فردینہ عادل آسام کی پہلی مسلم خاتون آئی ایس بنی

(گوہاٹی(نمائندہ

پہلی سیڑھی پر قدم رکھ ،آخری سیڑھی پر آنکھ
منزلوں کی جستجو میں رائیگاں کوئی پل نہ ہو

محنت کبھی رائیگاں نہیں جاتی‘کامیابی  ان کے ہی  قدم   چومتی ہے جو حصول مقصد کے لیے  بے تھکان جدو جہد اور محنت کرتے ہیں۔ حصول علم کا جنون، سخت محنت اور اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے کی جانے والی جدوجہد یقیناً ضرور کامیاب ہوگی اور آپ کو اپنی منزل مل ہی جائے گی۔ ہندوستان کی ریاست آسام کی ایک نوجوان، محنتی اور با ہمت لڑکی نے ۳ مئی 2013 کو ایک کرشمہ کر دکھایا۔ اس لڑکی کا نام ام فردینہ عادل ہے۔ فردینہ نے وہ کارنامہ کر دکھایا جو اب تک اس ریاست کی کسی مسلم طالبہ نے نہیں کیا تھا وہ2013 میں آئی اے ایس کے لیے منتخب ہوئیں۔ اس طرح فردینہ عادل کو ملک کی آزادی کے 66 سال بعد اآسام سے آئی اے ایس منتخب ہونے والی پہلی مسلم خاتون کا اعزاز حاصل ہوا۔ فردینہ اب اس شمال مشرقی  ریاست آسام کی مسلم طالبات کے لیے  ایک آئیڈیل بن چکی ہیں۔ انہوں نے ذاتی دلچسپی، محنت اور عزم کے ذریعہ اپنے مقصد میں کامیابی حاصل کی۔ گوہاٹی شہر کے ہٹی گاؤں علاقہ کی رہنے والی ام فردینہ عادل نے2012  کے سول سروس امتحان میں319واں رینک  حاصل کیا۔ یو پی ایس سی کی جانب سے منتخب(آئی اے ایس) امیدواروں کی فہرست کا اعلان کیاتو اس میں فردینہ کا بھی نام شامل تھا۔ آئی اے ایس کیلئے منتخب ریاست کی اس اولین مسلم خاتون کو ای آر ڈی فاونڈیشن اور دیگر تنظیموں کی جانب سے تہنیت پیش کی تھی۔ فاونڈیشن کے چیرمین مقبول حق نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فردینہ عادل نے جو تاریخ رقم کی ہے وہ قوم کیلئے باعث مسرت ہے اور امید ہے کہ ریاست کی مسلم طالبات فردینہ کو اپنا آئیڈیل بناتے ہوئے آئی اے ایس اور دیگر مسابقتی امتحانات کی تیاری کیلئے آگے آئیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس شمال مشرقی ریاست نے کئی اہم قائدین کو جنم دیا ہے۔ ان میں فخر الدین علی احمد خاں بھی شامل ہیں۔ جو صدر جمہوریہ ہند کے جلیل القدر عہدہ پر فائز ہوچکے ہیں۔ ملک کو پہلی مسلم خاتون چیف منسٹر بنانے کا اعزاز آسام کو ہی حاصل ہے۔ انورا تیمور نہ صرف آسام بلکہ ملک کی پہلی خاتون مسلم چیف منسٹر تھیں مگر ملک کی آزادی کے66سے زائد برس کے بعد ریاست کی پہلی ہونہار طالبہ فردینہ عادل آئی اے ایس کیلئے منتخب ہوئیں۔ گوہاٹی شہر کے ڈیزنی لینڈ اسکول اور کاٹن کالج سے تعلیم حاصل کر چکی فردینہ نے پہلی کوشش میں ہی آئی اے ایس کا امتحان کامیاب کیا ہے۔ فردینہ کا کہنا ہے کہ وہ روزآنہ6تا7گھنٹے پڑھتی تھیں۔ ان کے علم کے حصول کا اہم ذریعہ اخبارات اور وکی پیڈیا تھے ان دو ذرائع سے اسٹیڈی میٹریل حاصل کیا کرتی تھیں۔ فردینہ اس عظیم کامیابی کو والدین کی دعاؤں کا نتیجہ قرار دیا اور کہا کہ انہیں بچپن سے آئی اے ایس بننے کی خواہش تھی اپنی اس خواہش کی تکمیل کیلئے وہ ‘خوب محنت کی جس کا صلہ مجھے ملا ہے اور میں اب اللہ کے فضل اور والدین کے دعاؤں کے نتیجہ میں آئی اے ایس آفیسر بن چکی ہوں۔ میرا ایک اور خواب ہے جسے پورا کرنا چاہتی ہوں۔ ہندوستان کو ناپاکی سے پاک کرنا میرا مقصد ہے میں اس مقصد کو حاصل کر کے ہی رہوں گی۔ فردینہ نے کہا کہ اگرچیکہ وہ‘ آئی اے ایس آفیسر بن چکی ہیں مگر اس کے باوجود سماجی بہبود کی سرگرمیوں کو بھی انجام دیتی رہیں گی۔ آسام کے شہر گوہاٹی میں23 مارچ 1988کو پیدا ہونے والی فردینہ نے ڈیزنی اسکول سے دہم اور کاٹن کالج سے بارہویں کا امتحان کامیاب کرنے کے بعد ماڈی انسٹیٹیوٹ آف ٹکنا لوجی اینڈ سائینس سے انجینئرنگ کی تکمیل کی۔ انہوں نے مسلم طالبات کو مسابقتی امتحانات میں شرکت کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ سیول سرویسس میں مسلم امیدواروں بالخصوص مسلم خواتین کا تناسب بہت ہی کم ہے۔آسام سے ایک مسلم لڑکی کو آئی اے ایس آفیسر بننے کیلئے 66سال کا عرصہ لگا ہے۔ جو ایک اچھی مثال نہیں ہے۔ مسلم طلبا و نوجوانوں میں شعور کا فقدان ہے پہلے انہیں باشعور بنانے کی ضرورت ہے_

Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *