مالیا کے مسئلے پر شیو سینا بھی بی جے پی سے ناراض

Shiv Sena Logo

نئی دہلی، ۱۴ مارچ: وجے مالیا کے ملک سے بھاگ جانے کے مدعے پر کانگریس سمیت تمام اپوزیشن پارٹیاں تو بی جے پی کو گھیر ہی رہی ہیں، آج این ڈی اے میں شامل اس کی حلیف پارٹی شیو سینا بھی اس معاملے میں بی جے پی کے خلاف کھل کر سامنے آ گئی ہے۔ شیو سینا نے بی جے پر حملہ بولتے ہوئے کہا ہے کہ اگر موجودہ حکومت وجے مالیا کو بیرونی ملک سے واپس نہیں لا سکتی، تو وہ داؤد ابراہیم کو کیسے لائے گی۔

شو سینا لیڈر سنجے راؤت نے نیوز ایجنسی اے این آئی کو بتایا کہ ’’پہلا سوال تو یہی ہے کہ للت مودی اور وجے مالیا جیسے لوگوں کو ملک سے باہر جانے کی اجازت کیسے ملی؟ ہم نے باہری ملکوں میں بہت سی ایسی ایجنسیاں قائم کر رکھی ہیں، جو ایسے لوگوں کا پتہ چلا سکتی ہیں۔ یہ تو پورے سسٹم کی ناکامی ہے اور اس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے کہ مالیا کتنا طاقتور آدمی ہے۔‘‘

انھوں نے مزید کہا کہ مرکزی حکومت اس معاملے میں پوری طرح ناکام دکھائی دے رہی ہے۔ ایک طرف تو اس نے داؤد ابراہیم کو واپس لانے کے لمبے چوڑے دعوے کیے تھے اور اب وہ ہندوستانی شہری کو بھی ملک لانے میں ناکام ہے۔

اپنے اوپر بڑھتے ہوئے دباؤ اور ٹی وی چینلوں پر حملہ کرتے ہوئے وجے مالیا نے گزشتہ روز کہا تھا کہ وہ ملک سے فرار نہیں ہے، بلکہ ایک تاجر ہونے کے ناطے اپنے کاروباری سفر پر ملک سے باہر گیا ہوا ہے۔ اس نے یہ بھی کہا تھا کہ جن بینکوں نے بھی اسے قرض فراہم کیے، انھوں نے تمام چیزوں کا معائنہ کرنے کے بعد یہ قرض فراہم کیے۔ حالانکہ سنڈے گارجین میگزین کو دیے گئے اپنے انٹرویو میں مالیا نے کہا تھا کہ فی الحال اسے اپنے ہی ملک میں ایک مجرم قرار دیا جا چکا ہے، لہٰذا اِس وقت اس کا ملک واپس جانا بہتر نہیں ہوگا۔

انٹرویو میں اس نے کہا ہے کہ ’’میرے خلاف لک آؤٹ نوٹس تو پچھلے سال ہی جاری کر دیا گیا تھا، لیکن میں ’فرار‘ نہیں ہوا۔ اب مجھے ایک مجرم کے طور پر کیوں پیش کیا جا رہا ہے؟ قرض کے معاملے میں اگر کوئی گڑبڑی ہوتی ہے، تو یہ تجارتی معاملہ ہے۔ بینک جب قرض دیتے ہیں، تو انھیں معلوم ہوتا ہے کہ اس میں خطرات لاحق ہوتے ہیں۔ خود ہمارا کاروبار بہتر چل رہا تھا، لیکن اچانک ہماری یہ حالت ہو گئی۔‘‘

مالیا نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا ہے کہ وہ ملک واپس لوٹنا چاہتا ہے، لیکن چونکہ بعض ٹی وی چینلوں کے ذریعہ اسے چونکہ مجرم قرار دے دیا گیا ہے، اس لیے اسے خوف ہے کہ اسے اپنی بات رکھنے کا موقع نہیں دیا جائے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *