پٹنہ میں لالو خاندان کی تین ایکڑ زمین ضبط

نامہ نگار
پٹنہ:
انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے ریلوے کے دو ہوٹلوں کو ٹھیکہ پر دیے جانے کے بدلے زمین لینے کے مبینہ بدعنوانی کے معاملے میں یہاں راشٹریہ جنتا دل کے لیڈر لالو یادو کے خاندان کی تین ایکڑ زمین ضبط کر لی ہے۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے اپنے ٹوئٹر ہینڈل کے ذریعے اس کی اطلاع دی ہے۔ ای ڈی نے اپنے ٹوئٹ میں کہا ہے کہ اس نے آئی آر سی ٹی سی کے دو ہوٹلوں کو ٹھیکہ پر دینے میں ہوئی بدعنوانی کے سلسلے میں لارا پروجیکٹ کمپنی کی زمین ضبط کی ہے جس کی قیمت سرکل ریٹ کے حساب سے ۴۴ کروڑ ۷۵ لاکھ روپے ہے۔ واضح رہے کہ اسی سال جولائی میں سی بی آئی نے رابڑی دیوی کی سرکاری رہائش گاہ کے ساتھ ہی دہلی اور دوسرے شہروں میں کئی مقامات پر چھاپہ ماری کی تھی۔ مرکزی تفتیشی ایجنسی نے لارا پروجیکٹ کے مالکان پر معاملہ درج کیا تھا۔ لارا پروجیکٹ لالو یادو کی بیوی اور بہار کی سابق وزیر اعلٰی رابڑی دیوی اور دیگر کی کمپنی ہے۔ ای ڈی نے پٹنہ میں جو زمین ضبط کی ہے وہ رابڑی دیوی اور ان کے دونوں بیٹوں تیج پرتاپ اور تیجسوی یادو کے نام ہے۔ اس سے پہلے ای ڈی نے رابڑی دیوی اور تیجسوی یادو سے نئی دہلی اور پٹنہ میں کئی بار پوچھ گچھ کی تھی۔ لالو یادو کے خاندان پر الزام ہے کہ اس نے ریلوے کے دو ہوٹلوں کو ٹھیکہ پر دینے کے بدلے زمین لی تھی۔ ریلوے کے یہ دونوں ہوٹل رانچی اور پوری میں واقع ہیں۔ یہ دونوں ہوٹل وجے کوچر اور ونے کوچر کی کمپنی سجاتا ہوٹلس کو ٹھیکہ پر دیے گئے تھے۔ یہ واقعہ ۲۰۰۶ کا ہے جب لالو یادو ریلوے کے وزیر تھے۔ اس سلسلے میں آر جے ڈی کے موجودہ نائب صدر شیوانند تیواری نے جو اس وقت جنتا دل متحدہ میں تھے، شکایت کی تھی لیکن جانچ کے بعد ان کے الزامات کو خارج کر دیا گیا تھا۔ آر جے ڈی میں شامل ہونے سے پہلے شیوانند تیواری نے کہا تھا کہ معاملے کی جانچ کے بعد اس کو بند کر دیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی مخالفت کے سبب لالو یادو کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *