سعودی حکومت بدسلوکی کے الزامات کی جانچ کرائے: مفتی مکرم

نئی دہلی، یکم جنوری: مسجد فتحپوری دہلی کے امام مولانا ڈاکٹر مفتی محمد مکرم احمد نے آج نماز جمعہ سے قبل خطاب میں کہا کہ مذہب اسلام میں ظلم وتشدد تو کجا معمولی بدسلوکی اور ناانصافی کی قطعاً گنجائش نہیں ہے ، اس لیے سعودی عرب حکومت کو ہندوستانی کارکنوں اور مزدوروں کے ساتھ مبینہ طور پر

کیے جانے والے ظلم وتشدد کی جانچ کروانے کے ساتھ ہی اس مسئلہ کے ازالہ کے لیے مؤثر اقدام کرنا چاہیے۔
مفتی مکرم نے کہاکہ زمانۂ جاہلیت میں غلاموں کے ساتھ وحشیانہ برتاؤ روا رکھا جاتا تھا اور اس پر کوئی اعتراض بھی نہیں کرتا تھا لیکن مذہب اسلام نے زر خرید غلاموں کے ساتھ حسن سلوک کا جو پیمانہ قائم کیا اس کی مثال کسی دوسری تہذیب میں نہیں ملتی ۔انہوں نے نبی اکرم ﷺ کے زمانے کے ایک واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایک مرتبہ رسول پاک ﷺ کے پاس ایک صحابی آئے اور عرض کرنے لگے کہ میرے دو غلام ہیں وہ میری نافرمانی کرتے ہیں تو میں ان کو زد وکوب کرتا ہوں اس پر اللہ تعالی کے یہاں مجھ سے کوئی مواخذہ تونہیں ہوگا ؟اس کے جواب میں حضرت محمد ﷺ نے فرمایاکہ کیا تم نے قرآن نہیں پڑھا ؟اللہ تعالی فرماتا ہے ’اور قیامت کے دن ہم انصاف کے ترازو رکھیں گے اور کسی پر ذرا بھی ظلم نہیں ہوگا ‘‘۔ یہ سن کر وہ صحابی اللہ کے خوف سے

لرزنے کانپنے لگے اور عرض کیا اے رسول پاک میں اپنے دونوں غلاموں کو آزاد کرتا ہوں ۔
شاہی امام نے فرمایا کہ سعودی عرب میں کفیل کے ذریعہ مزدوروں کے ساتھ بدسلوکی اور ظلم و بدعنوانی کے الزامات لگ رہے ہیں ۔حکومت سعودیہ سے ہماری اپیل ہے کہ ان الزامات کی انکوئری کرائی جائے اور اگر مزدوروں کے ساتھ بد سلوکی ہورہی ہے تو ایسے مسائل کے حل کے فوری اقدام کیے جائیں۔انہوں نے کہا کہ ہم بھی کافی دنوں سے سن رہے ہیں کہ یہاں سے تومزدوروں کو کچھ وعدے کرکے لے جایا جاتا ہے لیکن وہاں پر ان کے پاسپورٹ ضبط کرکے کفیل ان کو قید کر لیتے ہیں اور ان پر دوسرے کاموں کا بوجھ ڈالتے ہیں حالانکہ جس وعدہ پر معاہدہ ہوا تھا اسی کا م پر ان کو رکھنا چاہیے ۔سعودی عرب میں اسلامی قوانین نافذ ہیں تو وہاں پر اس طرح کی بدسلوکی اور بد معاملگی افسوسناک ہے۔ اس کا سد باب ہونا چاہیے ۔دو روز سے اس طرح کی

خبریں ہندستانی میڈیا میں آرہی ہیں، یہ افسوس کی بات ہے ۔آئندہ اس طرح کی کوئی ناانصافی مزدور طبقہ کے ساتھ نہیں ہونی چاہیے ۔
فتحپوری مسجد کے امام مولانا مفتی مکرم نے وزیر اعظم کے دورۂ لاہور کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہاکہ ہندستان اور پاکستان دونوں ملکوں کے وزراء اعظم کا اس طرح بے تکلفی سے بغیر سابقہ پروگرم کے اچانک ملنا بہت اچھا ہے، اس تاریخی قدم کی ستائش ہونی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ سبھی سیاسی پارٹیوں کو اس دورہ پر خوشی کا اظہار کرنا چاہیے اور امید کرنی چاہیے کہ مستقبل میں دونوں ملکوں کے تعلقات مزید استوار ہوں گے ۔مفتی مکرم نے امیدظاہر کی کہ آئندہ

بھی اس طرح کے مناظر سامنے آتے رہیں گے ۔
جمعہ کی نماز سے پہلے تقریر کرتے ہوئے مولانا مفتی مکرم احمد نے مقبوضہ فلسطین کے حالات پر بھی روشنی ڈالی ۔ انہوں نے اسرائیلی حکومت کی طرف سے غرب اردن میں نئے مکانات کی تعمیر کے لیے منصوبہ بندی کیے جانے کی شدید مذمت کی ۔انہوں نے کہا کہ خبروں میں آرہا ہے کہ اسرائیل ۵۵؍ ہزار ۵۴۸؍ مکانات پر مشتمل ایک بڑی کالونی بنا رہا ہے جہاں پریہودیوں کے رہنے کے لیے بہت معقول جگہ ہو جائے گی۔ انہوں نے اسرائیل کی اس منصوبہ بندی کو سراسر ظلم قرار دیتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ فلسطین کی جگہ میں ناجائز طورسے مکانات کی تعمیر پر اسلامی ملکوں اور اقوام متحدہ (یواین او)کو اعتراض کرنا چاہیے اور اس منصوبہ کو رکوانا چاہیے ۔اس منصوبہ بندی سے حالات کے مزید خراب ہونے کا اندیشہ ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *