مجموعی گھریلو پیداوار میں 7.6 فیصد کا اضافہ: وزیر خزانہ

پارلیمنٹ جاتے ہوئے وزیر خزانہ ارون جیٹلی
پارلیمنٹ جاتے ہوئے وزیر خزانہ ارون جیٹلی

نئی دہلی، 29/فروری-لوک سبھا میں آج عام بجٹ 17-2016 پیش کرتے ہوئے مرکزی وزیر خزانہ جناب ارون جیٹلی نے کہا کہ رواں مالی سال میں مجموعی گھریلو پیداوار، جی ڈی پی میں 7.6 فیصد تک کا اضافہ ہو اہے۔ یہ عالمی درآمدات میں 4.4 فیصد تک کی کمی کے باوجود ہوا ہے جبکہ گزشتہ حکومت کے آخری تین برسوں کے درمیان عالمی درآمدات میں 7.7 فیصد کا اضافہ ہوا تھا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی شرح نمو میں کمی آئی ہے اور یہ 2014 میں جہاں 3.4 فیصد تھی، وہیں یہ 2015 میں 3.1 فیصد تک آ گئی تھی۔ مالی بازاروں میں گراوٹ کا سلسلہ رہا ہےاور عالمی تجارت میں کمی آئی ہے۔ ان عالمی واقعات کے درمیان ہندوستانی معیشت کے قدم اپنی فطری قوت اور موجودہ حکومت کی پالیسیوں کے سبب مضبوطی سے جمے ہوئے ہیں۔

وزیر خزانہ جناب جیٹلی نے کہا کہ بین الاقوامی مالیاتی ادارے ، آئی ایم ایف نے ہندوستان کی تعریف کرتے ہوئے اسے سست عالمی معیشتوں کے درمیان ایک روشن ستارہ قرار دیا ہے۔ عالمی اقتصادی فورم نے کہا ہے کہ ہندوستان کی شرح نمو غیر معمولی طور پر بلند ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسے کم شرح نمو والی معیشت ، اونچی افراط زر اور حکمرانی کی صلاحیت کے تعلق سے حکومت پر سرمایہ کاروں کا صفراعتماد ہونے کے باوجود حاصل کیا جا سکتا ہے۔
وزیر خزانہ جناب جیٹلی نے مزید کہا کہ سی پی آئی افراط زر جو سابقہ حکومت کے آخری تین برسوں کے دوران9.4فیصد تھا، کم ہو کر 5.4 فیصد ہو گئی ہے۔ ایسا گزشتہ دو سال کے اندر مانسونی بارش میں 13 فیصد کی کمی کے باوجود ہواہے۔ہندوستان کی باہری صورتحال کو انتہائی مضبوط قرار دیتے ہوئے جناب جیٹلی نے کہا کہ موجودہ مالی خسارہ گزشتہ سال کے نصف اول کے خسارے 18.4 بلین امریکی ڈالر سے کم ہو کر اس سال 14.4 بلین ہو گیا ہے، جس کی بدولت ا س سال کے آخر تک جی ڈی پی میں 1.4 فیصد کا اضافہ ہوجائے گا۔ ہندوستان کا بیرونی زرمبادلہ کا ذخیرہ اپنی بلند ترین سطح پر ہے، جو تقریباً 350

بلین امریکی ڈالر ہے۔
وزیر خزانہ نے اس اصول کی توثیق کی کہ حکومت کے پاس موجود پیسہ عوا م کا ہوتا ہے اور حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس کا احتیاط اور دانشمندی کے ساتھ استعمال کرے تاکہ لوگوں کا بھلا ہو سکے۔خاص طور پر یہ پیسہ غریبوں اور دبے کچلے لوگوں کے لئے مفید ثابت ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ آر ای مرحلے پر منصوبہ جاتی خرچ 16-2015 میں بڑھ گیا ہے جبکہ عام طور پر اس میں کمی کی جاتی رہی ہے۔ جناب جیٹلی نے ہندوستانی معیشت کو درپیش تین سنگین پیچدگیو ں کی طرف بھی اشارہ کیا۔

پہلی ، ہمیں بڑے پیمانے پر اقتصادی استحکام اور محتاط مالی بندوبست کو یقینی بنا کر عالمی کسادبازاری اور اتارچڑھاؤ کے مزید خطرات سے اپنا تحفظ کرنے کے لئے ہمیں اپنی تحفظاتی تدابیر کے دائرے کو مضبوط کرنا ہوگا ۔ دوسری ، چونکہ بیرونی بازار کمزور ہیں، لہذا ہمیں گھریلو مانگ اور ہندوستانی بازاروں پر انحصار کرنا ہوگا تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ ہندوستان کی شرح نمو میں گراوٹ نہ آئے اور تیسری ، ہمیں اقتصادی اصلاحات اور پالیسی سے متعلق اقدامات جاری رکھنے ہوں گے تاکہ ہم اپنے عوام کی زندگی میں بہتر تبدیلی لا سکیں۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ ساتویں مرکزی پے کمیشن کی سفارشات اور ایک عہدہ، ایک پنشن او آر او پی کے نفاذ کے پیش نظر حکومت کو مالی سال 17-2016 کے لئے اپنے اخراجات کی ترجیحات طے کرنی ہوں گی۔ مزید یہ کہ 14ویں مالی کمیشن نے ٹیکسوں میں مرکز کی حصے داری کو 68 فیصد سے کم کر کے 58 فیصد کردیا ہے۔ جناب جیٹلی نے کہاکہ حکومت کی خواہش زرعی اور دیہی شعبوں ،سماجی شعبے، بنیادی ڈھانچے سے متعلق شعبے میں اخراجات میں اضافہ کرنے اور بینکوں کے ری-کیپیٹلائزیشن کی ہے، کیونکہ ان شعبوں میں فوری اقدامات کئے جانے کی ضرورت ہے۔

وزیر خزانہ جناب جیٹلی نے یہ بھی کہا کہ حکومت سماج کے کمزور طبقات کو مدد دینے کے لئے تین بڑی اسکیمیں شروع کرے گی۔ پردھان منتری فصل بیمہ یوجنا(پی ایم ایف بی وائی) کسانوں کو قدرتی آفات سے تحفظ دینے میں مدد کرے گی۔ کسان انشورنس کی برائے نام قسط ادا کریں گے اور کسی نقصان کی صورت میں اب تک کا سب سے زیادہ معاوضہ حاصل کر پائیں گے۔ ایک صحت بیمہ اسکیم ، جو ہندوستان کی تقریباً تہائی آبادی کو اسپتالوں میں ہونے والے اخراجات کے تعلق سے تحفظ فراہم کرے گی۔ بی پی ایل کنبوں کو حکومت کے ذریعے دی جانے والی سبسڈی کے تعاون سے گیس کنکشن دستیاب کرانے کے لئے ایک نئی پہل کی جائے گی۔ جناب جیٹلی نے زور دے کر کہا کہ حکومت کی ترجیح کمزور طبقات ، دیہی علاقوں اور سماجی و طبعی بنیادی ڈھانچے کی تخلیق کےلئے اضافی وسائل دستیاب کرانے کی ہے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت موجودہ اصلاحات کو جاری رکھنے اور جی ایس ٹی کے نفاذ کے لئے آئینی ترمیمی بل کی منظوری کو یقینی بنانے، ان سول وینسی اور دیوالیہ پن سے متعلق قانون سمیت دیگر زیر التوا قوانین کو منظور کرانے کی کوشش کرے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکو مت ایک قانون بنائے گی تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ حکومت کی جانب سے دیئے جانے والے فوائد ان لوگوں تک پہنچ سکیں، جو اس کے مستحق ہیں اور یہ کام آدھار پر مبنی پلیٹ فارم کے ذریعے انجام پائے۔ انہوں نے کہا کہ متعدد اہم اصلاحات بھی حکومت کے ایجنڈے پرہیں، جن میں ٹرانسپورٹ کے شعبے سے متعلق قانونی ڈھانچے میں تبدیلی ، گیس کی دریافت اور تلاش و جستجو پر مراعات دینا ، مالی فرموں کے تنازعات کے حل کےلئے قانون سازی ، پی پی پی پروجیکٹوں اور سرکاری اداروں کے ٹھیکوں سے متعلق تنازعات کے تصفیہ کے لئے قانونی ڈھانچے کی تیاری، بینکنگ شعبے سے متعلق اہم اصلات اور جنرل انشورنس کمپنیوں کی پبلک لسٹنگ اور ایف ڈی آئی پالیسی میں اہم تبدیلیاں شامل ہیں۔
مرکزی وزیر خزانہ جناب ارون جیٹلی نے مالی سال 17-2016 کے لے ہندوستان کی کایا کلپ کو اپنا ایجنڈا قرار دیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *