نوجوانوں میں نشہ آوراشیاء کا بڑھتا رجحان !

Asif Iqbalمحمد آصف ا قبال
انسان کو لگنے والی کسی بھی طرح کی لت اچھی نہیں سمجھی جاتی۔ عموماًیہ لفظ استعمال بھی منفی معنوں میں ہی ہوتا ہے۔اس کے باوجود مختلف افراد اپنے ذوق کے لحاظ سے مختلف طرح کی لتوں میں ملوث ہوتے ہیں اور توجہ دلانے کے باوجو د ان کے لیے اپنی مخصوص لتوں سے چھٹکارا ایک اہم مسئلہ بن کرسامنے آتا ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ بعض اوقات مذہبی امور میں بھی انسان نہ جانے کون کون سی لتوں میں ملوث ہوجاتا ہے۔نتیجہ میں مذہب کے اس آفاقی تصور سے وہ نالاں رہتا ہے،جومطلوب ہے۔لتوں سے چھٹکارے کی خواہش اورسعی و جہد کے باوجود اگر فردیا گروہ کی صحیح رہنمائی نہ کی جائے تو عین ممکن ہے کہ ایک لت سے نکل کر دوسری اور دوسری سے نکل کر تیسری لت میں وہ مبتلا ہوجائے۔یہاں تک کہ وقت ضائع ہوتا رہے لیکن منزل مقصود ہاتھ نہ آئے۔دیکھا جائے تو منزل مقصود تک نہ پہنچنے کے عموماً دواسباب بیان کیے جا سکتے ہیں ۔ایک:صحیح رہنماکی عدم موجودگی،اور دو:جذبۂ عزیمت کافقدان۔پھر ان اسباب کے پس پشت بھی دو بڑے اسباب کارفرما ہیں۔ایک:خلوص نیت کی کم یابی اور دو:مثالی رہنما کا نہ پایاجانا۔یعنی کسی بھی طرح کی لت میں مبتلا ہے ہر وہ شخص جو اس سے چھٹکارا چاہتا ہے نیز وہ تمام نجات دہندہ،ہر دو سطح پر ایک دوسرے سے نبرد آزما ہیں۔اور چونکہ مریض اور شفامیں معاونت کرنے والا،ایک دوسرے کی مخالف سمت میں گامزن ہیں لہذاتمام طرح کی خواہشات اور مختلف سطح پر کی جانے والی ظاہری کوششوں کے باوجود نتائج کے اعتبار سے ناکامی ہی ہاتھ آتی ہے۔کچھ یہی حال ہمارے معاشرتی و مذہبی مسائل واموراور ان میں حائل افراد و گروہوں کا بھی ہے۔ اگر ایک فرد یا گروہ سنجیدگی کے ساتھ سعی وجہدکرتا نظر بھی آتا ہے تو اس کے مخالفین کی بھی ایک بڑی تعداد فوراً ہی سامنے آجاتی ہے۔جس کے نتیجہ میں مسائل کا حل دیر پا نہیں رہ پاتا۔اس سب کے باوجود اگر عزائم بلند ہوں اور خلوص نیت بھی کسی حد تک پائی جاتی ہوتو کامیابی طے شدہ ہے۔بس چاہیے تو ایک شوق،تمنا،ارمان اورطلب۔

ہندوستان میں نشہ کی لت ایک عام وباہے۔نشہ کی ایک شکل گانجہ ، چرس،بھانگ،ہیروئن اورافیون ہے جس کے عادی بڑی تعدادمیں چہار جانب موجود ہیں۔ وہیں دوسری شکلوں میں بیڑی ، سگریٹ اور شراب نوشی میں مبتلا افراد کی تعداد بھی کچھ کم نہیں۔ نشہ کی ایک اورشکل گٹکا ہے۔ گذشتہ دودہائیوں میں ہر خاص وعام کے درمیان گٹکا کی وبا عام ہوئی ہے۔یہاں تک کہ یہ ایک مکمل انڈسٹری بن چکی ہے۔ہندوستانی معاشرہ میں نشہ آور اشیاء کا استعمال قابل گرفت نہیں ہے۔ہندو معاشرہ میں خوشی کے مختلف مواقع پر نشہ آور اشیاء کا کھلے عام استعمال ہوتا ہے۔یہاں تک کہ بعض تہواروں کی مراسم کی ادائیگی میں نشہ شامل ہے۔اور اگر ایسے مواقع پر نشہ نہ کیا جائے تو وہ تہوار ہی نامکمل کہلائے گا۔مثلاً ہولی کے موقعہ پر دیسی شراب کا استعمال عام بات ہے۔پھر اگر فرد صاحب حیثیت ہے تو انگریزی شراب اس کے اسٹیٹس کوبڑھانے کا ذریعہ بنتی ہے۔ایسے مواقع پر بچے،بڑے،مرد،خواتین،خاندان کے سرپرست حضرات،تمام ہی نشہ کا استعمال کرنے سے نہیں ہچکچاتے۔پھر اگر شراب اور نشہ آور اشیا ء کا زبان کو مزہ مل جائے تو کیونکر وہ دوبارہ استعمال نہیں کریں گے؟اس کے باوجود کہ نہ معاشرتی سطح پر اور نہ ہی مذہبی بنیادوں پر شراب یا نشہ آور اشیاء کا استعمال معیوب سمجھا جاتا ہے۔ہندو معاشرہ کی خصوصیت یہ بھی ہے کہ یہاں کہ سادھو اور بھکت نشہ کرتے ہیں اور غالباً وہ اس کو عبادت کی انجام دہی میں معاون سمجھتے ہیں۔ویدوں میں چند نشہ آور پودوں کے نام بھی آتے ہیں جن کا استعمال ان کے مخصوص دیوتاکرتے تھے۔لہذامخصوص مواقع پر نشہ کو بھی عبادت کا حصہ مان لیا گیا ہے۔اس پس منظر میں یہ کیسے ممکن ہے کہ نشہ کو ہندو یا ہندوستانی معاشرہ سے مکمل طور پر الگ کیا جاسکے۔اور یہ بات طبی ریسرچ ثابت کر چکی ہے کہ نشہ دراصل اس عادت کوکہتے ہیں جس میں کھانے پینے کی کوئی بھی شے فرد کو اس قدر عادی بنا دے،جس سے چھٹکارا حاصل کرنا حددرجہ مشکل ہو۔پھر یہ نشہ آور اشیاء نہ صرف انسان کے دماغ کو متاثر کرتی ہیں بلکہ اس کے دل،گردے اور پھیپھڑوں کو بھی بری طرح نقصان پہنچاتی ہیں۔ نشہ کے عادی افراد کو کینسر ہونا عام بات ہے۔وہیں نشہ کے عادی افراد کی کم وبیش ۲۵؍ لاکھ تعداد ایسی ہے جوایڈزسے متاثر ہے۔افسوس کی بات یہ ہے کہ ہندوستان فی الوقت دنیا میں تیسرے نمبر پر ہے جہاں ایڈز ان افراد کے ذریعہ پھیل رہا ہے جو نشہ کی لت میں مبتلا ہیں۔قانونی اعتبار سے ہیروئن کا استعمال کرنے والوں میں ہندوستان بھی ایران ، پاکستان اور چین کے ساتھ سرفہرست ہے۔وہیں جغرافیائی اعتبار سے دنیا میں ہیروئن فراہم کرنے والے سب سے بڑے ملک برما اور افغانستان ہیں،جو ہندوستان سے بالکل قریب ترین ہیں۔ اس اعتبار سے ہیروئن کا ہندوستان میں غیر قانونی طریقہ سے داخل ہونا اور کاروباری شکل اختیار کرنا بہ نسبت دوسرے ملکوں کے زیادہ آسان ہے۔نشہ آور اشیاء میں ہیروئن ہندوستان میں سب سے زیادہ استعمال ہوتی ہے۔ مختلف طبقات جن میں دس سے لے کر تیرہ سال کے بچے،جن میں کمزور طبقات کے بچے شامل ہیں تو وہیں اشرافیہ کے بچے بھی،طلبہ و طالبات بھی شامل ہیں تو وہیں مرد و خواتین بھی،جھگی جھونپڑیوں میں رہنے والے شامل ہیں تو اعلیٰ ترین مکانات میں رہنے والے بھی،کاروباری شامل ہیں تو وہیں عامیانہ زندگی گذارنے والے افراد بھی۔پھر یہی معاملہ شراب نوشی کا اور دیگر نشہ آور اشیاء کا بھی ہے۔

ہندوستان میں نشہ کی لت میں مبتلا افراد میں سب سے زیادہ تعداد نوجوانوں کی ہے۔موجودہ حکومت کا جہاں ایک جانب یہ خواب ہے کہ ۲۰۲۰ء تک ہندوستان نوجوانوں کی موجودگی کے بل پردنیا کا طاقتورملک بنے گا۔وہیں اس خواب کی حقیقت یہ ہے کہ یہاں سب سے زیادہ بے روزگاری اگر کہیں ہے تو وہ اسی طبقہ یعنی نوجوانوں میں ہے۔نتیجہ کے طور پر ذہنی تناؤ میں مبتلا افراد کی تعداد روزبروز بڑھتی جا رہی ہے۔یہ ایسے نوجوان ہیں جو بے روزگار بھی ہیں اور ذہنی تناؤ اور دباؤ کا شکار بھی۔آج نشہ صرف مزہ حاصل کرنا اور تناؤ دور کرنے ہی کا ذریعہ نہیں ہے بلکہ نوجوانوں کی ایک ضرورت بن چکی ہے۔نشہ کے بغیر وہ اپنی روز مرہ کی زندگی کے کام اور پڑھائی ٹھیک طرح سے نہیں کرپاتے۔ایک رپورٹ کے مطابق دہلی و اطراف کے ساتھ پنجاب،شمال مشرقی خطہ،ممبئی اور بنگلور نشہ کے مراکز بن چکے ہیں۔خطر ناک بات یہ ہے کہ نشہ آور اشیاء ہوٹلوں،عام دکانوں اورتعلیمی اداروں کے قرب و جوار میں بہت آسانی سے دستیاب ہیں۔حیرت اور افسوس کی بات یہ بھی ہے کہ آن لائن خریداری کی ویب سائٹس پر نشہ آوراشیاء مختلف کوڈورڈس میں دستیاب ہیں،جنہیں بہت آسانی کے ساتھ بغیر کسی رسک کے ہوم ڈلیوری کے ذریعہ گھر بیٹھے منگایا جا سکتا ہے، اور یہ جاری ہے۔جانے مانے ماہر نفسیات ڈاکٹر نوین گرور کہتے ہیں کہ نوجوانوں کے درمیان نشہ کے بڑھتے چلن کے پیچھے بدلتی طرز زندگی،غیر اخلاقی دوستوں کا ساتھ،خاندانی دباؤ، ماں باپ کے جھگڑے،انٹرنیٹ پر گھنٹوں وقت صرف کرنا،اور خاندانی تضادات ہیں۔یہی وجہ ہے کہ نوئیڈا، گڑگاؤں، فریدآباد اور غازی آباد،یہ وہ تمام علاقے ہیں جو دہلی سے ملے ہوئے ہیں،اور جہاں بڑی تعداد میں نوجوان معاشی ضرورتوں کے پیش نظر موجود ہیں۔ان تمام علاقوں کے کارپوریٹ ہاؤس میں کام کرنے والے ۲۷؍فیصد نوجوان کسی نہ کسی نشہ کی لت میں مبتلا ہیں۔

گفتگو کے پس منظر میں یہ بات پوری طرح عیاں ہوجاتی ہے کہ آج ملک کا نوجوان نشہ آور اشیاء کا استعمال بڑے پیمانے پر کررہا ہے۔نتیجہ میں جہاں ایک جانب وہ مختلف طرح کی نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا ہے وہیں معاشرتی ،خاندانی اور مذہبی امور میں اس کو سرے سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ان حالات میں اہل اقتدار کو چاہیے کہ خواب دکھانے کی بجائے یکساں لائحہ عمل کے ساتھ،پورے ملک میں عملی اقدامات کریں۔نہیں تو بہت جلد وہ خواب چکنا چور ہو جائے گا جو نوجوانوں کی بڑی تعداد کے پس پشت دیکھا اور دکھایاجارہا ہے!
maiqbaldelhi@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *