں اور اپنی مصروفیت میں سے ایک گھنٹہ نکال کر یہاں تعلیم حاصل کرنے آتی ہیں۔ ایسی ہی ایک لڑکی کرینہ بھی ہے جو دوسروں کے گھروں میں کام کرتی ہے اور اپنی تعلیم بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔ وہ کہتی ہے: “میرے والد کا نام محمد رضوان ہے۔ وہ دوسروں کے گھروں میں پینٹ کرنے کا کام کرتے ہیں، میں سرکاری اسکول میں چھٹی جماعت میں بھی پڑھتی ہوں، میں بڑی ہوکر ڈاکٹر بننا چاہتی ہوں، میں غریبوں اور ضرورت مندوں کا مفت میں علاج کرکے ان کی مدد کرنا چاہتی ہوں، میں سب کی مدد ایسے ہی کرنا چاہتی ہوں جیسے آنٹی سب کی مدد کرتی ہیں۔” کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد اپنی آنکھوں سے آنسو صاف کرتے ہوئے پھر سے وہ کہتی ہے: “ابھی گذشتہ بقرعید سے محض ایک دن قبل ہمارے دو بڑے بھائی جمنا ندی میں ڈوب کر مرگئے۔ اگر وہ ہوتے تو ہم ڈاکٹر بن سکتے تھے، اب کیسے بنوں گی؟؟؟”۔
مدرسہ عبدالرحیم میں پڑھانے والے حافظ سجاد کہتے ہیں: ” اس مدرسے میں بیٹھنے کی جگہ کم ہونے کی وجہ سے ہم لوگ بچوں کو واپس لوٹا دیتے ہیں، یا کسی دوسرے مدرسے کا پتہ بتا دیتے ہیں، مگر دیگر مدارس میں بچوں کو فیس دینی پڑتی ہے جبکہ ہمارے مدرسے میں بچوں سے کوئی فیس نہیں لی جاتی ہے اور اچھی تعلیم کے علاوہ ان کا ہر طرح سے خیال بھی رکھا جاتا ہے۔” مدرسہ عبدالرحیم کی بانی محترمہ شہناز پروین کہتی ہیں: “میں ہر بچے کو تعلیم دینا چاہتی ہوں، میں خود بارہویں جماعت تک ہی پڑھی ہوں، مگر چاہتی ہوں کہ اب ہمارے محلہ میں کوئی لڑکی بارہویں جماعت تک نہ رہے، میں ان بچوں کو سیپارے، کتابیں، ڈیسک اور ہر وہ چیز مہیا کراتی ہوں جو ان کی ضرورت ہوتی ہے۔ خواب دیکھنا کوئی جرم نہیں ہے اور میں بھی یہ خواب دیکھتی ہوں کہ میں یتیم بچوں خاص طورسے لڑکیوں کے لیے یتیم خانہ، بزرگوں کے لیے اولڈ ایج ہوم، مساجد اور مدارس تعمیر کراؤں، جو ثواب جاریہ ہیں۔ میری ایک ہی بیٹی ہے اور میں چاہتی ہوں بلکہ میں اس کو ابھی سے تیار کر رہی ہوں کہ میرے بعد یہ تمام کام یہ جاری رکھے۔”
اس مدرسہ کو قائم کرنے کی وجہ بتاتے ہوئے وہ کہتی ہیں کہ “میری بیٹی ہمدرد پبلک اسکول میں پڑھتی ہے، جو تعلیم آباد، سنگم وہار میں واقع ہے، وہاں قرآن پاک کی تعلیم نہیں ہوتی تھی اور مجھے یہ تعلیم دلانا ضروری تھا، اس لیے میں نے سوچا کہ کسی معلم کو گھر پر بلا کر صرف اپنی بیٹی کو ہی تعلیم دلانے سے بہتر ہے کہ محلہ کے ان بچوں اور بچیوں کو بھی تعلیم دلائی جائے جو انتہائی غریب ہیں اور جن کے پاس معلم رکھنے کی صلاحیت نہیں ہے۔ ایسے والدین بھی اپنے بچوں کو مذہبی تعلیم دلاسکیں۔ یہی وہ مقصد تھا جس کے تحت ہم نے اپنے گھر کی پارکنگ کو ہی مدرسہ کی شکل دے دی اور معلم کی تنخواہ اپنے ذمہ لے لی۔ الحمدللہ آج کی تاریخ میں ہمارے مدرسہ میں ۵۵ بچے اور بچیاں زیر تعلیم ہیں۔ ہمارے پاس اتنی جگہ نہیں ہے کہ اور بچوں کو بیٹھایا جاسکے۔ اس لیے میں انہیں داخل نہیں کر پاتی ہوں۔ مگر اب میں نے فیصلہ کیا ہے کہ گراؤنڈ فلور کا وہ حصہ جو میں نے کرایہ پر دے رکھا ہے، اس کی دیوار بھی توڑ کر مدرسہ کو مزید وسعت دے دوں تاکہ محلہ کے دیگر بچے اور بچیوں کو بھی علم کی شمع سے روشن کیا جاسکے۔” ایک سوال کے جواب میں شہناز کہتی ہیں کہ “میری کوئی نوکری نہیں ہے، میری آمدنی کا ذریعہ بس میرا گھر اور چند دوکانیں ہیں جس کی آمدنی سے میں اپنا مدرسہ اور اپنا گھر دونوں ہی چلاتے ہیں، محلہ کے کچھ لوگوں نے اور میری بہن نے بھی دست تعاون ضرور بڑھایا مگر میں نے ان سے مالی مدد لینے سے اس لیے انکار کردیا کہ یہ مجھے پسند نہیں ہے۔ میں کچھ اور بڑے کام کرنے کا ارادہ رکھتی ہوں، جیسے لڑکیوں کے لیے کمپیوٹر سینٹر، سلائی کڑھائی سینٹر، بیوٹی سینٹر وغیرہ تاکہ یہ لڑکیاں اپنے آپ کو کسی پر بوجھ نہ سمجھیں۔” ایک دیگر سوال کے جواب میں وہ کہتی ہیں: “سماجی کام میرے خون میں داخل ہے اور یہ مجھے میرے والدین سے وراثت میں ملا ہے۔ میری والدہ نے بھی دہلی کے ایک محلہ لونی میں ۲۰۰ گز زمین پر مسجد تعمیر کرنے کا فیصلہ لیا تھا، مگر کچھ کرم فرماؤں نے زمین ہی ہڑپ لی۔ اسی بٹلہ ہاؤس میں میری چھوٹی بہن بھی رہتی ہے۔ اس نے میرے مدرسے کو دیکھنے کے بعد یہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ بھی اپنی پارکنگ کو مدرسہ کی شکل دے کر تعلیم کو عام کرے گی۔ “وہ چند پرانے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہتی ہیں: “ہمارے محلہ میں ایک غریب خاندان رہتا تھا، اس کی بیٹی کی شادی طے ہوچکی تھی، مگر شادی کا سامان نہیں تھا، اس کی خبر مجھے لگی تو میں نے محلہ میں ہی بوٹک چلانے والی ایک لڑکی سے بات کی اور اس لڑکی نے شادی کے تمام جوڑے اپنی طرف سے دے دیے۔ کچھ لوگوں نے اور سامان مہیا کرادیا، مگر شادی کے چند دن قبل اہل خانہ نے مجھے بلا کر کہا کہ باجی باراتیوں کے کھانے کا انتظام نہیں ہو پایا ہے۔ میرے پاس صرف پانچ ہزار روپے ہیں، میں نے کہا کہ اتنے میں تو کچھ بھی نہیں ہوگا، اس کو تم اپنے پاس ہی رکھو، میں اسی سوچ میں گم تھی کہ یہ انتظام کیسے کیا جائے، اپنے ڈوپٹے کو دانت سے دبائے میں گھر سے باہر آئی تو ایک صاحب نے سلام کرکے خیریت دریافت کی، میں نے اپنی پریشانی ان کے سامنے رکھی۔ انہوں نے کہا گھبرائیے مت، علاقے کے ایک بلڈر انتخاب بھائی ہیں، ان کے پاس چلتے ہیں۔ انتخاب بھائی نے دریافت کیا، کتنے آدمیوں کے کھانے کا انتظام کرنا ہے تو میں نے کہا ۱۰۰ آدمیوں کا۔ انہوں نے فوراً کھانے کا انتظام کرادیا۔ ایسے ہی اتر پردیش کے ضلع بجنور کے ایک صاحب علاج کے لیے دہلی آئے اور یہاں ان کا انتقال ہوگیا۔ لاش گھر تک لے جانے کا بھی پیسہ نہیں تھا، تو میں نے محلے والوں سے انتظام کرکے ان کی لاش بھجوایا”۔ راقم نے دریافت کیا کہ آپ کے شوہر اس طرح کے سماجی کاموں میں آپ کو حصہ لینے سے نہیں روکتے؟ تو وہ کہتی ہیں کہ نہیں، بلکہ وہ بھی ہمارا ساتھ دیتے ہیں۔ محترمہ شہناز پروین قدرے جذباتی ہوکر درخواست کرتی ہیں کہ “میں آپ کے توسط سے علاقے کے ایم ایل اے اور حکومت سے صرف ایک التجا کرنا چاہتی ہوں کہ برائے کرم کرینہ کے بھائی اور محمد رضوان کے دونوں بیٹے جو بقرعید سے عین قبل جمنا میں ڈوب کر مرگئے ہیں، ان کو کوئی معاوضہ کی رقم دلوائی جائے کیونکہ یہ لوگ بہت غریب ہیں، میں جب بھی ان کے گھر جاتی ہوں تو ان کی ماں رو رو کر یہی کہتی ہے کہ میرا سہارا اجڑ گیا۔ خدا کے واسطے آپ لوگ اس کی کچھ مدد کریں۔”
امید ہے کہ دہلی میں عام آدمی پارٹی کی حکومت ایک غریب عام آدمی کا خیال ضرور رکھے گی، اور علاقے کے ایم ایل اے خود بھی ایک خدا ترس انسان ہونے کی وجہ سے مذکورہ خاندان کو معاوضہ دلا کر نہ صرف ایک غریب خاندان کی مدد کرینگے بلکہ ایک باحوصلہ خاتون کے حوصلے میں اضافہ کا سبب بھی بنیں گے۔ (چرخہ فیچرس)

7042293793
anis8june@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *