آل انڈیا ریڈیو پر وزیر اعظم کے ’من کی بات‘ کا متن

نئی دہلی،۲۸/ میرے پیارے ہم وطنو، نمسکار ! آپ ریڈیو پر میری ’من کی بات‘ سنتے ہوں گے، لیکن دماغ اس بات پر لگا ہوگا – بچوں کے امتحانات شروع ہو رہے ہیں، کچھ لوگوں کے دسویں، بارہویں کے امتحان شاید یکم مارچ کو ہی شروع ہو رہے ہیں۔ تو آپ کے ذہن میں بھی وہی چلتا ہوگا۔ میں بھی آپ کے اس سفر میں آپ کے ساتھ شریک ہونا چاہتا ہوں۔ آپ کو آپ کے بچوں کے امتحان کی جتنی فکر ہے، مجھے بھی اتنی ہی فکر ہے۔ لیکن اگر ہم امتحان کو دیکھنے کا اپنا طور طریقہ بدل دیں، تو شاید ہم فکر سے آزاد بھی ہو سکتے ہیں۔
میں نے پچھلی ’من کی بات‘ میں کہا تھا کہ آپ نریندر مودی ایپّ پراپنے تجربات، اپنی آراء مجھے ضرور بھیجیں۔ مجھے خوشی اس بات کی ہے – اساتذہ نے، بہت ہی کامیاب، جن کا کیریئر رہا ہے ایسے طالب علموں نے، ماں باپ نے، سماج کے کچھ مفکروں نے بہت ساری باتیں مجھے لکھ کر بھیجی ہیں۔ دو باتیں تو میرے دل کو چھو گئیں کہ سبھی لکھنے والوں نے موضوع کو برابر پکڑ کے رکھا۔ دوسری بات اتنی ہزاروں مقدار میں چیزیں آئیں کہ میں مانتا ہوں کہ شاید یہ بہت اہم موضوع ہے۔ لیکن زیادہ تر ہم نے امتحان کے موضوع کو اسکول کے احاطے تک یا خاندان تک یا طالب علم تک محدود کر دیا ہے۔ میری ایپّ پر جو تجاویز آئے، اس سے تو لگتا ہے کہ یہ تو بہت ہی بڑا، پورے ملک میں مسلسل طلبا کے ان موضوعات کا ذکر ہوتے رہنا چاہیے۔

میں آج میری اس ’من کی بات‘ میں خاص طور سے ماں باپ کے ساتھ، امتحان دہندوں کے ساتھ اور ان کے اساتذہ کے ساتھ باتیں کرنا چاہتا ہوں۔ جو میں نے سنا ہے، جو میں نے پڑھا ہے، جو مجھے بتایا گیا ہے، اس میں سے بھی کچھ باتیں بتاؤں گا۔ کچھ مجھے جو لگتا ہے، وہ بھی جوڑوں گا۔ لیکن مجھے یقین ہے کہ جن طلبا کو امتحان دینا ہے، ان کے لیے میرے یہ۲۵-۳۰ منٹ بہت مفید ہوں گے، ایسی میری رائے ہے۔

میرے پیارے طالب علم دوستو، میں کچھ کہوں، اس کے پہلے آج کی ’من کی بات‘ کی شروعات، ہم دنیا کے جانے مانے اوپنر کے ساتھ کیوں نہ کریں۔ زندگی میں کامیابی کی اونچائيوں کو حاصل کرنے میں کون سی چیزیں ان کے کام آئیں، ان کے تجربات آپ کو ضرور کام آئیں گے۔ ہندوستان کے نوجوانوں کو جن پرناز ہے، ایسے بھارت رتن جناب سچن تندولکر، انہوں نے جو پیغام بھیجا ہے، وہ میں آپ کو سنانا چاہتا ہوں:

’’ہیلو، میں سچن تندولکر بول رہا ہوں۔ مجھے پتہ ہے کہ امتحانات کچھ ہی دنوں میں شروع ہونے والے ہیں۔ آپ میں سے بہت سے لوگ پریشان بھی رہیں گے۔ میرا ایک ہی پیغام ہے آپ کو کہ آپ سے توقعات آپ کے والدین کریں گے، آپ کے اساتذہ کریں گے، آپ کے باقی کے خاندان کے افراد کریں گے، دوست کریں گے۔ جہاں بھی جائیں گے، سب پوچھیں گے کہ آپ کی تیاری کیسی چل رہی ہے، کتنے فیصد آپ اسکور کروگے۔ یہی کہنا چاہوں گا میں کہ آپ خود اپنے لیے کچھ ہدف مقرر کیجیے گا، کسی اور کی توقعات کے دباؤ میں مت آئیےگا۔ آپ محنت ضرور کیجیے گا، مگر ایک حقیقی قابل حصول ہدف خود کے لیے مقرر کیجیے اور وہ ہدف حاصل کرنے کے لیے کوشش کرنا۔ میں جب کرکٹ کھیلتا تھا، تو میری بھی بہت ساری توقعات ہوتی تھیں۔ گذشتہ ۲۴ سالوں میں کئی ساری مشکلات کی گھڑیاں آئیں اور کئی کئی بار اچھے لمحات آئے، مگر لوگوں کی توقعات ہمیشہ رہتی تھیں اور وہ بڑھتی ہی گئیں جیسے جیسے وقت گذرتا گیا، توقعات بھی بڑھتی ہی گئیں۔ تو اس کے لئے مجھے ایک حل تلاش کرنا بہت ضروری تھا۔تو میں نے یہی سوچا کہ میں اپنی توقعات رکھوں اور خود کاہدف مقرر کروں گا۔اگر وہ میرے خود کے ہدف میں مقرر کر رہا ہوں اور وہ حاصل کر پا رہا ہوں، تو میں ضرور کچھ نہ کچھ اچھی چیز ملک کے لئے کر پا رہا ہوں اور و ہی ہدف میں نے ہمیشہ حاصل کرنے کی کوشش کرتا تھا۔میری توجہ کا مرکز گیند رہتا تھا اور اہداف اپنے آپ آہستہ آہستہ حاصل ہوتے گئے۔میں آپ کو یہی کہوں گا کہ آپ کی اپنی سوچ کا مثبت ہونا بہت ضروری ہے۔ مثبت سوچ کو مثبت نتائج حاصل ہوں گے۔تو آپ مثبت ضرور رهيےگا اور اوپر والا آپ کو ضرور اچھے نتائج سے نوازے گا۔ یہ مجھے، اس کی پوری امید ہے اور آپ میں نیک خواہشات پیش کرنا چاہوں گا امتحانات کے لیے۔ فکر سے آزاد ہو کر اپنے امتحانات دیجیے اور اچھے نتائج پائیے۔ گُڈ لک!‘‘

دوستو، دیکھا، تندولکر جی کیا کہہ رہے ہیں۔ یہ توقعات کے بوجھ کے نیچے نہ دبیں۔ آپ ہی کو تو اپنا بہترمستقبل بنانا ہے۔ آپ خود سے اپنے ہدف کو طے کریں، خود ہی اپنے ہدف کا فیصلہ کریں – آزاد من سے، آزاد فکر سے، آزاد اہلیت سے۔ مجھے یقین ہے کہ سچن جی کی یہ بات آپ کے کام آئے گی اور یہ بات صحیح ہے۔ مقابلہ کیوں؟ صحت مند مقابلہ کیوں نہیں۔ ہم دوسروں سے مقابلہ کرنے میں اپنا وقت کیوں برباد کریں۔ ہم خود ہی مقابلہ کیوں نہ کریں۔ ہم اپنے پہلے کے سارے ریکارڈ توڑنے کا فیصلہ کیوں نہ کریں۔آپ دیکھیے، آپ کو آگے بڑھنے سے کوئی نہیں روک پائے گا اور اپنے ہی پچھلے ریکارڈ کو جب توڑیں گے، تب آپ کو خوشی کے لئے، اطمینان کے لئے کسی اور سے توقع بھی نہیں رہے گی۔ایک اندر سے اطمینان ہوگا۔

دوستوں، امتحان کو نمبروں کا کھیل مت مانئے۔کہاں پہنچے، کتنا پہنچے؟ اس حساب کتاب میں نہ پھنسے رہیے۔زندگی کو تو کسی عظیم مقصد کے ساتھ جوڑنا چاہئے۔ایک خواب کو لے کر چلنا چاہئے، عہدبستہ ہونا چاہئے۔یہ امتحانات ، وہ تو ہم صحیح جا رہے ہیں کہ نہیں جا رہے، اس کا حساب کتاب کرتی ہیں؛ ہماری رفتار ٹھیک ہے کہ نہیں ہے، اس کا حساب کتاب کرتی ہیں اور اس وجہ سے سپنے اگر عظیم رہیں تو امتحان اپنے آپ خوشی کا تہوار بن جائے گا۔ہر امتحان اس عظیم مقصد کی تکمیل کی جانب ایک قدم ہوگا۔ہر کامیابی اس عظیم مقصد کو حاصل کرنے کی چابی بن جائے گی اور اس لیے اس سال کیا ہوگا، اس امتحان میں کیا ہوگا، وہاں تک محدود نہ رہیں۔ ایک بہت بڑے مقصد کو لے کر چلیں اور اس میں کبھی توقع سے کچھ کم بھی رہ جائے گا، تو مایوسی نہیں ہو گی اور زور لگانے کی، اور طاقت لگانے کی، اور کوشش کرنے کی ہمت آئے گی۔

جن ہزاروں لوگوں نے مجھے میرے ایپ پر موبائل فون سے چھوٹی چھوٹی باتیں لکھی ہیں۔شرے گپتا نے اس بات پر زور دیا ہے کہ صحت مند جسم میں ہی صحت مند دل رہتا ہے۔ طلبا اپنی تعلیم کے ساتھ ساتھ اپنی صحت کا بھی خیال رکھیں، جس سے آپ امتحان میں صحت مند ہوکر اچھے سے لکھ سکیں۔اب میں آج آخری دن یہ تو نہیں کہوں گا کہ آپ ڈنڈ بیٹھک لگانا شروع کر دیں اور تین کلومیٹر، پانچ کلومیٹر دوڑنے کے لئے جایئے۔لیکن ایک بات صحیح ہے کہ خاص کر کے امتحان کے دنوں میں آپ کا معمول کیسا ہے۔ ویسے بھی ۳۶۵ دن کا ہمارا معمول ہمارے خوابوں اور عہدوں کے مطابق ہونا چاہیے۔جناب پربھاکر ریڈی جی کی ایک بات سے میں اتفاق کرتا ہوں۔ انہوں نے خاص گزارش کی ہے، وقت پر سونا چاہئے اور صبح جلدی اٹھ کر سبق دوہراناہ چاہئے۔ امتحان مرکز پر ایڈمٹ کارڈ اور دوسری چیزوں کے ساتھ وقت سے پہلے پہنچ جانا چاہئے۔یہ بات پربھاکر ریڈی جی نے کہا ہے، میں شاید کہنے کی ہمت نہیں کرتا، کیونکہ میں سونے کے تعلق سے تھوڑا پابند نہیں ہوں اور میرے بہت سے دوست بھی مجھ سےشکایت کرتے رہتے ہیں کہ آپ بہت کم سوتے ہیں۔یہ میری ایک کمی ہے، میں بھی ٹھیک کرنے کی کوشش کروں گا۔ لیکن میں اس سے اتفاق ضرور کرتا ہوں۔مقررہ سونے کا وقت، گہری نیند – یہ اتنی ہی اہم ہے جتنی کہ آپ کے دن بھر کی سرگرمیاں اور یہ ممکن ہے۔میں خوش نصیب ہوں، میری نیند کم ہے، لیکن بہت گہری ضرور ہے اور اس کے لئے میرا کام چل بھی جاتا ہے۔لیکن آپ سے تو میں گزارش کروں گا۔ورنہ کچھ لوگوں کی عادت ہوتی ہے، سونے سے پہلے لمبی لمبی ٹیلیفون پر بات کرتے رہتے ہیں۔اب اس کے بعد وہی خیال چلتے رہتے ہیں، تو کہاں سے نیند آئے گی؟ اور جب میں سونے کی بات کرتا ہوں، تو یہ مت سوچئے کہ میں امتحان کے لئے سونے کے لئے کہہ رہا ہوں۔غلط فہمی میں نہ رہیں۔میں امتحان کے وقت پر تو آپ کو اچھے طریقے سے امتحان دینے کے لئے فکر سے آزاد ہوکر سونے کی بات کر رہا ہوں۔سوتے رہنے کی بات نہیں کر رہا ہوں۔ورنہ کہیں ایسا نہ ہو کہ نمبرات کم آ جائیں اور ماں پوچھے کہ کیوں بیٹے، کم آئے تو کہہ دو کہ مودی جی نے سونے کو کہا تھا، تو میں سو گیا تھا۔ایسا نہیں کرو گے نہ! مجھے یقین ہے نہیں کرو گے۔

ویسے زندگی میں، ڈسپلن کامیابیوں کی بنیاد کو مضبوط بنانے کا بہت بڑی وجہ ہوتی ہے۔ایک مضبوط بنیاد ڈسپلن سے تیار ہوتی ہے اور جو غیر منظم ہوتے ہیں، غیرڈسپلن ہوتے ہیں، صبح کرنے والا کام شام کو کرتے ہیں، دوپہر کو کرنے والا کام رات دیر سے کرتے ہیں، ان کو یہ لگتا ہے کہ کام ہو گیا، لیکن اتنی توانائی برباد ہوتی ہے اور ہر لمحہ کشیدگی رہتی ہے۔ہمارے جسم میں بھی کچھ اعضاء، ہمارے جسم کا ایک آدھ حصہ تھوڑی سی تکلیف دیں تو آپ نے دیکھا ہو گا کہ پورا جسم آرام محسوس نہیں کرتا ہے۔ اتنا ہی نہیں، ہمارا معمول بھی درہم برہم جاتا ہے اور اس لیے کسی چیز کو ہم چھوٹی نہ مانیں۔آپ دیکھئے، اپنے آپ کو کبھی جومتعین ہے، اس میں سمجھوتہ کرنے کی عادت میں نہ پھسیں۔ طے کریں، کرکے دیکھیں۔

دوستوں، کبھی کبھی میں نے دیکھا ہے کہ جو طالب علم امتحان کے لئے جاتے ہیں، دو قسم کے طالب علم ہوتے ہیں، ایک، اس نے کیا پڑھا ہے، کیا سیکھا ہے، کن باتوں میں ان کی اچھی طاقت ہے – ان چیزوں پر توجہ مرکوز کرتے ہیں ۔دوسرے قسم کے طالب علم ہوتے ہیں – یار، پتہ نہیں کون سا سوال آئے گا، پتہ نہیں کیسا سوال آئے گا، پتہ نہیں کر پاؤں گا کہ نہیں کر پاؤں گا، پیپر بھاری ہوگا کہ ہلکا ہو گا؟ یہ دو قسم کے لوگ دیکھے ہوں گے آپ نے۔جو ، کیسا پیپر آئے گا، اس ٹینشن میں رہتا ہے، اس کا اس کے ریزلٹ پر بھی منفی اثر پڑتا ہے۔جو میرے پاس کیا ہے، اسی اعتماد سے جاتا ہے، تو کچھ بھی آ جائے، وہ نپٹ لیتا ہے۔اس بات کو مجھ سے بھی اچھی طرح اگر کوئی کہہ سکتا ہے، تو چیک میٹ کرنے میں جن ماسٹری ہے اور دنیا کے اچھےاچھوں کو جس نے چیک میٹ کر دیا ہے، ایسے شطرنج کے چیمپئن وشوناتھن آنند، وہ اپنے تجربات بتائیں گے۔آئیے، اس امتحان میں آپ چیک میٹ کرنے کا طریقہ ان سے سیکھ لیجئے: –

’’ہیلو، یہ وشوناتھن آنند ہے۔سب سے پہلے، میں اپنی بات آپ کو آپ کے امتحان کے لئے اپنی نیک خواہشات پیش کرنے سے شروع کرتا ہوں۔ پھر میں اس کے بارے میں تھوڑی بات چیت کروں گا کہ میں امتحان دینے کیسے گیا اور اس سلسلے میں میرا تجربہ کیا تھا۔ مجھے لگا کہ امتحانات ویسے ہی ہوتے جیسے آپ کوبعد کی زندگی میں مشکلات در پیش ہوتی ہیں۔ آپ کو بہت ہی آرام کی ضرورت ہوتی ہے ، اچھی نیند کی ضرورت ہوتی ہے، آپ کو شکم سیر ہونے کی ضرورت ہوتی ہے۔ آپ کو حتمی طور پر بھوکا نہیں رہنا چاہیے اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ آپ پر سکوں رہیں۔ یہ شطرنج کے کھیل سے بہت بہت ملتا جلتا ہے ۔ جب آپ کھیلتے ہیں تو آپ نہیں جانتے کہ کون سا مہراظاہر ہوگا ٹھیک اسی طرح کلاس میں ہوتا ہے کہ آپ نہیں جانتے کہ امتحان میں کون سا سوال پوچھا جائے گا۔ اس لیے اگر آپ پرسکون رہتے ہیں، شکم سیر ہوتے ہیں اور آپ کی نیند پوری ہوتی ہے تو آپ محسوس کریں گے آپ کا دماغ صحیح وقت پر صحیح جواب یاد کر لے گا۔ اس لئے پر سکون رہیں۔ یہ نہایت ضروری ہے کہ خود پر زیادہ دباؤ نہ ڈالیں، اپنی توقعات زیادہ نہ بڑھائیں۔ بس صرف اسے ایک چیلنج کے طور پر لیں۔ کیا مجھے یاد ہے جو مجھے سال بھر پڑھایا گیا ، کیا میں مشکلات کو حل کر سکتا ہوں۔ آخر ی لمحوں میں جو چیزیں زیادہ اہم ہیں جن چیزوں کے بارے میں، جن موضوعات کے بارے میں آپ محسوس کرتے ہیں کہ وہ آپ کو اچھی طرح یاد نہیں ہیں ان پر نظر ثانی کرلیں ۔جب آپ امتحان میں لکھ رہے ہوں تو آپ اپنے استاذ یا طلباء کے ساتھ پیش آنے والے کچھ ایسے واقعات یاد کرسکتے ہیں جن سے آپ کو متعلقہ موضوع کے بارے میں بہت سی چیزیں یاد کرنے مدد ملے گی۔ اگر آپ سوالات پر نظر ثانی کریں گے تو آپ کو مشکلات کا اندازہ ہوجائے گا۔ آپ محسوس کریں گے کہ وہ سب چیزیں آپ کے دماغ میں تر و تازہ ہیں اور جب آپ امتحان میں لکھ رہے ہوں تو آپ انہیں زیادہ بہتر انداز میں حل کر پائیں گے۔ اس لیے آپ پرسکون رہیں۔ گہری نیند سوئیں، زیادہ پر اعتماد نہ ہوں تاہم مایوس بھی نہ ہوں۔ میں نے ہمیشہ محسوس کیا ہے کہ آپ پہلے جتنا ڈرتے ہیں امتحانات اس سے زیادہ اچھے طریقے سے گزر جاتے ہیں ۔ اس لیے پر اعتماد رہیں۔ میری جانب سے آپ کو بہت بہت نیک خواہشات۔ ‘‘

وشوناتھن آنند نے سچ مچ بہت ہی اہم بات بتائی ہے اور آپ نے بھی جب ان کو بین الاقوامی شطرنج کے کھیل میں دیکھا ہوگا، کتنے اچھی طرح سے وہ بیٹھے ہوتے ہیں اور کتنے متفکر ہوتے ہیں۔آپ نے دیکھا ہو گا، ان کی آنکھیں بھی ادھر ادھر نہیں جاتی ہیں۔کبھی ہم سنتے تھے نہ، ارجن کی زندگی کا واقعہ کہ پرندوں کی آنکھ پر کس طرح ان کی نظر رہتی تھی۔بالکل ویسے ہی وشوناتھن کو جب کھیلتے ہوئے دیکھتے ہیں، تو بالکل ان کی آنکھیں ایک دم سے بڑے ہدف پر مرکوز ہتی ہیں اور وہ اندرونی سکون کا اظہار ہوتا ہے۔یہ بات صحیح ہے کہ کوئی کہہ دے، اس لئے پھر اندرونی سکون آ ہی جائے گا، یہ تو کہنا مشکل ہے۔لیکن کوشش کرنی چاہیے! ہنستے ہنستے کیوں نہ کریں! آپ دیکھئے، آپ ہنستے رہیں گے، كھلكھلا کر ہنستے رہیں گے امتحان کے دن بھی، اپنے آپ سکون مل جائے گا۔ آپ دوستوں سے بات نہیں کر رہے ہیں یا اکیلے چل رہے ہیں، مرجھائے-مرجھائے چل رہے ہیں، ڈھیر ساری کتابوں کو آخری گھڑی میں بھی ہلا رہے ہیں تو پھر وہ پرسکون دماغ نہیں ہو سکتا ہے۔ہنسئے، بہت ہنستے چلئے، ساتھیوں کے ساتھ چٹكلے شیئرکرتے چلئے، آپ دیکھیں گے کہ اپنے آپ امن وسکون کا ماحول کھڑا ہو جائے گا۔

میں آپ کو ایک چھوٹی سی بات سمجھاناچاہتا ہوں۔آپ تصور کیجئے کہ ایک تالاب کے کنارے آپ کھڑے ہیں اور نیچے بہت اچھی چیزیں نظر آتی ہیں۔لیکن اچانک کوئی پتھر مار دے پانی میں اور پانی ہلنا شروع ہو جائے تو نیچے اچھی چیزیں نظر آ تی ہیں کیا ؟ اگر پانی ٹھنڈا ہے، تو چیزیں کتنی ہی گہری کیوں نہ ہوں، دکھائی دیتی ہیں۔لیکن پانی اگر ہنگامہ خیز ہے تو نیچے کچھ نہیں دکھائی دیتا ہے۔ آپ کے اندر بہت کچھ پڑا ہوا ہے۔سال بھر کی محنت کا خزانہ بھرا پڑا ہے۔لیکن ہنگامہ خیز دماغ ہوگا ، تو وہ خزانہ آپ ہی تلاش نہیں پاؤ گے۔اگر دماغ پرسکون رہا، تو وہ آپ کا خزانہ بالکل ابھر کر آپ کے سامنے آئے گا اور آپ کا امتحان ایک آسان ہوجائے گا۔

میں اپنی ایک بات بتاؤں – میں کبھی کبھی کوئی لیکچر سننا جاتا ہوں یا مجھے حکومت میں بھی کچھ ایسے موضوع ہوتے ہیں جو میں نہیں جانتا ہوں اور مجھے کافی دھیان دینا پڑتا ہے۔تو کبھی کبھی زیادہ دھیان دے کر سمجھنے کی کوشش کرتا ہوں، تو ایک اندرونی تناؤ محسوس کرتا ہوں۔پھر مجھے لگتا ہے، نہیں نہیں، تھوڑا سا آرام کر لوں گا تو اچھا رہے گا۔ تو میں نے خود ہی اپنی تکنیک تیار کی ہے۔بہت گہری سانس لیتا ہوں۔گہری سانس لیتا ہوں۔تین بار پانچ بار گہری سانس لیتا ہوں، وقت تو ۳۰ سیکنڈ، ۴۰ سیکنڈ، ۵۰ سیکنڈ لگتا ہے، لیکن پھر میرا دماغ ایک دم پر سکون ہو کر چیزوں کو سمجھنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے۔ہو سکتا ہے، یہ میرا تجربہ ہو، آپ کو بھی کام آ سکتا ہے۔

رجت اگروال نے ایک اچھی بات بتائی ہے۔وہ میری اَیپ پر لکھتے ہیں – ہم ہر روز کم از کم نصف گھنٹے دوستوں کے ساتھ، خاندان کے افراد کے ساتھ آرام دہ محسوس کریں۔گپیں ماریں۔یہ بہت اہم بات رجت جی نے بتائی ہے، کیونکہ زیادہ تر ہم دیکھتے ہیں کہ ہم جب امتحان دے کر آتے ہیں، تو شمار کرنے کے لئے بیٹھ جاتے ہیں، کتنے درست کیا، کتنا غلط کیا۔اگر گھر میں ماں باپ بھی پڑھے لکھے ہوں اور اس میں بھی اگر ماں باپ بھی ٹیچر ہوں، تو-تو پھر پورا پیپر دوبارہ لكھواتے ہیں – بتاؤ، تم نے کیا لکھا، کیا ہوا! سارا جوڑ لگاتے ہیں، دیکھو، تمہیں ۴۰ آئے گا کہ ۸۰ آئے گا، ۹۰ آئے گا۔ آپ کا دماغ جو امتحان ہوگیا ، اس میں مصروف رہتا ہے۔آپ بھی کیا کرتے ہیں، دوستوں سے فون پر شیئر کرتے ہیں، ارے یار، اس میں تم نے کیا لکھا! ارے یار، اس میں تمہارا کیسا گیا! اچھا، تمہیں کیا لگا۔یار، میرا تو گڑبڑ ہو گیا۔یار، میں نے تو غلطی کر دی۔ارے یار، مجھے یہ تو معلوم تھا، لیکن مجھے یاد نہیں آیا۔ہم اسی میں پھنس جاتے ہیں۔دوستو، یہ مت کیجئے۔امتحان کا وقت ہو گیا، سو ہو گیا۔خاندان کے افراد کے ساتھ دوسرے موضوعات پر گپیں ماریں۔پرانی ہنسی خوشی کی یادیں تازہ کیجئے۔کبھی والدین کے ساتھ کہیں گئے ہوں، تو وہاں کے مناظر کو یاد کیجیے۔بالکل ان سے نکل کر کے ہی آدھا گھنٹہ بتائیے۔ رجت جی کی بات سچ مچ سمجھنے جیسی ہے۔

دوستو، میں نے کیا آپ کو امن و سکون کی بات بتاؤں۔آج آپ کو امتحان دینے سے پہلے ایک ایسے شخص نے آپ کے لئے پیغام بھیجا ہے، وہ اصل میں معلم ہیں اور آج ایک طرح سے اخلاقیات کے استاد بنے ہوئے ہیں۔رام چرترمانس، حالات حاضرہ کے تناظر میں اس کی تشریح کرتے کرتے وہ ملک اور دنیا میں اس اخلاقی دھارا کو پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ایسے ہی قابل پرستش مراری باپو نے بھی طلباء کے لئے بڑا اہم نکتہ بھیجا ہے اور وہ تو استاد بھی ہیں، مفکر بھی ہیں اور اس لئے ان باتوں میں دونوں کا میل ہے: –

’’میں مراری باپو بول رہا ہوں۔میں طالب علم بھائیوں بہنوں کو یہی کہنا چاہتا ہوں کہ امتحان کے وقت دماغ پر کوئی بھی بوجھ رکھے بغیر اور عقل سے ایک واضح فیصلہ کرکے اور من کو یکجا کر کے آپ کے امتحان دینے کے لیے بیٹھئے اور جو صورت حال در پیش ہے، اس کو قبول کر لیجئے۔میرا تجربہ ہے کہ حالات کو قبول کرنے سے ہم بہت شاداں رہ سکتے ہیں اور خوش رہ سکتے ہیں۔آپ کا امتحان میں اپنی وابستگی کے ساتھ اور خوش و خرم آگے بڑھیں، تو کامیابی ضرور ملے گی اور اگر کامیابی نہ بھی ملی تو بھی ناکام ہونے کا ملال نہیں ہوگااور کامیاب ہونے کا فخر بھی ہوگا۔ایک شعر کہہ کر میں اپنا پیغام اور نیک خواہشات پیش کرتا ہوں – لازم نہیں کہ ہر کوئی ہو کامیاب ہی، جینا بھی سيكھئے ناکامیوں کے ساتھ۔ہمارے معزز وزیر اعظم کا یہ جو ‘من کی بات’ کا پروگرام ہے، اس کو میں بہت اوكار دیتا ہوں۔سب کے لئے میری بہت بہت نیک خواہشات ۔شکریہ۔‘‘

قابل پرستش مراری باپو کا میں بھی شکر گزار ہوں کہ انہوں نے بہت اچھا پیغام ہم سب کو دیا۔دوستو، آج ایک اور بات بتانا چاہتا ہوں۔میں دیکھ رہا ہوں کہ اس بار جو مجھے لوگوں نے اپنے تجربات بتائے ہیں، اس میں یوگا کی بحث ضرور ہے۔اور یہ میرے لئے خوشی کی بات ہے کہ ان دنوں میں دنیا میں جس کسی سے ملتا ہوں، تھوڑا سا بھی وقت کیوں نہ ملے، یوگا کی تھوڑی سی بات تو کوئی نہ کوئی کرتا ہی کرتا ہے۔دنیا کے کسی بھی ملک کا شخص کیوں نہ ہو، ہندوستان کا کوئی شخص کیوں نہ ہو، تو مجھے اچھا لگتا ہے کہ یوگا کے سلسلے میں اتنی دلچسپی پیدا ہو ئی ہے، اتنا تجسس پیدا ہوا ہے اور دیکھئے، کتنے لوگوں نے مجھے میرے موبائل اَیپ پر، جناب اتنو منڈل، مسٹر کنال گپتا، مسٹر سو شانت کمار، مسٹر کے جی آنند، مسٹر ابھیجیت کلکرنی، نہ جانے ان گنت لوگوں نے میڈیٹشن کی بات کی ہے، یوگا پر زور دیا ہے۔ویسے دوستوں، میں بالکل ہی آج ہی کہہ دوں، کل صبح سے یوگا کرنا شروع کرو، وہ تو آپ کے ساتھ نا انصافی گے۔لیکن جو یوگا کرتے ہیں، وہ کم سے کم امتحان ہے لہذا آج نہ کریں، ایسا نہ کریں۔کرتے ہیں تو کیجیے۔لیکن یہ بات صحیح ہے کہ طالب علم کی زندگی میں ہو یا زندگی کا آخری حصہ ہو، باطن کی ترقی کے سفر میں یوگا ایک بہت بڑی چابی ہے۔آسان سے آسان چابی ہے۔آپ ضرور اس پر توجہ دیجئے۔جی ہاں، اگر آپ کو آپ کے قریب کوئی یوگا کے ماہر ہوں گے، ان کو پوچھیئے گا تو امتحان کے دنوں میں پہلے یوگا نہیں کیا جائے گا، تو بھی دو چار چیزیں ایسے بتا دیں گے، آپ کو آپ دو چار پانچ منٹ میں کر سکتے ہیں۔دیکھئے، اگر آپ کر سکتے ہیں تو! جی ہاں، میرا اس میں یقین بہت ہے۔

میرے نوجوان ساتھیو، آپ کو امتحان ہال میں جانے کی بڑی جلدی ہوتی ہے۔جلدی جلدی اپنے بینچ پر بیٹھ جانے کو دل کرتا ہے؟ کیا یہ چیزیں جلد بازی میں کیوں کریں؟ اپنا پورے دن کا وقت کا ایسا انتظام کیوں نہ کریں کہ کہیں ٹریفک میں رک جائیں، تو بھی وقت پر ہم پہنچ ہی جائیں۔ورنہ ایسی چیزیں ایک نیا تناؤ پیدا کرتی ہیں۔اور ایک بات ہے، ہمیں جتنا وقت ملا ہے، اس میں جو سوالنامہ ہے جو ہدایات ہیں، ہمیں کبھی کبھی لگتا ہے کہ یہ ہمارا وقت کھا جائے گا۔ایسا نہیں ہے دوستوں۔آپ ان ہدایات کو غور سے پڑھیں۔دو منٹ تین منٹ پانچ منٹ جائے گا، کوئی نقصان نہیں کرے گا۔لیکن اس سے امتحان میں کیا کرنا ہے، اس میں کوئی گڑبڑی نہیں ہو گی اور بعد میں افسوس نہیں ہوگا اور میں نے دیکھا ہے کہ کبھی کبھار پیپر آنے کے بعد بھی پیٹرن نیا آیا ہے، ایسا پتہ چلتا ہے، لیکن پڑھ لیتے ہیں ہدایات، تو شاید ہم اپنے آپ کو برابر کوپ اَپ کر لیتے ہیں کہ جی ہاں، ٹھیک ہے، چلو، مجھے ایسے ہی جانا ہے۔اور میں آپ سے گزارش کروں گا کہ یہاں تک کہ اگر آپ پانچ منٹ اس میں جائیں، لیکن اس کو ضرور کریں.

جناب یش ناگر، انہوں نے ہمارے موبائل اَیپ پر لکھا ہے کہ جب انہوں نے پہلی بار پیپر پڑھا تو انہیں یہ کافی مشکل لگا۔لیکن اسی پیپر کو دوبارہ اعتماد کے ساتھ، اب یہی پیپر میرے پاس ہے، کوئی نئے سوال آنے والے نہیں ہیں، مجھے اتنے ہی سوالات سے نمٹنا ہے اور جب دوبارہ میں سوچنے لگا، تو انہوں نے لکھا ہے کہ میں اتنی آسانی سے اس پیپر کو سمجھ گیا، پہلی بار پڑھا تو لگا کہ یہ تو مجھے نہیں آتا ہے، لیکن وہی چیز دوبارہ پڑھا تو مجھے دھیان میں آیا کہ نہیں نہیں سوال دوسرے طریقے سے رکھا گیا ہے، لیکن یہ تو وہی بات ہے جو میں جانتا ہوں ۔سوالات کو سمجھنا بہت ضروری ہوتا ہے۔سوالات کو نہ سمجھنے سے کبھی کبھی سوال مشکل لگتا ہے۔میں یش ناگر کی اس بات پر زور دیتا ہوں کہ آپ سوالات کو دو بار پڑھیں، تین بار پڑھیں، چار بار پڑھیں اور آپ جو جانتے ہیں، اس کے ساتھ اس کو ملانے کی کوشش کریں۔آپ دیکھیں گے، وہ سوال لکھنے سے پہلے ہی آسان ہو جائے گا۔
میرے لئے آج خوشی کی بات ہے کہ بھارت رتن اور ہمارے بہت ہی قابل احترام سائنس داں سی این آر راؤ ، انہوں نے صبر پر زور دیا ہے۔بہت ہی کم الفاظ میں لیکن بہت ہی اچھا پیغام ہم سب طلباء کو انہوں نے دیا ہے۔آئیے، راؤ صاحب کا پیغام سنیں: –
“یہ سی این آر راؤ ہے بنگلور سے ۔میں مکمل طور پر محسوس کیا ہے کہ امتحانات بے چینی پیدا کرتے ہیں۔ وہ بھی مسابقاتی امتحانات۔فکر مت کرو، اپنی پوری کوشش کرو۔یہی باتیں میں اپنے تمام نوجوان دوستوں کو بتاتا ہوں۔ ساتھ ہی یہ بھی یاد رکھنا، اس ملک میں بہت سے مواقع موجود ہیں۔ آپ زندگی میں کیا کرنا چاہتے ہیں اسے طے کریں اسے ترک نہ کریں۔ آپ کامیاب ہوں گے۔یہ نہ بھولیں کہ آپ کائنات کے ایک بچے ہیں۔تمہیں درختوں اور پہاڑ وں کی طرح یہاں رہنے کا حق حاصل ہے۔آپ سب کو کچھ کرنے ، لگن اور عزم مصمم کی ضرورت ہے۔ان خصوصیات کے ساتھ آپ کو تمام امتحانات اور دیگر تمام کوششوں میں کامیابی حاصل ہوگی ۔ آ پ جو کچھ بھی کرنا چاہتے ہیں میں ان کے لیے اپنی نیک خواہشات پیش کرتا ہوں۔ خدا کا آپ کا حامی و ناصر ہو۔ ”

دیکھا، ایک سائنسدان کے بات کرنے کا طریقہ کیسا ہوتا ہے۔جو بات کہنے میں میں نصف گھنٹہ لگاتا ہوں، وہ بات وہ تین منٹ میں کہہ دیتے ہیں۔یہی تو سائنس کی طاقت ہے اور یہی تو سائنسی دماغ کی طاقت ہے۔میں راؤ صاحب کا بہت شکر گزار ہوں کہ انہوں نے ملک کے بچوں کی حوصلہ افزائی کی۔انہوں نے جو بات کہی ہے – ہمت کی، وفاداری کی ، یہی بات ہے – لگن، ہمت ، حوصلہ ۔ڈٹے رہو، دوستو، ڈٹے رہو۔اگر آپ ڈٹے رہیں گے تو ڈر بھی ڈرتا رہے گا۔اور اچھا کرنے کے لئے سنہری مستقبل آپ کاانتظار کر رہا ہے۔

اب میرے اَیپ پر ایک پیغام روچیکا ڈابس نے اپنے امتحان کے تجربہ کو شیئر کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ان کے خاندان میں امتحان کے وقت ایک خوشگوار ماحول بنانے کی مسلسل کوشش ہوتی ہے اور یہ بات ان کے ساتھی خاندانوں میں بھی ہوتی تھی۔سب ہے کی طرف سے خوشگوارماحول۔یہ بات صحیح ہے، جیسا سچن جی نے بھی کہا ہے۔

کبھی کبھی بہت سی باتیں ایسی ہوتی ہیں کہ جو ہمیں ترغیب دیتی ہیں، اور یہ مت سوچئے کہ یہ سب شاگردوں کو ہی ترغیب دیتی ہیں۔زندگی کے کسی بھی پڑاؤ پر آپ کیوں نہ ہوں، شاندار مثال، سچے واقعات بہت تحریک دیتے ہیں، بہت بڑی طاقت بھی دیتے ہیں اور بحران کے وقت نیا راستہ بھی بنا دیتے ہیں۔ہم سب بجلی کے بلب کے موجد تھامس اےلوا ایڈسن، ہمارے نصاب میں اس موضوع میں پڑھتے ہیں۔لیکن دوستو، کبھی یہ سوچا ہے، کتنے سالوں تک انہوں نے اس کام کو انجام دینے کے لئے صرف کیا۔ کتنی بار ناکامی ملی، کتنا وقت لگا، کتنے پیسے خرچ ہوئے۔ناکامی ملنے پر کتنی مایوسی آئی ہوگی۔لیکن آج وہ بجلی کا بلب ،ہم لوگوں کی زندگی کو بھی تو روشن کرتا ہے۔اسی کو تو کہتے ہیں، ناکامی میں بھی کامیابی کے امکانات موجود ہوتے ہیں۔

شری نواس رامانجن کو کون نہیں جانتا ہے۔جدید دور کے عظیم ترین ریاضی داں مفکرین میں سے ایک نام -آپ کو پتہ ہو گا، ان کا فارمولہ کوئی ایجوکیشن میتھمٹکس میں نہیں ہوا تھا، کوئی خاص تجربہ بھی نہیں ہوا تھا ، لیکن انہوں نے ریاضی تجزیے ، عددی تھیوری جیسے مختلف علاقوں میں زبردست خدمات انجام دی۔ ۔انتہائی تکلیف بھری زندگی، افسوس بھری زندگی، اس کے باوجود بھی وہ دنیا کو بہت کچھ دے کر گئے۔

جے۔کے۔رولنگ ایک بہترین مثال ہیں کہ کامیابی کبھی بھی کسی کو بھی مل سکتی ہے۔ہیری پوٹر سیریزآج دنیا بھر میں مقبول ہے۔لیکن شروع سے ایسا نہیں تھا۔کتنی مشکلات ان کو جھیلنی پڑی تھی۔کتنی ناکامی ہاتھ آئی تھیں۔رولنگ نے خود کہا تھا کہ مشکلوں میں وہ ساری توانائی اس کام میں لگاتی تھیں جو واقعی ان کے لئے اہمیت رکھتا تھا۔

امتحان آج کل صرف طالب علم کا نہیں، پورے خاندان اور پورے اسکول ، ٹیچر سب کا ہو جاتا ہے۔لیکن والدین اور اساتذہ کے تعاون کے بغیر تنہا طالب علم، حالت اچھی نہیں ہے۔ٹیچر ہو، والدین ہوں، یہاں تک کہ سنیئر طلباء ہوں، یہ سب مل کر ایک ٹیم بن کے، متحد ہوکر یکساں فکر کے ساتھ، منصوبہ بند طریقے سے آگے بڑھیں گے، تو امتحان آسان ہو جاتاہے۔

دوستو، ایک بات کا یقین ہے، خاص کرکے میں نوجوان دوستوں سے کہنا چاہتا ہوں | ہم لوگوں کی زندگی، ہماری پرانی نسلوں سے بہت بدل چکی ہے۔ہر پل نیا اختراع، نئی ٹیکنالوجی، سائنس کے نت نئے رنگ دیکھنے کو مل رہے ہیں اور ہم صرف مغلوب ہو رہے ہیں، ایسا نہیں ہے۔ہم اس سے جڑنے کوترجیح دیتے ہیں۔ہم بھی سائنس کی رفتار سے آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔

میں یہ بات اس لیے کر رہا ہوں، دوست کہ آج قومی سائنس ڈے ہے۔ قومی سائنس ڈے ، ملک کی سائنس کا تہوار ہر سال ۲۸ فروری کو ہم مناتے ہیں۔۲۸ فروری، ۱۹۲۸ سر سی وی رمن نے اپنی تلاش ‘رمن اِفکٹ ‘ کا اعلان کیا تھا۔ یہی تو تلاش تھی، جس میں ان کو نوبل انعام حاصل ہوا۔ اس وجہ سے ملک ۲۸ فروری کو قومی سائنس ڈے کے طور پر منا رہا ہے۔ تجسس سائنس کی ماں ہے۔ ہر ذہن میں سائنسی سوچ، سائنس کی توجہ ہو اور ہر نسل کو اختراع پر زور دینا ہوتا ہے اور سائنس اور ٹیکنالوجی کے بغیر اختراعات ممکن نہیں ہوتے ہیں۔ آج قومی سائنس ڈے پر ملک میں اختراعات پر طاقت ملے۔علم، سائنس، ٹیکنالوجی یہ ساری باتیں ہماری ترقی کے سفر کے آرام دہ حصے بننے چاہیے اور اس بار قومی سائنس ڈے کا موضوع ہے ’ میک اِن انڈیا سائنس اینڈ ٹکنالوجی ڈرائیون اننو ویشنز‘۔ میں سر سی وی رمن کو میں سلام کرتا ہوں اور آپ سب کو سائنس کے تئیں دلچسپی بڑھانے کے لئے پر زور اپیل کر رہا ہوں۔

دوستو، کبھی کبھی کامیابیاں بہت دیر سے ملتی ہیں اور کامیابی جب ملتی ہے، تب دنیا کو دیکھنے کا نظریہ بھی بدل جاتا ہے۔آپ امتحان میں شاید بہت مصروف رہے ہوں گے تو شاید ہو سکتا ہے، بہت سی خبریں آپ کے دماغ میں درج نہ ہوئی ہوں۔لیکن میں اپنے ہم وطنو ں سے بھی اس بات کا اعادہ چاہتا ہوں۔آپ نے گزشتہ دنوں میں سنا ہوگا کہ سائنس کی دنیا میں ایک بہت بڑی اور اہم کھوج ہوئی ہے۔دنیا کے سائنسدانوں نے محنت کی، نسلیں آتی گئیں، کچھ نہ کچھ کرتی گئیں اور قریب قریب ۱۰۰ سال کے بعد ایک کامیابی ہاتھ لگی۔’’کشش والی لہریں‘ ہمارے سائنس دانوں کی عظمت سے، اسے اجاگر کیا گیا، معلوم کیا گیا۔یہ سائنس کی بہت دور رس کامیابی ہے۔یہ تلاش نہ صرف پچھلی صدی کے ہمارے عظیم سائنسدان آئن اسٹائن کی تھیوری کی تصدیق کرتی ہے، بلکہ طبیعات کے لئے عظیم دریافت مانی جاتی ہے۔یہ پوری انسانی ذات کو پوری دنیا کے کام آنے والی بات ہے، لیکن ایک ہندوستانی کے ناطے ہم سب کو اس بات کی خوشی ہے کہ ساری تلاش کے عمل میں ہمارے ملک کے سپوت، ہمارے ملک کے ذہین سائنس داں بھی اس سے منسلک رہے ۔ان کی بھی شراکت رہی ہے۔میں ان تمام سائنسدانوں کو آج دل سے مبارک باد دینا چاہتا ہوں، خیر مقدم کرنا چاہتا ہوں۔مستقبل میں بھی اس تلاش کو آگے بڑھانے میں ہمارے سائنس داں کوشاں رہیں گے۔بین الاقوامی کوششوں میں ہندوستان بھی حصہ دار بنے گا اور میرے ہم وطنوں، گزشتہ دنوں میں نے ایک اہم فیصلہ کیا ہے۔اسی تلاش میں زیادہ کامیابی حاصل کرنے کے لئے مختصراً اسے ایل آئی جی او کو کہتے ہیں۔ اسے ہندوستان میں کھولنے کا حکومت نے فیصلہ لیا ہے۔دنیا میں دو مقام پر اس طرح کا انتظام ہے، بھارت تیسرا ہے۔بھارت کے جڑنے سے اس عمل کو نئی طاقت ملے گی، اور نئی رفتار ملے گی۔ میں پھر ایک بار تمام سائنسدانوں کو مبارکباد دیتا ہوں، اپنی نیک خواہشات پیش کرتا ہوں۔

میرے پیارے ہم وطنو، میں ایک نمبر لكھواتا ہوں آپ کو، کل سے آپ مس کال کر کے اس نمبر سے میری ‘من کی بات’ سن سکتے ہیں، آپ اپنی مادری زبان میں بھی سن سکتے ہیں۔ مس کال کرنے کے لیے نمبر ہے –
۸۱۹۰۸۸۱۹۰۸۔ میں دوبارہ کہتا ہوں ۸۱۹۰۸۸۱۹۰۸۔

دوستو، آپ کا امتحان شروع ہو رہاہے۔ مجھے بھی کل امتحان دینا ہے۔ سوا سو کروڑ ہم وطن میرا امتحان لینے والے ہیں۔ پتہ ہے نہ، ارے بھئی، کل بجٹ ہے! ۲۹ فروری، یہ لیپ ایئر ہوتا ہے۔ لیکن ہاں، آپ نے دیکھا ہو گا، مجھے سنتے ہی لگا ہوگا، میں کتنا صحت مند ہوں، کتنے اعتماد سے بھرا ہوا ہوں۔ بس، کل میرا امتحان ہو جائے، پرسوں آپ کا شروع ہو جائے۔ اور ہم سب کامیاب ہوں، تو ملک بھی کامیاب ہوگا۔

تو دوستو، آپ کو بہت بہت نیک خواہشات پیش کرتا ہوں۔ کامیابی-ناکامی کے تناؤ سے آزاد ہو کر آگے بڑھيے، ڈٹے رہیے۔ آپ کا شکریہ!

 

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *