لڑائی سوچنے اور نفرت کرنے والوں کے درمیان ہے: اروندھتی رائے

نئی دہلی، ۱۵؍ مارچ (نامہ نگار) معروف مصنفہ اور سماجی کارکن اروندھتی رائے نے آج جواہرلعل نہرو یونیورسٹی طلبا یونین کے پرچم تلے منڈی ہاؤس سے پارلیمنٹ ہاؤس تک کے پیپلز مارچ کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں لڑائی دراصل دوطرح کے لوگوں کے درمیان ہے۔ اس لڑائی میں ایک طرف وہ لوگ ہیں جو نفرت کرتے ہیں، نفرت پھیلاتے ہیں اور دوسری جانب وہ لوگ ہیں جو سوچتے ہیں اور اپنی بات کہتے ہیں۔

اروندھتی رائے نے کہا کہ جب تک سوچنے والے ہیں سوال اٹھتے رہیں گے۔ کشمیر کے حوالے سے بھی بات ہوگی۔ افضل گرو کے ’قتل‘ کے حوالے سے بھی سوالات پوچھے جائیں گے۔ روہت ویمولاکے ’قتل‘ کا بھی حساب مانگا جائے گا ۔

انہوں نے کہا کہ ملک سے دشمنی اور وطن سے غداری کا الزام وہ لگارہے ہیں جو ملک کے وسائل کو ، یہاں کی ندیوں کو، یہاں کے جنگلات کو ، یہاں کے کانوں اور دوسرے قدرتی وسائل کو نجی کمپنیوں کے ہاتھ بیچ رہے ہیں۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ وہ لوگ انہیں ملک دشمن اور غدار وطن قرار دے رہے ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ ہماری ندیاں ہماری جان ہیں، انہیں کیوں بیچ رہے ہو، جو یہ کہتے ہیں کہ آدیباسیوں کو ان کے جنگلوں سے ان کے گھروں سے بے گھر نہیں کرو، جو لوگ اپنی دھرتی ، اپنی مٹی کی حفاظت کرنے اور اس کا سودا نہیں کرنے کی مانگ کررہے ہیں ،انہیں ہی ملک دشمن اور غدار وطن کہا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک حکومتوں کا رویہ نہیں بدلتا، لوگوں کے ساتھ انصاف نہیں ہوتا ، ہم یہ سوال اٹھاتے رہیں گے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *