چینی مل سے پریشان ہیں بگہا کے گنا کسان


بگہا، ۲۳؍اکتوبر:بہار میں جو چند ایک صنعتی کاروبار باقی ہے ، ان میں چینی مل بہت اہم ہیں۔ لیکن کسانوں کی زندگی میں کبھی مٹھاس لانے والی یہی چینی ملیں اب ان کی پریشانی کا سبب بن رہی ہیں۔ کم سے کم ریاست کے بگہا بلاک کے کسانوں کی باتوں سے تو یہی محسوس ہوتا ہے۔  بگہا کے کسانوں کا الزام ہے کہ یہاں ریلوے اسٹیشن کے قریب جو تروپتی شوگر مل ہے، وہ مقامی کسانوں کے ساتھ سوتیلا برتاؤ کرتی ہے۔ ان کے مطابق چینی مل کے ذمہ داران باہر سے آئے بچولیوں اور دلالوں کے ساتھ زیادہ اچھا برتاؤ کرتے ہیں۔ اس بلاک کے سیمرا گاؤں کے بہت سے کسانوں نے تروپتی شوگر مل پر الزام لگایا کہ وہ مقامی کسانوں کی بجائے باہر سے آئے کاروباریوں اور دلالوں کا گنا پہلے خریدتی ہے اور ساتھ ہی ان کی قیمتوں کی ادائیگی بھی وقت پر کی جاتی ہے۔

chiniسیمرا کے ایک کسان شیوشنکر گپتا نے کہا کہ تروپتی چینی مل سے ہم مقامی کسانوں کو کوئی فائدہ نہیں مل رہا ہے۔ مل کے ذمہ داران ہم لوگوں کے ساتھ سوتیلا برتاؤ کرتے ہیں۔ جو گنا اترپردیش یا نیپال سے آتا ہے، اسے پہلے خریدا جاتا ہے اور ان کی پوری ادائیگی بھی وقت پر کردی جاتی ہے۔ لیکن ہمارا گنا بہت دنوں تک پڑا رہتا ہے۔ چینی مل کے ذمہ داران اسے آخری وقت میں سستے داموں میں خریدتے ہیں اور اس کی ادائیگی بھی سال دو سال میں تھوڑا تھوڑا کرکے کی جاتی ہے۔  سیمرا کے ہی ایک دوسرے کسان منوج کمار مشرا بتاتے ہیں:’’ کمپنی کے پاس تقریباً سبھی کسانوں کا بقایا ہے۔ لیکن کمپنی اس کی ادائیگی نہیں کررہی ہے۔ ہم اپنی پوری زمین پر گنا ہی کی کھیتی کرتے ہیں جسے بیچ کر اپنا گھربار چلاتے ہیں۔ لیکن مل مالکان کے رویہ سے ہماری اقتصادی حالت اچھی ہونے کی بجائے خراب ہی ہوتی جارہی ہے۔ کوئی دوسرا چارہ نہیں ہونے کی وجہ سے ہمیں اپنا گنا اونے پونے داموں میں ادھار ہی بیچ دینا پڑتا ہے۔‘‘

اس گاؤں کے ایک کسان صغیر انصاری تو چینی مل کے ذمہ داروں پر اور بھی شدید الزام لگاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے: ’’جب بھی کوئی کسان کمپنی کے خلاف آواز اٹھاتا ہے، اس کو کمپنی والے الگ سے بلاکر اس کے بقایا رقم کی ادائیگی کردیتے ہیں۔ لیکن جو کمزور کسان ہیں ، ان کی سننے والا کوئی نہیں ہے۔ اگر ایسا ہی چلتا رہا تو ہمیں بھوکا ہی مرنا ہوگا۔‘‘ تروپتی شوگر مل کے اعلیٰ اہلکار ایس این احمد نے کسانوں کے الزامات کے جواب میں کچھ بھی بولنے سے منع کردیا ۔ انہوں نے کہا:’’جب ہمارے بڑے صاحب آئیں گے تو آپ ان سے ہی پوچھ لینا۔‘‘ مل کے دوسرے اہلکار بھی اس بارے میں کچھ بولنے سے بچتے نظرآئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *