مندر کے نام پر سماجی ہم آہنگی کے انہدام کی تیاری

RR Tiwariراجیو رنجن تیواری
بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما اور انتہا پسند ہندو کی شبیہ رکھنے والے سبرامنیم سوامی نے رام مندر کی سیاست کو گرمانے کے لیے دہلی یونیورسٹی میں ایک سمینار کیا ہے۔ اس سلسلے میں اس سے پہلے کی سرگرمیوں پر پیش ہے راجیو رنجن تیواری کا مضمون:
ہندوستانی سیاست خاص طور پر بی جے پی اور هندوادي تنظیموں کی سیاست ایودھیا تنازعہ کو ایک بار پھر سے گرمانے کی تیاری پر توجہ مرکوز کر رہی ہے. ایودھیا میں رام مندر بنانے کا دعوی کرنے والے لوگ کہہ رہے ہیں کہ مرکز میں نریندر مودی کی حکومت بن گئی ہے، تو اب وہاں مندر بن کر رہے گا. اسی پس منظر پتھروں سے بھرے دو ٹرک کے حال ہی میں ایودھیا پہنچنے سے قومی سیاست میں گرمی آگئی ہے. ہندو اور مسلم دونوں فرقوں کے جنونیوں کے کان کھڑے ہو گئے ہیں. یوں کہیں کہ ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کی تیاری نہیں بلکہ ملک کے سماجی و فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو مسمار کرنے کی تیاری چل رہی ہے. مجھے تو لگتا ہے کہ اس ہم آہنگی کو بگاڑنے کی کوشش میں لگے لوگوں کو مرکزی حکومت کی طرف سے ایندھن حاصل ہو رہا ہے ورنہ رام جنم بھومی ٹرسٹ کے صدر نرتیہ گوپال داس ایودھیا میں رام مندر کے سلسلے میں بڑا اعلان نہیں کرتے. انہوں نے کہا ہے کہ رام مندر کی تعمیر کے لیے تراشے گئے پتھروں کا شیلا پوجن ہو چکا ہے. شیلا پوجن کے بعد ان پتھروں کو ایک نئے مقام رام سیوک پورم میں رکھا جا رہا ہے اور يہیں سے انہیں مندر تعمیر کی جگہ پر بھیجا جائے گا۔

تراشے گئے پتھروں کا پوجن اس لیے اہم ہے کیونکہ مجوزہ رام مندر کی تعمیر ان پتھروں ہی سے کی جانی ہے. نرتیہ گوپال داس نے تو یہاں تک کہا ہے کہ بھگوان کی کرپا سے مرکز میں نریندر مودی کی حکومت بن گئی ہے اور اب بہت جلد مندر کی تعمیر کا کام شروع کریں گے. مندر تحریک کے رہنما رہے وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) کے لیڈر اشوک سنگھل نے اپنے انتقال سے پہلے کہا تھا کہ تقریبا دو لاکھ مکعب میٹر پتھروں کی ضرورت ہو گی. ایودھیا میں سوا لاکھ مکعب میٹر پتھر تیار ہیں. وی ایچ پی کی جانب سے ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کی خاطر ملک بھر سے پتھر جمع کرنے کی مہم کا اعلان کرنے کے قریب چھ ماہ بعد پتھروں سے لدے دو ٹرکوں کے شہر میں داخل ہونے پر ضلع پولیس محتاط ہو گئی اور حالات پر نظر رکھ رہی ہے۔

سند رہے کہ سال ۲۰۰۴ کے عام انتخابات سے پہلے آرایس ایس اور وشو ہندو پریشد کے لیڈر رام مندر کی تعمیر کے سلسلے میں بے چین ہونے لگے تھے. دہلی کے رام لیلا میدان میں ایک اجتماع بھی ہوا تھا جس میں اس وقت ملک کے وزیر اعظم رہے اٹل بہاری واجپئی پرخوب نشانہ لگایا گیا تھا. سنگھ پریوار سے وابستہ لوگوں کا کہنا تھا کہ واجپئی مندر کی تعمیر کے لیے سنجیدہ نہیں ہیں اور بی جے پی نے اقتدار حاصل کرتے ہی مندر مسئلے کو بھلا دیا. اگست ۲۰۰۳ میں رام جنم بھومی ٹرسٹ کے صدر مہنت رام چندر داس پرم ہنس کا انتقال ہو گیا. ان کی آخری رسومات کے لیے سریو ندی کے کنارے بی جے پی اور سنگھ پریوار کے تمام بڑے لیڈر موجود تھے. وہیں وزیر اعظم واجپئی نے کہا تھا کہ ہمیں یقین ہے کہ ساری رکاوٹیں دور کرکے مندر بنا لیا جائے گا. اسی درمیان لال کرشن اڈوانی نے کہا تھا کہ سب سے اچھا انتخاب تو یہ ہوگا کہ سبھی فرقوں کے لوگ قومی جذبے کا احترام کریں کہ وہاں صرف رام مندر ہی بن سکتا ہے اور کچھ بھی نہیں. اس وقت آر ایس ایس کے سربراہ کے سی سدرشن نے کہا تھا کہ سب کو ۲۰۰۴ کے انتخابات کی تیاری میں لگ جانا چاہیے. جمہوریت میں عوام کی رائے سپریم ہوتی ہے. تمام ہندوؤں کے لیے اہم ہے کہ وہ انتخابات سے پہلے ایسا ماحول تیار کریں کہ مندر کی مخالفت کرنے کی ہمت کسی میں نہ رہے. لیکن ۲۰۰۴ کے عام انتخابات میں واجپئی ہار گئے اور ۲۰۱۴ میں وزیر اعظم نریندرمودی اقتدار میں آئے لیکن انہیں جو اکثریت ملی وہ مندر کی تعمیر کے لیے نہیں تھی.

اگست ۲۰۰۳ میں کیے گئے عزم و اعلان کو اب ۱۲ سال ہو گئے. اس اعلان کا تو کچھ نہیں ہوا لیکن سنگھ پریوار نے ایک بار پھر اسی طرح کا ارادہ کیا ہے. گذشتہ دنوں دہلی میں وی ایچ پی لیڈر اشوک سنگھل کی یاد میں ہوئی ایک مجلس میں سنگھ کے سربراہ موہن بھاگوت نے کہا کہ مندر بنانے کا کام صرف اشوک جی کا نہیں تھا. اسے آگے بڑھانے کے لیے ہمیں جو کرنا ہوگا، وہ ہم کریں گے.

گذشتہ سال مئی میں بی جے پی کے قومی صدر امت شاہ نے کہا تھا کہ بی جے پی مندر کی تعمیر کے معاملے پر پیچھے نہیں ہٹی ہے لیکن مندر کی تعمیر کے لیے ہمارے پاس اکثریت نہیں ہے. مندر کی تعمیر کے لیے اکیلے بی جے پی کو کم سے کم ۳۷۰ نشستیں چاہیے. ۲۰۱۴ میں وزیر اعظم مودی کی مقبولیت عروج پر تھی تب بی جے پی کو ۲۸۲ نشستیں آئی تھیں، امت شاہ نے رام مندر کے لیے۳۷۰ نشستوں کا ہدف ٹالنے کے لیے رکھا ہے یا بہلانے کے لیے. اس سلسلے میں سپریم کورٹ کے آخری فیصلے کو ذہن میں رکھیں. ۳۰ مارچ ۲۰۱۵ کو سپریم کورٹ نے ایک فیصلہ دے کر ۳۰ ستمبر ۲۰۱۰ کے الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے پر روک لگا دی.

الہ آباد ہائی کورٹ نے ۷۷۔۲ ایکڑ زمین کو ہندو، مسلمان اور نرموہی اکھاڑے کے درمیان تقسیم کر دیا تھا. سپریم کورٹ نے کہا کہ تقسیم کا مطالبہ کسی پارٹی نے کیا ہی نہیں. ہائی کورٹ کے فیصلے کو عجیب بتاتے ہوئے سپریم کورٹ نے اس پر روک لگا دی. وہیں مودی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد وی ایچ پی نے بھی کوئی ٹھوس کوشش نہیں کی. گذشتہ سال ۲۵ اور ۲۶ جون کو مودی حکومت کے ایک سال پورے ہونے کے موقع پر وی ایچ پی کی ہری دوار میں منعقدہ میٹنگ میں ایک وفد بنانے کا اعلان ہوا تھا جو مندر کی تعمیر کے مسئلے پر مودی حکومت سے بات کرے گا. جون سے لے کر دسمبر کے درمیان وفد نے کس سے بات کی یا بات ہی نہیں کی، یہ پتہ نہیں چلا. ۳۰ ستمبر کو اشوک سنگھل اور سبرامنیم سوامی نے رام مندر کو ہندوستانیوں کی اکثریت کا قومی مقصد بتایا تھا. گذشتہ یکم اکتوبر کو اشوک سنگھل کی ۹۰ ویں سالگرہ پر سنگھ پریوار کے سربراہ نے مندر کی تعمیر کے بارے میں کچھ نہیں کہا. وہاں موجود لوگوں نے “مندر وہیں بنائیں گے” کا نعرہ لگایا تو اشوک سنگھل مائک لے کر اپنی بات کہنے لگے اور نعروں کو درکنار کر دیا.

اس سے پہلے وشو ہندو پریشد نے جون میں اعلان کیا تھا کہ ایودھیا میں مندر کی تعمیر کے لیے ملک بھر سے پتھر جمع کیے جائیں گے. اسی وقت وی ایچ پی نے مسلمانوں کو بھی خبردار کیا تھا کہ وہ رام مندر کی تعمیر میں کوئی اڑچن نہ لگائے جبکہ اشوک سنگھل نے کہا تھا کہ رام مندر کی تعمیر کے لیے قریب سوا دو لاکھ مکعب فٹ پتھروں کی ضرورت ہے اور تقریبا سوا لاکھ مکعب فٹ پتھر ایودھیا میں واقع وی ایچ پی ہیڈ کوارٹر میں تیار رکھے ہیں. باقی پتھر ملک بھر سے ہندو یاتریوں سے جمع کیے جائیں گے. وی ایچ پی کے ترجمان شرد شرما نے بتایا کہ ایودھیا میں وی ایچ پی کی جائیداد رام سیوک پورم میں دو ٹرکوں سے پتھر اتارے گئے ہیں اور مہنت نرتیہ گوپال داس نے شیلا پوجن کیا ہے. دریں اثنا، مہنت نرتیہ گوپال داس کے مطابق مودی حکومت سے اشارے ملے ہیں کہ مندر کی تعمیر اب جلد ہی کرائی جائے گی تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ حالات پر گہری نگاہ رکھی جا رہی ہے. اگر اس سے امن کو نقصان ہوتا ہے یا فرقہ وارانہ ہم آہنگی بگڑتی ہے تو ہم یقینی کارروائی کریں گے.

یہ بھی قابل ذکر ہے کہ ۲۱ دسمبر کو بی جے پی ایم پی ونے کٹیار نے کہا کہ شیلا پوجن نہیں ہو رہا ہے، بلکہ پتھروں کو تراشنے کا کام ہو رہا ہے. ہمیں مندر تو وہاں بنانا ہی ہے، تو ہم اس کی تیاری کر رہے ہیں. اب اعظم خاں بھی تیار ہو گئے ہیں. لوک سبھا کی ۲۱ دسمبر کی کارروائی کے شروع ہوتے ہی لوک سبھا جے شری رام کے نعرے سے گونج اٹھا. ایودھیا میں شیلاپوجن پر بابری مسجد کیس کے فریق ہاشم انصاری کا کہنا ہے کہ معاملہ سپریم کورٹ میں ہے جو فیصلہ ہوگا وہ اسے مانیں گے. انہوں نے حکومت سے شلیا پوجن روکنے کی اپیل کی ہے. ایودھیا میں قریب آٹھ سال بعد رام مندر کی تعمیر کے لیے پتھر لانے کا کام اچانک دوبارہ شروع ہو گیا ہے. بہر حال، حالات ٹھیک نہیں ہیں. اگر ایودھیا میں کسی بھی طرح کی پیشرفت ہوتی ہے تو مندر مسجد بنے یا نہ بنے، ملک کا سکون تو بگڑ ہی جائے گا. دیکھنا ہے کہ انتظامیہ کیا کرتا ہے.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *