اردو اسکولوں کا وجود خطرے میں: سید ارشد

                                                       محمد سہسرامی

                        سہسرام :

سہسرام شہر میں اردو پرائمری اور مڈل اسکولوں کے وجود کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔ اساتذہ کی جو جگہ اردو کے لیے مخصوص ہوتی ہے اگر اسکول نہیں ہوں گے تو وہ بھی ختم کر دی جائےگی۔ معاملہ یہ ہے کہ شہر میں جتنے بھی سرکاری اردو مڈل اسکول اور  پرائمری اسکول ہیں ان کے پاس اسکول کی اپنی عمارت نہیں ہے۔ سرکار نے ویسے تمام اسکولوں کو یا تو کسی دوسرے اردو مڈل اسکول کے یا ہندی اسکولوں کے ساتھ جوڑنے کا نادر شاہی فرمان جاری کر دیا ہے لہذا ایسے تمام اسکولوں میں درس و تدریس متاثر ہو رہی ہے۔ بچوں کو دوسرے اسکول میں پڑھنے جانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے کیونکہ جوڑے گے اسکولوں کو صبح سات بجے سے ہی اسکول جانا پڑتا  ہے جو پرائمری اسکول کے بچوں کے لیے پریشان کن ہے۔ یہ باتیں معروف سماجی کارکن سید ارشد احمد نے کہیں۔ اقلیتوں کے مسائل پر دو ٹوک بات کرنے کے لیے مشہور سید ارشد نے کہا کہ ایک جانب اردو کے فروغ کی بات ہوتی ہے تو دوسری طرف اسے مٹانے کی سازش ہورہی ہے۔انہوں نے اس سازش کو ناکام بنانے کے لیے ملت کے بہی خواہوں سے آگے آنے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن اسکولوں کا وجود اپنی عمارت نہیں ہونے کے سبب خطرے میں ہے، انہیں بچانے کے لیے برادران ملت سے زمین ہدیہ کرنے کی درخواست کی۔ سید ارشد احمد نے کہا کہ اس کے لیے مقامی سنی اوقاف کمیٹی کی بیکار پڑی زمین کو بھی استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ویسے بھی سنی اوقاف کمیٹی قبرستان کی زمین کو باغ بنا کر فروخت ہونے پر خاموش تماشائی بنی رہتی ہے تو کم از کم اسکولوں کے لیے زمین مہیا کراکر ایک نیک کام تو کر ہی سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایسا نہ ہوا تو نہ اردو کی تعلیم ہی دی جاسکے گی  اور نہ ہی اردو اساتذہ کی کہیں تقرری کی گنجائش ہوگی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *