امت شاہ جی!اب بس بھی کرو

اسفر فریدی 

بہاراسمبلی انتخابات میں اپنی جیت کو یقینی بنانے کے لیے بھارتیہ جنتا پارٹی کے قومی صدر امت شاہ جس طرح کی حکمت عملی اپنا رہے ہیں، اس سے صرف ریاست ہی نہیں پورے ملک کو بھی نقصان ہوگا۔ امت شاہ نے ۲۹؍ اکتوبر کو ہند۔ نیپال سرحد پر واقع رکسول میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا :’’اگر غلطی سے بھی بی جے پی بہار میں ہارتی ہے تو جیت ہار تو بہار میں ہوگی پٹاخے پاکستان میں چھوٹیں گے۔‘‘ اس سے قبل سیوان ضلع کے رگھوناتھ پور میں انہوں نے کہا کہ اگر لالو و نتیش کی سربراہی والے مہاگٹھ بندھن کی جیت ہوتی ہے تو سب سے زیادہ خوشی شہاب الدین جیسے جرائم پیشہ افراد کو ہوگی۔
سماج کو بانٹنے والے ایک تیسرے بیان میں امت شاہ نے کہا کہ راشٹریہ جنتادل ، جنتادل متحدہ اور کانگریس کو مشترکہ طور پر ریاست میں حکومت بنانے کا موقع ملا تو تینوں پارٹیوں کی تکڑی دلتوں، مہادلتوں اور پسماندہ طبقات کے ریزرویشن کوٹے میں سے اقلیتوں (مسلمانوں) کو ریزرویشن دیں گے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ بی جے پی ہمیشہ کمزورطبقات کے لیے ریزرویشن کے حق میں رہی ہے جبکہ سچائی اس کے برعکس ہے۔
دنیا جانتی ہے کہ بی جے پی نے دلتوں اور پسماندہ طبقات کو ریزرویشن دینے کی ہمیشہ مخالفت کی ہے۔بی جے پی نے ۱۹۸۰کی دہائی میں ریزرویشن کے خلاف کئی تحریکیں چلائیں۔ اس نسخے کو بھی اس نے سب سے پہلے گجرات ہی میں اپنایا اور ذات کی بنیاد پر ریزرویشن دینے کی مخالفت کرتے کرتے اس نے اسے فرقہ وارانہ رنگ دے دیا۔ جس کے نتیجے میں سیکڑوں جانیں گئیں۔ یہی کام اس نے اس وقت کیا جب وزیر اعظم وی پی سنگھ نے پسماندہ طبقات کو سرکاری نوکریوں میں ریزرویشن دینے کی منڈل کمیشن کی سفارشات کو نافذ کرنے کا اعلان کیا۔ اس وقت بی جے پی کے لیڈر لال کرشن آڈوانی نے سومناتھ سے ایودھیا تک کے لیے رتھ نکالا جو بالآخر بہار میں رک گیا۔ اس دوران بہت سی جگہوں پر فرقہ وارانہ فسادات ہوئے اور آڈوانی کے رتھ رکنے کے ساتھ ہی مرکز میں وی پی سنگھ کی حکومت بھی جھٹکے کے ساتھ گر گئی۔
امت شاہ ایک بار پھر اسی پرانے نسخے کو آزمانے کی کوشش کررہے ہیں۔ اسی کے تحت انہوں نے مذکورہ تینوں بیانات بہار میں ووٹروں کو مذہبی بنیاد پر بانٹنے اور اکثریتی فرقہ یعنی ہندورائے دہندوں کو اپنے حق میں کرنے کے لیے دیے ہیں۔
اگر عوام اس طرح کے ہتھ کنڈوں کا شکار ہوکر بی جے پی کی سربراہی والے اتحاد این ڈی اے کو کامیاب بنادیتے ہیں تو وہ ہندوستان کے لیے ایک اور سیاہ باب ہوگا۔ لیکن انتخابی میدان میں جیت ہار سے بھی زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ بی جے پی اور اس کے لیڈران آخر ہندوستان کو کہاں اور کس طرف لے جانا چاہتے ہیں؟ وزیراعظم نریندر مودی اور بی جے پی کے صدر امت شاہ جس طرح کھلے لفظوں میں ہندوستانی سماج کو ہندو اور مسلمان کے بیچ بانٹ رہے ہیں، کیا اس سے ملک کا بھلا ہوگا؟ ہرگز نہیں۔ اس لیے نریندر مودی اور امت شاہ کو سماج میں پھوٹ ڈالنے اور پاکستان کے نام پر انتخابات جیتنے کے گجرات ماڈل کو اب ترک کردینا چاہیے۔ ہمیں معلوم ہے کہ ان سے یہ عادت نہیں چھوٹے گی، کیونکہ گجرات میں نریندر مودی ’میاں مشرف‘ کے سہارے انتخابات جیتنے کے عادی ہوچکے تھے۔ لیکن بہار کے ووٹروں سے یہ امید ضرور کی جاسکتی ہے کہ وہ ریاست اور ملک کی بھلائی کے لیے ایسی زبان بولنے والوں کا منھ بند کرانے میں کامیاب ہونگے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *