دہلی میں’تازہ ترین نیوزگروپ’کی اولین میٹنگ

*دہلی میں’تازہ ترین نیوزگروپ’کی اولین میٹنگ*

*معززممبران کی موجودگی میں لئےگئےکئی اہم فیصلے،کارگزاری کی تلخیص اور رودادِمیٹنگ*

دہلی میں تازہ ترین گروپ کی میٹنگ میں شرکاء

دہلی… گزشتہ شب دہلی میں واٹس ایپ کے’تازہ ترین نیوزگروپ‘کےدہلی میں مقیم ممبران کی اولین خصوصی میٹنگ منعقد ہوئی۔اس موقع پر ملک میں جاری غیرمعمولی حالات،خاص طورپر ہجومی تشدد(موب لنچنگ)،مسئلہ کشمیراورروز افزوں اقتصادی تنزلی پرتشویش کا اظہار کیا گیا۔تازہ ترین گروپ کے ایڈمن شاہنوازبدرقاسمی نے  دہلی میں گروپ کی اس اولین میٹنگ کے انعقادپرمسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کے مختلف طبقات اور مختلف میدانوں میں کام کرنے والی شخصیات کا اتحادوقت کی اہم ضرورت ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ ہم تمام مکاتب فکر کو ایک ساتھ لے کر چلنے اور ملکی وملی مسائل کو مل کر حل کرنے میں یقین رکھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس گروپ میں مختلف قائدین اورمختلف میدانوں میں سرگرم شخصیات موجود ہیں اس لئے ملکی اور ملی معاملات پران شخصیات کا وقتاً فوقتاً مل بیٹھناضروری ہے۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ اس گروپ کا مجموعی طورپرکسی سیاسی جماعت سےکوئی تعلق نہیں لیکن ہم اپنے تمام قائدین کا احترام کرتے ہیں اس بات کی ضرورت محسوس کرتے ہیں کہ اپنے تمام قائدین کا تعاون کریں۔انہوں نے کہا کہ ہم فریق بن کر نہیں بلکہ رفیق بن کر کام کریں گے۔

واضح رہے کہ گروپ کے دہلی میں مقیم جو ممبران دہلی موجود تھے تقریباً ان سب نے شرکت کی اور جو دہلی سے باہر تھے انہوں نے اس میٹنگ کے انعقاد پر نہ صرف اطمینان کا اظہار کیا بلکہ ملکی وملی معاملات میں گروپ کے احساسات کی پیشگی تائیدکا بھی اعلان کیا۔اس نشست میں مولاناعامر رشادی،ڈاکٹرتسلیم رحمانی،مولاناعبدالرحمن عابد،مولاناساجدرشیدی،قاری اصغرعلی،شاہنوازبدرقاسمی، صحافی شکیل احمد،اشرف علی بستوی،شفیق الحسن،توصیف خان اور ایم ودودساجد نے شرکت کی۔جناب مولانامحمودمدنی، مولانااطہردہلوی،صحافی معصوم مرادآبادی،عبدالقادرشمس،ڈاکٹرخالدانور،محترمہ تسنیم کوثراورڈاکٹروسیم راشدسفرپرہونےاورمولانا عبدالحمیدنعمانی پہلے سےطے شدہ مصروفیت کے سبب شریک نہیں ہوسکے۔

 

میٹنگ میں مندرجہ بالا مسائل پرتمام شرکاء نے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور اپنی تجاویز پیش کیں۔تمام شرکاء نے اس پر اتفاق کیا کہ میٹنگ میں بحث کے دوران مسائل کے حل کے تعلق سے کتنی ہی متضاد آراء کااظہار کیا جائے لیکن جب میٹنگ میں کوئی رائے اور تجویزاتفاق رائے سے پاس ہوجائے تو پھر سب اس کی پابندی کریں گے اور اپنے اختلاف کا عمومی اظہار نہیں کریں گے۔تمام شرکاء نے یہ عہد بھی کیا کہ مسائل کے حل کے لئے الگ سے کوئی تنظیم یا جماعت نہیں بنائی جائے گی لیکن ایک پریشر گروپ کے طورپر اپنی سرگرمی کا دائرہ بڑھایا جائے گا۔یہ بھی طے ہوا کہ ملی مسائل کے حل کی کوششوں میں جس جماعت اور جمعیت کو بھی ہماری ضرورت پڑے گی ہم حاضر رہیں گے۔

ہجومی تشدد کو وقت کا سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا گیا اور اس کے حل لئے مختلف آراء سامنے آئیں۔میٹنگ میں اس امر پر اتفاق ہوا کہ ہجومی تشدد سے نپٹنے کے لئے تمام قانونی اور آئینی راستے اختیار کئے جائیں گے اور بچوں ونوجوانوں کو اس نئے رجحان کا سامنا کرنے اور اس کی حساسیت سے واقف کرانے کے لئےکچھ پرامن طریقے اختیار کئے جائیں گے۔اس کے لئے مساجد کے ائمہ،مدارس کے ذمہ داران اور عام مسلمانوں کو ساتھ لے کرگھرگھر  بیداری مہم چلائی جائے گی۔اس کے خدوخال طے کرنے کی ذمہ داری ڈاکٹرتسلیم رحمانی‘مولاناعبدالرحمن عابداورشاہنوازبدرکو دی گئی۔

میٹنگ میں اس امر پر بھی اتفاق ہوا کہ فرقہ وارانہ منافرت اور ہجومی تشدد کے خطرناک رجحان کے خلاف حکومت کو موثرتجاویز پیش کی جائیں گی اور اس کے لئے مرکزی وزیر داخلہ سے جلدملاقات کا وقت مانگا جائے گا۔ میٹنگ میں مسئلہ کشمیر پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔شرکاء نے دفعہ 370کی منسوخی کے بعد وہاں پیدا شدہ غیر معمولی حالات پر تشویش ظاہر کی اور کشمیری عوام کی عدیم المثال مشکلات پر غم وغصہ کا اظہار کیا۔میٹنگ میں طے ہوا کہ اس سلسلہ میں بھی حکومت وقت کو متوجہ کرنے کے لئے ایک میمورنڈم پیش کیا جائے گا۔جس کی جلدتیاری کے لئے ایک کمیٹی بنادی گئی ہے۔بعض شرکاء نے خیال ظاہر کیا کہ گروپ کے ایک وفد کو کشمیر کا دورہ کرنا چاہئے۔اس سلسلہ میں طے ہوا کہ چونکہ وہاں باہر سے جانےوا لے کسی بھی فرد یاگروپ کےلئے ابھی حالات سازگار نہیں ہیں اس لئے حکومت کے متعلقہ اداروں سے مل کر دورہ کے امکانات کا جائزہ لیا جائے۔میٹنگ میں کہا گیا کہ چونکہ اب دفعہ 370کے تعلق سے سپریم کورٹ متعدد پٹیشن کی سماعت کے لئے تیار ہوگئی ہے اس لئے اب عدالت عظمی کا فیصلہ آنے تک انتظار کیا جائے۔

میٹنگ میں یہ بھی طے ہوا کہ چونکہ گروپ کا دائرہ بہت وسیع ہے اس لئے ملک کے مختلف صوبوں،شہروں اورقصبوں میں بھی گروپ کے ممبران سے درخواست کی جائے گی کہ وہ بھی باہم مل بیٹھنے کی کوشش کریں اوراپنے اپنے علاقوں میں پریشر گروپ قائم کریں_

Facebook Comments
Spread the love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply