وزیر اعظم الیکشن کے لیے گجرات کے لال بن گئے

نامہ نگار
احمد آباد
کل تک ہندوستان کے ۱۲۵ کروڑ عوام کی رٹ لگانے والے وزیر اعظم نریندر مودی گجرات اسمبلی الیکشن میں بی جے پی کو جتانے کے لیے مٹی کا لال ہونے کی دہائی دے رہے ہیں۔ وزیر اعظم نے گجرات کے کچھ ضلع میں واقع بھج میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کے دوران کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ میری سیاسی زندگی میں میرے اوپر کوئی داغ نہیں لگا ہے لیکن آپ باہر سے آ کر گجرات کے بیٹے پر بے بنیاد الزامات عائد کر رہے ہو جسے ریاست کے عوام کبھی معاف نہیں کریں گے۔ انہوں نے اس کے ساتھ ہی کہا کہ ہم نے چائے بیچی ہے ملک نہیں بیچا ہے۔ وزیر اعظم مودی نے دہشت گردی کے حوالے سے کہا کہ ممبئی میں دہشت گردوں نے بے گناہ لوگوں کا قتل کیا لیکن اس وقت کی کانگریس حکومت خاموش تماشائی بنی رہی جبکہ جموں و کشمیر کے اڑی سیکٹر میں ہوئے دہشت گردانہ حملوں کے بعد ہندوستان کے فوجیوں نے کنٹرول لائن کے اس پار جا کر سرجیکل اسٹرائک کیا اور اتنے دہشت گردوں کو مار گرایا کہ دوسرے دن اخبارات میں خبر شائع ہوئی کہ پاکستان ٹرک میں بھر کر لاشوں کو لے گیا۔
وزیر اعظم نے پیر کو گجرات میں چار انتخابی ریلیوں سے خطاب کیا۔ وہ بدھ کو بھی انتخابی مہم میں حصہ لیں گے۔ گجرات میں پہلے مرحلے میں ۹ دسمبر کو ووٹ ڈالے جائیں گے جبکہ دوسرے مرحلے میں ۱۴ دسمبر کو ووٹنگ ہوگی۔ ووٹوں کی گنتی ۱۸ دسمبر کو ہوگی۔ بی جے پی نے اپنے امیدواروں کی جو فہرست جاری کی ہے اس میں ۶۱ پسماندہ طبقات سے ہیں جبکہ طاقتور پاٹیدار سماج کے ۵۲ لیڈر ہیں۔ سمجھا جاتا ہے کہ ہاردک پٹیل کی قیادت میں ریزرویشن کا مطالبہ کرنے والے پاٹیدار سماج کو اپنے ساتھ بنائے رکھنے کی یہ بی جے پی کی حکمت عملی ہے۔ گجرات کی سیاست پر نظر رکھنے والے ماہرین کا ماننا ہے کہ روایتی طور پر بی جے پی کا ساتھ دینے والے پاٹیدار سماج کا ایک بڑا طبقہ حکمراں جماعت سے ناراض ہے۔ لیکن گجرات ہی سے تعلق رکھنے والے بی جے پی کے قومی صدر امت ساہ کا کہنا ہے کہ ان کی پارٹی کو پاٹیدار سماج کا ہمیشہ آشیرواد حاصل رہا ہے اور اس بار بھی وہ بی جے پی کو ہی آشیرواد دیں گے۔ گجرات کے انکلیشور میں رہنے والے احمد بھائی نے نیوز ان خبر ڈاٹ کام کو بتایا کہ بی جے پی کے خلاف زور دار تحریک چلانے کے باوجود پاٹیدار سماج کا بڑا طبقہ نریندر مودی کی ہی حمایت کرے گا۔ ادھر دیپک نام کے ایک صحافی نے بتایا کہ گجرات میں گذشتہ ۲۲ سالوں سے بی جے پی کی حکومت ہے۔ اس دوران نریندر مودی ۱۳ سال تک وہاں کے وزیر اعلٰی رہے۔ ان ۲۲ سالوں میں گجرات میں بہت کچھ ایسا ہوا جس میں بہت سے افراد کے خلاف تھانوں میں فائلیں تیار ہوئیں۔ ان میں گجرات کی بہت سی بااثر شخصیات بھی شامل ہیں اور وہ نہیں چاہیں گے کہ ان کی زندگی میں ایسی فائلوں کو کھولا جائے۔ اس لیے وہ ایک بار پھر اسی پارٹی کو حکومت سونپنا چاہیں گے جس نے ان فائلوں کو گرد میں دبنے کے لیے چھوڑ دیا ہے۔ اس سب کے علاوہ بی جے پی اور اس کے ساتھ میڈیا نے بھی پوری طاقت جھونک رکھی ہے جبکہ اپوزیشن کی طرف سے اکیلے راہل گاندھی کمان سنبھالے ہوئے ہیں۔ اپوزیشن پارٹیوں کے دوسرے لیڈران دور بیٹھ کر ہی بی جے پی اور نریندر مودی کو کوس رہے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *