حیدرآباد سینٹرل یونیورسٹی کے حالات کومعمول پر لانے کا مطالبہ

ایچ سی یو میں غیراعلانیہ ایمرجنسی ہے: ایس ڈی پی آئی

????????????????????????????????????

نئی دہلی، ۲۳؍ مارچ ( پریس ریلیز): سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی )کے قومی ترجمان ایڈووکیٹ شرف الدین احمد نے میڈیا کو جاری کردہ بیان میں حیدر آبادسینٹرل یونیورسٹی پر مسلط کیے گئے حالات پر گہری تشویش کا اظہا ر کرتے ہوئے کہا ہے کہ یونیورسٹی میں پانی، بجلی اور انٹرنیٹ سروس کو روک دیا گیا ہے، نیز ہاسٹل کے کمروں میں مقید طلباء کو خوراک اور ضروریا ت زندگی کے لوازمات نہیں دیے جارہے ہیں۔ پولس اہلکار جو ہاسٹل کے احاطہ میں پہرہ دے رہے ہیں،وہ ان مقید طلبہ کے سامنے شاہانہ کھانا کھارہے ہیں۔ یونیورسٹی میں غیر اعلانیہ ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے اور طلبہ تک رسائی حاصل کرنے کے ساتھ ہی طلبہ کو باہر نکلنے پر مکمل پابندی عائد کردی گئی ہے۔ پولس مظالم میں متعدد طلبہ زخمی ہوئے ہیں اور ان میں مخصوص تعدادکوخفیہ مقام پر رکھا گیا ہے اور سی آر پی سی کی دفعہ ۵۰؍اور۵۰ ؍اے میں دیے گئے طریقہ کار کی پیروی کے بغیر انہیں گرفتار کیا گیا ہے۔ طالب علموں کو صرف اس کی وجہ سے سبق سکھایا جارہا ہے کہ انہوں نے کچھ شکایات اورمسائل حل کرنے کا پرزور مطالبہ کیا تھا۔
شرف الدین احمد نے انتظامیہ اور پولس پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے سیاسی آقاؤں کے اشاروں پر ناچ رہے ہیں اور ایسے طلبہ کے ساتھ انتقام لے رہے ہیں جو ریسرچ اسکالر ، سمجھدار اور ملک میں اپنے حقوق و فرائض کو اچھی طرح جانتے ہیں۔ ان طالب علموں سے شہری آزادی اور بنیادی حقوق کو چھین لیا گیا ہے او رایچ سی یو میں قانون کی کوئی حکمرانی کا کوئی وجود میں نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس اعلیٰ تعلیمی مرکزمیں بنیادی حقوق انسانی کی شدیدخلاف ورزی ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایس ڈی پی آئی مطالبہ کرتی ہے کہ ایچ سی یومیں بغیر کسی تاخیر کے فوری طور پر حالات کو معمول پر لایا جائے اور طلبہ کی مکمل آزادی کو یقینی بنایا جائے ۔ ساتھ ہی ایچ سی یو کے وائس چانسلر کو احاطے سے فوری طور پر ہٹایا جائے اور مجرموں پر قانون کے متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا جائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *