جے این یو میں سالانہ عید میلاد النبی ﷺکا انعقاد

عدم رواداری کی مذہب اسلام میں کوئی جگہ نہیں :پروفیسر شمیم منعمی

نئی دہلی

 جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں رحمت عالم ویلفیئر سوسائٹی کی جانب سے منگل رات کو’یوم امن‘ کے عنوان سے سالانہ عیدمیلادالنبی ﷺکاپروگرام سماجی علوم کے آڈیٹوریم میں منعقد ہوا۔اس کی صدارت مرکز برائے ہندوستانی زبان کے پروفیسر، ڈاکٹر محمد خواجہ اکرام الدین نے کی جبکہ نظامت کے فرائض شاہد رضا خاں اور یونس عالم نے مشترکہ طور پر انجام دیے ۔ پروگرام کی ابتدا قاری محمد عمران کی تلاوت سے ہوا، اس کے بعد محمد اخلاق اور محمد قیام الدین نے بارگاہ رسالت میں خراج عقیدت پیش کیا۔اس موقع پر انڈونیشا کی جے این یو میں ویزیٹنگ پروفیسر ایل آر  لیندیانی نے کہا کہ عورت کو اسلام نے مردوں کی طرح برابر کا مقام دیا ہے، اسے وراثت میں جگہ دی ہے۔ اور حجاب عورت کی زینت کی علامت ہے۔اگر مردوں کے لیے طلاق کا حق ہے، تو عورتوں کے لیے بھی خلع کا اختیارہے۔ ’’تکثیری سماج میں پرامن بقائے باہمی ‘‘ کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے مگدھ یونیورسٹی کے استاد پروفیسر محمد شمیم منعمی نے کہا کہ مذہب اسلام کی رگ وپے میں بقائے باہمی کاتصورموجود ہے، اس آفاقی مذہب میں عدم رواداری کی کوئی جگہ نہیں ہے، قرآن وحدیث کے مطابق کوئی شخص اس وقت تک کامل مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ وہ رواداری اور بقائے باہمی پر یقین نہ رکھے۔ اس کی مثال سرکار ﷺکی زندگی میں بھی موجود ہے، ان کے بعد ان کے خلفا ،علماء ، صوفیہ کرام اور مسلم بادشاہوں نے اس کا عملی ثبوت دیا۔ انہوں نے کہا کہ اللہ سب کا رب ہے ، اس کی رزاقیت اور جودوعطاء کے دروازے سب مخلوق کے لیے کھلے ہوئے ہیں ، چاہے کوئی اس پرایمان لائے یا نہ لائے۔انہوں نے سیرت طیبہ کی روشنی میںگفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حلف الفضول ، حجر اسود پر چادر چڑھانے کاواقعہ، فتح مکہ اور میثاق مدینہ نبی کریم کی رواداری کی بہترین مثالیں ہیں۔محمد ﷺ صرف مسلمانوں ہی کے نبی رحمت نہیں ہیں،بلکہ ساری دنیاکے لیے ہیں۔

?

 پروگرام کے دوسرے مہمان مقرر  علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے پروفیسر عرشی خان نے ’’انسانیت اور امن عالم کے لیے دہشت گردی کے خطرات ‘‘کے عنوان پر خطاب کیا۔ انہوں طالبان ،القاعدہ اور داعش جیسی دہشت گرد تنظیموں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ساری دہشت گردی کے تار امریکہ اور اسرائیل سے ملتے ہیں، ان کا اسلام سے کوئی لینادینا نہیں ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ بغیر حکومت اور کسی بڑے ادارہ کی خاموش مدد کے دنیا میں کہیں بھی دہشت گردی کے واقعات نہیں ہوتے۔ان واقعات میں رازداری اس طرح برتی جاتی ہے کہ سارے ثبوت مٹادیے جاتے ہیں اور پھر کوئی جامع وکامل تحقیق نہیں ہوپاتی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہندوستان سمیت دنیا کے کسی ملک کی خفیہ ایجنسیاں اپنی تحقیق کے لیے نہ تو عوام کے سامنے ذمہ دار ہوتی ہے اور نہ حکومت کے سامنے، جس کی وجہ سے وہ اپنی مرضی کے مطابق کام کرتی ہیں۔

پروگرام کے صدر پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین نے کہا کہ اسلام رواداری ، بقائے باہمی اور امن وسلامتی کا مذہب ہے، اس میں فیملی سمیت پڑوسی اور احباب کے حقوق واضح طور پر بیان کردیے گئے ہیں۔ میلادالنبی کے اس مبارک موقعہ پر ضرورت ہے کہ ہم اسلام کے سچے پیغام کو دنیا میں پھیلائیں اور دوسروں کو اس سے محبت سے قریب کریں تبھی شانتی آئے گی۔ انہوں نے سبھی مہمان مقررین کا شکریہ اداکیا۔ پروگرام کےدرمیان میں پانچ منٹ کا ایک پاورپوائنٹ بھی پیش کیا گیا،جو سرکار ﷺکی سیرت، ان کی تعلیمات ،اسلام کا تعارف اوراخلاقی اقدار پرمشتمل تھا۔ پروگرام میںجے این یو کے علاوہ جامعہ ملیہ اسلامیہ اور دہلی یونیورسٹی سے کثیر تعداد میں آئے طلبہ نے شرکت کی۔ صلاۃ وسلام پر پر پروگرام اختتام پذیر ہوا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *