عصری علوم کا حصول دینی ذمہ داری ہے

پروفیسر محسن عثمانی ندوی
جب سائنس اور عہد حاضر کے علوم کی تحصیل کو مضمون کا عنوان بنایا جاتاہے تو فوراً بعض علماء دین کے ذہن میں یہ بدگمانی پیدا ہوتی ہے کہ مضمون نگار دین سے بے بہرہ ہے، اس کی نگاہ میں علوم دینیہ اہمیت نہیں رکھتے یا وہ زمانہ کے فیشن کا دلدادہ ہے اور علوم اسلامیہ کا مخالف ہے۔ راقم الحروف کے نزدیک بنیادی دینی تعلیم ہر مسلمان کے لیے لازمی ہے اور یہ سب سے مقدم فریضہ ہے اور اپنے عقیدہ کی اور ملی تشخص کی حفاظت کے لیے دینی تعلیم کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔

بنیادی دینی تعلیم ہر شخص کے لیے ضروری ہے لیکن علوم دینیہ میں اختصاص کمال اور مہارت ہر شخص کے لیے لازمی نہیں۔ اگر ہر شخص علم دین میں اختصاص پیدا کرنے لگے گا تو علوم عصریہ کے ماہرین کہاں سے آئیں گے جن کے بغیر دنیا میں قوت وطاقت اور عزت واقتدار کا تصور نہیں کیا جاسکتا اور نہ کوئی زندہ اور ترقی یافتہ قوم ان علوم کو نظر اندازکرسکتی ہے ۔انسان کے دوش ناتواں پر خلافت کا بارگراں ڈالا گیا ہے۔ خلافت کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے لیے دنیا کے انتظام وانصرام اور ایجادات اور ہر ہنر کا جاننا ضروری ہے ،اس لیے عصری علوم بھی دینی علوم ہیں ۔قرآن میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کواشیاء کے اسماء کا علم سکھایا تھا ۔مفسرین نے لکھا ہے کہ اسماء سے مراد مسمیات یعنی اشیاء کے خواص ہیں اور اسی کا نام سائنس ہے۔ اگر مسلمان یہ چاہتے ہیں کہ وہ دنیا میں دوسری قوموں سے پیچھے نہ رہیں، اگر وہ یہ چاہتے ہیں کہ دوسری قوموں کی جارحیت کا نشانہ نہ بنیں، اگر وہ چاہتے ہیں کہ زمانہ کا رولر انہیں پامال کرتا ہوا آگے نہ بڑھے، اگر وہ چاہتے ہیں کہ ایجادات وانکشافات میں ان کا بھی حصہ ہو، اگر وہ چاہتے ہیں کہ دنیا میں ناقابل تسخیر قوم بن جائیں، تو انہیں جدید علوم میں دست گاہ اور مہارت حاصل کرنی ہوگی کہ اس کے بغیر طاقت اور ترقی کا کوئی تصور نہیں کیا جاسکتا۔ اقبال کی یہ تعلیم بالکل درست ہے کہ:

جو عالم ایجاد میں ہے صاحب ایجاد
ہر دور میں کرتا ہے طواف اس کا زمانہ

مسلمانوں نے اپنی پوری تاریخ میں وقت کے علوم کی تحصیل پر توجہ کی ، بنو عباس کی حکومت کے زمانہ میں جب یونانی علوم کا ستارۂ اقبال بلند ہوا اور ان علوم کے ذریعہ عقیدۂ اسلامی پر تاخت وتاراج شروع ہوئی تو مسلمان علماء اور بالخصوص امام غزالی نے ان جدید علوم کو داخل نصاب کیا اور انہیں اسلام کے دفاع کا ذریعہ بنایا۔ مسلمانوں نے ان علوم میں مہارت پیدا کرلی تھی۔ جس طرح یونانی علوم اسلامی علوم نہیں تھے لیکن مسلمانوں نے ان کو سیکھا ،اسی طرح مغربی علوم بھی اسلامی علوم نہ سہی لیکن مسلمان ان جدید علوم میں پہلے ہر اول دستہ کی حیثیت رکھتے تھے اور مسلمانوں ہی سے یورپ نے ان علوم کو حاصل کیا تھا۔اب اگر مسلمان ان کو سیکھیں گے تو خود اپنی ہی گمشدہ میراث کو حاصل کریں گے لیکن مسلمانوں نے اپنے دور تنزل میں علم کو جدید وقدیم اور دینی و دنیوی کے خانوں میں تقسیم کردیا ۔ اس تقسیم پر ان کو ایسا اصرار ہے جیسے یہ بھی کوئی شرعی تقسیم ہو اور منزل من اللہ ہو، جیسے ہر قدیم مقدس ہو اور ہر جدید مکروہ۔ اس خود ساختہ اور غلط تقسیم کا نتیجہ یہ ہے کہ مدارس دینیہ کے فضلا اور عصری دانشگاہوں کے فارغین کے درمیان بیگانگی کے پردے حائل ہوگئے ہیں۔ ایک زمانہ کے تقاضوں سے ناواقف اور طاقت کے سرچشمہ سے بے خبر اور دوسرا احکام دین سے ناآشنا اور ملت کے مسائل سے بیگانہ۔ ایک کے پاس وہ کشتی نہیں جو طوفانوں کا مقابلہ کرسکے، دوسرے کے پاس کشتی ہے لیکن ساحل نجات کا اسے علم نہیں۔

اسے کشتی نہیں ملتی اسے ساحل نہیں ملتا
اب وقت آگیا ہے کہ اس خلیج کو پاٹنے کی سنجیدہ کوشش شروع کی جائے۔ دینی تعلیم کے جو مدارس ہیں ان میں جدید علوم کو اس حد تک ضرور داخل کیا جائے کہ مدارس عربیہ کا فارغ التحصیل زمانہ کے تقاضوں کو سمجھ سکے اور صحیح رہبری کرسکے۔ اسی طرح سے مسلمانوں کے عصری تعلیم کے اداروں میں دینی تعلیم اتنی ضروردی جائے کہ طالب علم کو حلال وحرام کا فرق معلوم ہو اور وہ اپنے اسلامی تشخص کے بارے میں غیرت مند اور باحمیت ہو۔
حالات حاضرہ کا گہرا مطالعہ کیا جائے تو ہمیں نظر آتاہے کہ عالمی سطح پر مسلمانوں کی شکست اور ہزیمت کا اور دوسری قوموں کی فتحمندی کا بنیادی سبب مسلمانوں کا صنعت اور ٹکنالوجی میں پیچھے رہ جانا ہے۔ مسلمان اپنی علمی اور صنعتی پسماندگی کی وجہ سے دوسری قوموں کی جارحیت کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔ قرآن اور سیرت کے مطالعہ سے ہمیں وقت کے علوم کے حصول کی صرف نصیحت نہیں بلکہ تاکید اور تلقین ملتی ہے۔ لیکن ہمارا دین کا مطالعہ اتناناقص اور نقطۂ نظر اتنا محدود ہے کہ ہم نے صرف مسجدوں میں نماز کی ادائیگی کو دین سمجھ لیاہے۔ بلاشبہ مسجدوں میں نماز کی ادائیگی ضروری ہے، روزہ، زکوۃ اور حج اسلامی فریضہ ہیں لیکن دفاع کے لیے قرآن میں جہاد اور بلند ترین معیار کی اسلحہ سازی کے احکام بھی موجود ہیں جن کا تذکرہ کبھی کسی واعظ کی زبان پر نہیں آتاہے۔ مسلمان حکومتوں کے لیے ان پر عمل فرض ہے ۔افسوس ہے کہ خلیجی ملکوں نے سیال سونے کے سمندر سے مالامال ہونے کے بعد بھی قرآن کے حکم کو پامال کیا ، اور پوری قوم کو صارفین کی قوم بنادیاحالانکہ اس بے پناہ دولت سے صنعتی انقلاب آسکتا تھا،مسلم اور غیر مسلم ملکوں میں ایسے حق پسند اور بیباک علمائے دین نہیں جو جرأت کے ساتھ شنہشاہوں کا گریبان پکڑ سکیں اور ان کی غلطی پر ٹوک سکیں، قرآن اور حدیث کی ایسی تعلیم کا کیا فائدہ جو انسان کو حق گو اور حق پرست نہ بناسکے ۔

جہاد کے صحیح تصور کو سامنے لانے کی ضرورت ہے اور فضائل نماز اور فضائل ذکر کی طرح فضائل جہاد بھی مرتب کرنے کی ضرورت ہے تاکہ جدید اسلحہ سازی اور اعلیٰ درجہ کی ٹکنالوجی کے حصول کو دینی ضرورت اور شرعی حکم سمجھا جائے تاکہ مسلم حکومتیں اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں،تاکہ مسلمان دنیا میں طاقتور ہوں ،تاکہ دوسری قومیں مسلمانوں کو روند نہ ڈالیں ،مسلمان ملکوں کو پائمال اور شکستہ حال نہ کرڈالیں ۔ علم کی غلط طور پر دینی اور دنیوی تقسیم کی بیخ کنی کی ضرورت ہے ۔ مسلمانوں کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ جدید علوم و فنون اور صنعت وحرفت اور ٹکنالوجی کا حصول بھی دینی کام ہے کہ اس کے بغیر مسلمانوں کی عظمت رفتہ بحال نہیں ہوسکتی ہے۔ مسلمان اگر عظمت کی باز آفرینی کے لیے جدید علوم میں امامت کا مقام حاصل کریں گے تو وہ عند اللہ بھی ماجور ہوں گے اور دنیا میں بھی معزز ہوں گے۔

سائنس اور ٹکنالوجی میں مہارت مسلمانوں کے لیے ضروری ہے۔ سائنس اس کائنات کے بارے میں اکتساب علم کا نام ہے اور اس علم اور تجربہ کو عملی لباس پہنانا ٹکنالوجی ہے۔ قرآن مجید میں نظام کائنات پر غور وفکر اور تدبر کرنے اور آفاق وانفس کا مشاہدہ کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔ یہی سائنس کا مفہوم ہے۔ قرآن میں طاقت اور بلند معیار کی اسلحہ سازی کا حکم ہے اور یہ چیز ٹکنالوجی کے بغیر حاصل نہیں ہوسکتی ہے۔ یہ سمجھ لینا کہ جدید علوم محض دنیاوی چیزیں ہیں اور اسلام سے ان کا ربط نہیں، غلط ہے۔

اسلام کے جامع نظام کو ذہن نشین کرنے اور کروانے کی ضرورت ہے۔ یہ بات ہمیشہ مستحضررکھنے کی ہے کہ اسلام کا مقصد دنیا اور آخرت دونوں زندگیوں کو بہتر بناناہے۔ جب تک یہ چیز حاصل نہیں ہونگی دین کا تصور محدود ہوگا اور مسلمان کبھی اس دنیا میں سر بلند اور باعزت نہیں ہوسکیں گے۔ ایک اچھے صاحب ایمان اور صاحب اخلاق انسان ہونے کے ساتھ ایک مسلمان کے لیے جدید علوم وفنون سے لیس ہونا بھی ضروری ہے۔ حدیث میں حکمت اور علم کو مسلمانوں کی گمشدہ میراث قراردیا گیا اور اس پر مسلمان کا استحقاق دوسروں سے بہت زیادہ ہے۔ عبادت اور خلافت دونوں کے تقاضوں کو ہم آہنگ اورباہم مربوط کرنا ایک مسلمان رہبر عالم دین کی بہت بڑی ذمہ داری ہے اور جو عالم دین اس ذمہ داری کو پورا نہیں کرتا اس کی رہبری خام اور ناتمام ہے ،اس کی فکر ناقص اور نامکمل ہے ۔ ایمان اور علم جدید کی اس جامعیت کے بغیر اورروحانی و مادی طاقت کے امتزاج کے بغیر مسلمان ذہنی کمال، قوت اختراع اور عزت وشوکت سے محروم رہیں گے۔ دینی کام کرنے والی شخصیتیں اور جماعتیں جس قدر جلد اس حقیقت کو سمجھ لیں اتنا ہی ان کے حق میں اور مسلمانوں کے حق میں بہتر ہے۔ مسلمانوں نے اپنی تاریخ میں ہمیشہ روحانی اور مادی دونوں طاقتوں کو بہم کیا اور پھر مسبّب الاسباب پر بھروسہ کیا لیکن اسباب کا کبھی انکار نہیں کیا کیونکہ یہ اسباب بھی مسبب الاسباب کے پیدا کردہ ہیں اور ان کو اختیار کرنے کا حکم دیا گیاہے۔

تقریروں میں اسباب کی نفی کرنا اور خوارق عادات اور کرامات کے قصے سنانا ،مچھروں کو چھاننا اور اونٹ کو نگل جاناامت کی ہمالیائی غلطیوں سے بے خبر رہنا اور داڑھیوں کا طول وعرض ناپنا مثبت اور تعمیری انداز فکر نہیں ہے ۔یہ سب بے عقلی، بے عملی، بے خبری، تعطل اور خواب غفلت کا وہ انجکشن ہے جس سے مسلمان اور بھی زیادہ تنزل کا شکار ہوتے چلے جائیں گے۔

یہ بات بھی یادر کھنے کے لائق ہے کہ جب مسلمانوں نے آفاق وانفس پر غور وفکر کے نتیجہ میں سائنس کو اپنی دسترس میں کرلیاتو سائنسی علوم خدمت خلق کا ذریعہ بنے اور ان سے فلاح وبہبود کا کام لیا گیا اور سائنس اور خدا پرستی میں کوئی ٹکراؤ نہیں ہوا لیکن جب سائنس پر یوروپ کی قوموں کا قبضہ ہوا ،تو انہوں نے سائنس کو الحاد اور بے دینی کے فروغ کا ذریعہ بنالیا اور نئی دریافتیں دنیا میں شروفساد کے پھیلانے کا ذریعہ اور وسیلہ بن گئیں ۔ اقبال کی آواز فضا میں اب بھی گونج رہی ہے:

عالم ہمہ ویرانہ ز چنگیزی افرنگ
معمار حرم باز بہ تعمیر جہاں خیز
از خواب گراں خواب گراں خواب گراں خیز

(فرنگیوں کی چنگیزی سے پوری دنیا ویران ہے، حرم کے معمارو، دنیا کی تعمیر کے لیے دوبارہ اٹھو، گہری نیند ، گہری نیند گہری نیند سے اٹھو)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *