ترکی میں پہلی بین الاقوامی اردو ادب کانگریس اختتام پذیر

یہ بین الا قوامی سمینار ’مطالعہ ندیمیات‘ نئے در وا کرے گا: پروفیسر ارتضیٰ کریم
کانفرنس میں احمد ندیم قاسمی کی تفہیم کے لیے نئے پہلو سامنے آئے ہیں: ناہید قاسمی

انتالیہ، ترکی (پریس ریلیز ): ترکی کے معروف سیاحتی مقام انتالیہ میں انقرہ یونیورسٹی کی جانب سے منعقد پہلی بین الاقوامی اردو کانفرنس کا شاندار طریقے سے اختتام ہوا۔ آ خری اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے پرفیسر ارتضیٰ کریم (ڈائرکٹر، قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی) نے کہا ’’ یہ پہلی بین الا قوامی کانفرنس ’مطا لعہ ندیمیات ‘کے نئے دروا کرے گی۔ انقرہ یونیورسٹی کی یہ کوشش ہند و پاک میں بھی اپنے اثرات قائم کرے گی۔‘‘ پروفیسر ارتضیٰ کریم نے اس موقع پر اعلان کیا کہ احمد ندیم قاسمی پر پڑھے گئے مقالات کو قومی کونسل احمد ندیم قاسمی نمبر کی شکل میں اپنے سہ ماہی مجلہ فکر و تحقیق میں شائع کرے گی۔

پرفیسر ارتضیٰ کریم
پرفیسر ارتضیٰ کریم

اختتامی اجلاس کو خطاب کر تے ہوئے محترمہ ناہید قاسمی نے کہا کہ مجھے بے انتہا خوشی کا احساس ہورہا ہے کہ میں اپنے والد کے صد سالہ یوم پیدائش پر منعقدہ پہلی عالمی کانفرنس میں بہ نفس نفیس موجود رہی۔ کانفرنس میں احمد ندیم قاسمی کی تفہیم کے نئے نئے پہلو سامنے آئے ہیں۔
کانفرنس کی روح رواں انقرہ یونیورسٹی کی صدر شعبۂ اردو پروفیسر آسماں ہیلن آزکن نے بے حد جذباتی لہجے میں شرکا کا شکریہ اداکیا۔ معروف نقاد پروفیسر انوار احمد نے اس موقع پر کہا کہ ہم سب انقرہ یونیورسٹی کے شعبۂ اردو کے شکر گزار ہیں جس کے سبب ایک اتنا بڑا ادبی جشن منعقد ہو پایا۔ اصغر ندیم سید، پروفیسر انل کمار رائے اور پروفیسر شاہد اقبال کامران نے بھی اس موقع پر اظہار خیال کیا۔
آٹھویں اجلاس کی صدارت دہلی یونیورسٹی کے شعبۂ ہندی کے پروفیسر انل کمار رائے نے کی اور دہلی یونیورسٹی کے شعبۂ اردو کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر مشتاق احمد قادری نے ’ریاست جموں وکشمیر میں ترجمے کی روایت‘ پر اپنا مقالہ پیش کر تے ہوئے کہا کہ ہندوستان میں ترجمے کی روایت کو ریاست جموں و کشمیر کے دارالترجمہ نے خاصی تقویت عطاکی۔ مہاراجہ رنبیر سنگھ نے ریاست میں ترجمے کے کام کو دوام عطاکیا۔ ان کے علمی کارناموں کے سبب انہیں سرسید ثانی بھی کہا جاتا ہے۔
نویں اجلاس کی صدارت ڈاکٹر رجب درگن نے کی اور ڈاکٹر فرحت جبیں ورک نے ’کرنل مسعود اختر شیخ کے تراجم کا ترک پاک رشتوں پر اثر‘ میں کرنل مسعود کے ذریعہ ترکی کے ۳۲؍ ادیبوں کی کہانیوں کے ترجمے کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ حیدرآباد سے تعلق رکھنے والی پروفیسر انوپما (شعبۂ ہندی، انقرہ یونیورسٹی) نے ترکی اور ہندوستانی زبانوں کا تعلق کے موضوع پر مقالہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ اردو اور ہندی میں بے شمار الفاظ ترکی کے پائے جاتے ہیں۔ شلوار، چہرہ، کتاب، قلم جیسے بہت سے لفظ ہیں جو ترکی اور ہندوستان میں بولے جاتے ہیں۔ ڈاکٹر رجب نے دونوں مقالات کو بہتر قرار دیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *