سیاست کے اثرات سے ہماری عدلیہ بھی محفوظ نہیں ہے

جے این یو کے آزادی اسکوائر پر مشہور وکیل سنجے ہیگڑے کا اظہار خیال
20160322_165711نئی دہلی،۲۳؍ مارچ (نامہ نگار)ملک میں اظہار رائے کی آزادی کے حوالے سے جو نئی بحث شروع ہوئی ہے، اس کے مرکز میں ان دنوں جواہرلعل نہرو یونیورسٹی ہے۔ یہاں سماج کے مختلف شعبہ سے تعلق رکھنے والے افراد آرہے ہیں اور آزادی کے ساتھ اپنے خیالات کا اظہار کررہے ہیں۔ اس میں دونوں جانب کے لوگ شامل ہیں۔اسی کڑی میں معروف وکیل سنجے ہیگڑے بھی ۲۲؍ مارچ کو جے این یو کیمپس پہنچے۔ یہاں انہوں نے جے این یو برادری سے خطاب کرتے ہوئے کہا :’میں یہاں آج ایک وکیل کے طور پر جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کی حمایت میں آیاہوں، جے این یوایک چھوٹا ہندوستان ہے،جو مختلف مذاہب ،زبان اور تہذیبوں کا حامل ہے،اور یہی اس کی منفرد شناخت ہے،ہمارا دستور ایک جامع دستور ہے جس نے اختلاف رائے کو جگہ دی ہے،بھارت ماتا کی جے کا مطلب میرے نزدیک ایک خاص تصویراور مورت کی جے نہیں ہے،بلکہ اس کا مطلب میری نظر میں کشمیر سے لے کر منی پور تک کے مظلوم قبائل اور لوگوں کی جے ہے،ان کی جے ہے جو نیوکلیرپلانٹ کے خلاف لڑے ہیں،میں پٹیالہ کورٹ میں وکیلوں کی طرح لوگوں کے خلاف نہیں بلکہ لوگوں کے حق میں لڑتاہوں۔‘
سنجے ہیگڑے نے آزادی کے حوالے سے جے این یو ٹیچرس ایسوسی ایشن کی طرف سے چلائی جارہی کلاس میں لیکچر دیا۔ان کا موضوع تھا ’’آزادی اور ہمار ا دستور‘‘۔ طلبہ کے جم غفیر سے مخاطب ہوتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمارا دستور بہت انقلاب اور قربانی کے بعد معرض وجود میں آیاہے،اس کی تمہید آزادی کا اعلان کرتی ہے،یہ دنیاکا سب سے لمبا دستور ہے،اس دستور نے ہمیں کچھ بنیادی ذمہ داریاں دی ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ ہم سچ کا دامن کسی حالت میں نہ چھوڑیں۔ملک کے موجودہ حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گاندھی جی نے اس لیے آزادی کی تحریک میں حصہ نہیں لیا تھا کہ سفید حاکموں کی بدلے سانولے ہندوستانیوں پر حکومت کریں،بلکہ اس لیے تاکہ اس وطن میں فخر سے سر اونچا ہو، اور ذہن ودماغ بغیر کسی خوف کے آزاد ہو،مگر آزادی کے بعد معاملہ بدل گیاہے۔ حکومت پر سوال کرنا دستور کی خلاف ورزی سمجھی جانے لگی ہے۔ عدالت کے کئی فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سیاست کے اثرات سے اب ہماری عدلیہ بھی محفوظ نہیں ہے۔دستور آزادی عطا کرتا ہے،مگر سیاسی جماعتیں مسلسل اس کا گلاگھونٹ رہی ہیں،جو بالکل غلط ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *