اعتراف گناہ بدتر از گناہ

 قلم گوید

اسفر فریدی

وزیر اعظم نریندر مودی کی سربراہی میں جب سے مرکز میں بی جے پی برسر اقتدار آئی ہے، پابندی پابندی کھیل رہی ہے۔ کبھی کبھی وہ دوسرے کاموں میں مصروف ہوجاتی ہے تو پابندی کا یہ کھیل پارٹی کے حامی اور کارکنان کرتے ہیں۔ مرکزی حکومت اور اس کارندوں نے گذشتہ ڈھائی سال کے دوران پابندیوں کا جو کھیل کھیلا ہے، اس کی ڈھیر ساری مثالیں موجود ہیں۔ لیکن تازہ واقعہ ہندی نیوز چینل این ڈی ٹی وی انڈیا پر پابندی کے فیصلے کا ہے۔وزارت اطلاعات و نشریات نے کہا کہ نیوز چینل پر پابندی کا فیصلہ مرکزی حکومت کی بین وزارتی کمیٹی کی سفارش کی بنیاد پر لیا گیا۔ وزیر اطلاعات ونشریات وینکیا نائیڈو نے کہا کہ پٹھان کوٹ فوجی ہوائی اڈہ پر ۴؍جنوری کو ہوئے دہشت گردانہ حملوں کی رپورٹنگ کے دوران این ڈی ٹی وی انڈیا نے حساس تفصیلات کو اجاگر کیا تھا۔ اس سے ہوائی اڈہ پر دہشت گردانہ حملوں میں شامل دہشت گرد یا پھر بہت دور بیٹھ کر ان دہشت گردوں کو ہدایت دینے والے فائدہ اٹھا سکتے تھے۔ وزارت اطلاعات ونشریات نے ۲؍نومبر کو این ڈی ٹی وی ایک دن کی پابندی لگانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ فیصلہ قومی سیکورٹی مفاد میں لیا گیا ہے۔ حکومت کے اس فیصلے کے خلاف پہلے خود این ڈی ٹی وی نے مورچہ سنبھالا اور پابندی پر نظر ثانی کرنے کی اپیل کی۔ میڈیا سے وابستہ مختلف تنظیموں اور اس سب سے زیادہ عوام کے ایک بڑے طبقے نے صدائے احتجاج بلند کیا۔ این ڈی ٹی وی اس معاملے کو سپریم کورٹ بھی لے گیا۔ یہاں حکومت کے فیصلے کا دفاع کرنے پہنچے اٹارٹی جنرل نے عدالت عظمیٰ کو بتایا کہ این ڈی ٹی وی پر ایک دن کی پابندی لگانے کے فیصلے پر نظر ثانی کی جارہی ہے۔ اس کے بعد سپریم کورٹ نے اس معاملے کی سماعت کے لیے پانچ دسمبر کی تاریخ طے کی۔ یہ واقعہ سات نومبر کا ہے۔ اسی دن حکومت نے این ڈی ٹی وی انڈیا پر ایک دن کی پابندی لگانے کے اپنے فیصلے کو معطل کردیا۔ اس کے نتیجے میں این ڈی ٹی وی کی نشریات ۹؍نومبر کو بھی جاری رہی۔ لیکن غور طلب ہے کہ حکومت نے اپنے اس آمرانہ فیصلے کو منسوخ نہیں کیا ہے۔ گویا وہ سپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظار کررہی ہے۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ اگر حکومت کے حق میں آیا تو پھر ملک میں میڈیا کے ساتھ کیا کچھ کیا جائے گا، اس کا اندازہ لگانا بہت زیادہ مشکل نہیں ہے۔ دراصل مرکز میں جو افراد اور سیاسی جماعت برسر اقتدار ہیں وہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے پروردہ ہیں۔ وہ آرایس ایس  کی پالیسی کے مطابق کام کرتے ہیں۔ آرایس ایس ملک پر اپنے نظریات کو تھوپنے کے لیے طرح طرح کے حربے اپناتی رہتی ہے۔اس کے تحت کبھی محمد اخلاق کا قتل ہوتا ہے، کبھی بیف پر پابندی، کبھی نیوز چینل کی نشریات پر روک اور کبھی ایک ساتھ آٹھ آٹھ افراد کا انکاؤنٹر! اور اب ۵۰۰اور ہزار کے کرنسی نوٹوں پر پابندی!

مرکزی حکومت اور اس کی ہمنوا جماعتوں کے اس کھیل کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ ملک کے زیادہ تر لوگ خاموش رہتے ہیں۔ ان کی بے حسی اور مایوسی ملک پر مخصوص نظریہ کو تھوپنے کی سازش سے بھی زیادہ نقصاندہ ہے۔ خاص طور سے ہندوستان جیسے جمہوری ملک میں عوام سے یہ امید کی جاتی ہے کہ وہ اپنے حقوق کی پامالی کرنے والوں کے خلاف سراپا احتجاج بن جائیں گے۔ لیکن یہاں تو حال یہ ہے کہ حکومت بنیادی حقوق کو پیروں تلے روندنے کا اعلان کرتی ہے، لوگوں سے ان کے جینے کا حق چھیننے کے لیے ڈرامے کرتی ہے، اس سب کے باوجود ہر طرف قبرستان جیسا سناٹا پسرا رہتا ہے۔ اگر کہیں کوئی احتجاج ہوتا ہے بھی تو اس میں مٹھی بھر طلبا اور سماجی کارکنوں کے علاوہ کوئی نظر نہیں آتا۔ حد تو یہ ہے کہ حکومت کے فیصلوں اور غیرآئینی اقدامات سے براہ راست متاثر ہونے والے افراد بھی خاموشی کے ساتھ سب کچھ برداشت کرلیتے ہیں۔ دوسرے تو اس طرح خاموش رہتے ہیں جیسے عوام مخالف پالیسیوں اور اقدامات کی آنچ ان تک نہیں پہنچے گی۔ عوام کا یہ رویہ ملک وملت کے حق میں درست قرار نہیں دیا جاسکتا۔ انہیں اتنی جلدی مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ انہیں بس اپنے رویے میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔ انہیں اپنے محدود دائرے سے نکل کر کسی بھی مسئلے کو ملک گیر سطح پر اور سبھی کو نظر میں رکھ کر دیکھنا ہوگا۔ اب تک وہ خانوں میں بٹ کر مسائل کو دیکھنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ اترپردیش کے دادری میں محمد اخلاق کا قتل کیا گیا تو اس کے خلاف ملک گیر سطح پر صدائے احتجاج بلند نہیں ہوا۔ منی پور کی ایک مہینہ سے زیادہ عرصے تک ناکہ بندی کی گئی تو ملک کے دوسرے کونے میں رہنے والے بہت سے لوگوں کو اس کا پتہ بھی نہیں چلا۔ اسی طرح جموں و کشمیر کے معاملات سے ہم الگ تھلگ پڑے ہوئے ہیں۔ بھوپال میں انکاؤنٹر ہوا، اور ہم نے پریس بیانیہ جاری کرکے اپنا فریضہ ادا کردیا۔ این ڈی ٹی وی انڈیا پر پابندی لگانے کا اعلان کیا گیا اور عوام کیا پوری صحافتی برادری بھی اس کے خلاف احتجاج کرنے میں ناکام رہی۔ ہماری یہ حالت اس وقت ہے جبکہ ایک ایک کرکے سب کے پر کترے جارہے ہیں۔ وہ تو خیر کہیے کہ حکومت اور اس کو چلانے والوں کو عوام کی طاقت کا اندازہ ہے، اس لیے اگر بہت کم لوگ بھی احتجاج کرتے ہیں، تب بھی اس کا اثر ہوتا ہے۔ این ڈی ٹی وی انڈیا پر پابندی کو معطل کرنے کے حکومت کے فیصلے کو اسی تناظر میں دیکھنا چاہیے۔ اس کے ساتھ ہی حکومت نے اعتراف گناہ بدتر از گناہ کی مثال بھی دہرا دی ہے۔ ابھی اس سے یہ سوال پوچھا ہی جانا تھا کہ جب این ڈی ٹی انڈیا نے قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کا کام کیا تھا تو پھر اس کی نشریات پر پابندی کو معطل کیوں کیا گیا؟ اس سے بھی بڑا سوال یہ ہے کہ قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے والوں کو صرف ایک ہی دن کی سزا کیوں؟ زندگی بھر کی سزا کیوں نہیں؟ اور تیسرا بڑا سوال یہ کہ جب دوسرے ٹی وی چینلوں نے بھی اسی طرح کی خبریں نشر کی تھیں، تو این ڈی ٹی وی انڈیا ہی کو سزا دینے کا کیا مطلب ہے؟ لیکن جب تک صحافتی برادری اور عوام مرکزی حکومت سے یہ اور ایسے ہی دوسرے سوالات کرتے، تب تک وزیر اعظم نریندر مودی نے اقتصادی میدان پر ایک نیا کھیل شروع کردیا۔ ملک میں ۹؍نومبر سے ۵۰۰؍اور ہزار روپے کے پرانے کرنسی نوٹوں کے استعمال پر پابندی لگانے کا اعلان کردیا۔ کہا گیا کہ اس سے کالا دھن جمع کرنے والوں کا پردہ فاش ہوگا۔ ملک کی معیشت کو متاثر کرنے والے کالے دھن کا صفایا ہوگا۔ لیکن کہیں سے کوئی سوال نہیں ہورہا ہے کہ اس فیصلہ کو نافذ کرنے سے پہلے دوسرے کرنسی نوٹوں کی سپلائی کیوں نہیں کی گئی اور اس سے بھی اہم سوال یہ کہ ۲۰۰۰؍روپے کے کرنسی نوٹ جاری کرنے کا کیا مطلب ہے؟ کیا اس سے یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ ہماری معیشت اب رینگ بھی نہیں رہی ہے بلکہ وہ گھٹنے ٹیکنے کے قریب پہنچ چکی ہے۔ اسی کے ساتھ ہی ایک بڑا سوال یہ بھی ہے کہ کیا کالے دھن کے بڑے کھلاڑیوں نے ملک کے اندر ہی اپنی رقم چھپا رکھی ہے؟ ملک کا انتظام چلانے کے لیے حکومت کو فیصلے لینے کا پورا حق حاصل ہے، لیکن جمہوری نظام میں عوام کو ان فیصلوں پر اپنی رائے رکھنے اور مخالفت کرنے کا بھی حق حاصل ہے۔ حکومت تو اپنی من مرضی کا فیصلہ لے رہی ہے، لیکن عوام اپنے حق کا استعمال نہیں کرپارہے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *