نہیں رہے سابق ایم پی سید شہاب الدین

نئی دہلی، (نامہ نگار):
معروف مسلم رہنما اور سابق رکن پارلیمنٹ سید شہاب الدین کا ہفتہ کو نوئیڈا کے ایک اسپتال میں انتقال ہوگیا۔ وہ ۸۲؍ سال کے تھے۔ ان کی تدفین بعد نماز ظہر بستی حضرت نظام الدین کے قبرستان پنج پیران میں عمل میں آئی۔ آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے صدر نوید حامد نے بتایا کہ سید شہاب الدین نے ہفتہ کو صبح ۶؍ بج کر ۲۲؍ منٹ پر آخری سانس لی۔ موجودہ جھارکھنڈ ریاست کی راجدھانی رانچی میں ۱۹۳۵ء میں پیدا ہونے والے سید شہاب الدین نے اپنا کیریئر انڈین فارن سروسز کے ایک افسر کے طور پر شروع کیا اور جوائنٹ سکریٹری کے عہدہ تک اس شعبہ میں اپنی خدمات انجام دی۔ اس دوران انہوں نے بطور سفارتکار حکومت ہند کی نمائندگی کی۔ انہوں نے انڈین فارن سروسز کی ملازمت ترک کرکے سیاست میں قدم رکھا اور پارلیمنٹ کے لیے تین بار منتخب ہوئے۔ اس سے پہلے انہوں نے مشہور زمانہ شاہ بانو مقدمہ میں سپریم کورٹ کے فیصلہ کے خلاف مسلمانوں کو متحد کیا اور حکومت کو عدالت کے حکم کے برعکس قانون بنانے پر مجبور کیا۔ سید شہاب الدین کے اس موقف کو بہت سے حلقوں نے بعد کے دنوں میں تنقید کا نشانہ بھی بنایا اور یہ کہا گیا کہ حکومت نے شاہ بانو معاملہ کو متوازن کرنے کے لیے وزیر اعظم راجیو گاندھی کی قیادت والی کانگریس حکومت نے بابری مسجد کا تالا کھلوادیا۔ اسی کے ساتھ ہندو فرقہ وارانہ سیاست کے رجحان نے زور پکڑا اور بالآخر ۶؍ دسمبر ۱۹۹۲ء کو بابری مسجد شہید کردی گئی۔
سید شہاب الدین بابری مسجد ایکشن کمیٹی کے سربراہ بھی تھے۔ انہوں نے اس تحریک کی قیادت کی۔ جگہ جگہ جلسے جلوس کیے اور ملک کی سیاست میں مسلمانوں کے لیے ایک جگہ بنانے کی کوشش کی لیکن ان کے بعض ناقدین کہتے ہیں کہ اس سے ہندو اور مسلمانوں میں فرقہ وارانہ ذہنیت کے سیاستدانوں کو مضبوطی ملی جو مجموعی طور پر ملک کے لیے نقصاندہ ثابت ہوئی۔ اس سب کے باوجود شہاب الدین کی شخصیت اور اپنی باتوں کو دلائل کے ساتھ کہنے کے ان کے ہنر نے انہیں ملک میں وہ مقام دلایا جس کی وجہ سے ان کے مخالفین بھی ان کی بات کو سننے کے لیے مجبور ہوجاتے تھے۔ سید شہاب الدین ایک عرصہ تک آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے صدر بھی رہے۔ ان ہی کے دور صدارت میں یہ تنظیم دو حصوں میں منقسم ہوئی۔ انہوں نے انگریزی زبان میں ’مسلم انڈیا‘ نام سے ایک ماہانہ رسالہ بھی نکالا، لیکن درمیان ہی میں انہوں نے اس کو بند کردیا۔ اس کی وجہ سے مولانا وحیدالدین خان جیسے اسکالر سید شہاب الدین کو ایک ناکام سیاستداں کہنے لگے تھے۔ مولانا وحید الدین خان کا کہنا تھا کہ جو شخص ایک رسالہ تک کامیابی کے ساتھ نہیں نکال پایا وہ پوری ملت کی قیادت کیسے کرسکتا ہے۔ سید شہاب الدین کی ایک بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ جوتھے، جیسے تھے، اس کوانہوں نے کبھی چھپایا نہیں۔ان کے بارے میں دوسری بات یہ کہی جاتی ہے کہ وہ اپنے کام اور موقف دونو ں میں ایماندار تھے۔ اس کا اعتراف ان کے شدت پسند مخالفین بھی کرتے ہیں۔ بابری مسجد کی شہادت کے بعد شہاب الدین کو آہستہ آہستہ کنارے لگایا گیا اور اس کے لیے بھی مسلمانوں ہی کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔ سید شہاب الدین کے انتقال سے مسلم قیادت ہی نہیں مجموعی طور پر قومی سیاست اور لیڈرشپ کے میدان میں کتنا بڑا نقصان ہوا ہے، اس کااندازہ فی الحال لگانا بہت مشکل ہے۔ البتہ فی الوقت یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ سید شہاب الدین کی رحلت سے ایک خلا پیدا ہوگیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *