اردو کے بزرگ خادموں کے اعزاز میں جلسے کا انعقاد

گلزار دہلوی، شاہد علی خان اور وقار مانوی کی خدمات کا اعتراف

(دائیں سے پروفیسر وہاج الدین علوی، شاہد علی خاں، گلزار دہلوی، پروفیسر شمیم حنفی، وقار مانوی، جاوید نسیم، عقیل احمد اور منیر انجم)
(دائیں سے پروفیسر وہاج الدین علوی، شاہد علی خاں، گلزار دہلوی، پروفیسر شمیم حنفی، وقار مانوی، جاوید نسیم، عقیل احمد اور منیر انجم)

نئی دہلی، (پریس ریلیز):غالب اکیڈمی بستی حضرت نظام الدین، نئی دہلی میں دہلی کی تین اہم شخصیات پنڈت آنند موہن زتشی گلزار دہلوی،مکتبہ جامعہ کے سابق سرگرم کارکن شاہد علی خان اورمعروف شاعر وقار مانوی کی خدمات کے اعتراف میں ۱۱؍ مارچ کو ایک جلسے کا انعقاد کیا گیا۔پروگرام کے آغاز میں افتتاحی کلمات پیش کرتے ہوئے غالب اکیڈمی کے سکریٹری ڈاکٹرعقیل احمد نے کہا کہ غالب اکیڈمی کی۴۷؍سالہ تاریخ میں آج پہلا موقع ہے جب ہم اکیڈمی کی طرف سے اپنے بزرگوں کی خدمات کے اعتراف میں جلسہ کر رہے ہیں۔ غالب اکیڈمی کی منتظمہ کمیٹی نے یہ فیصلہ لیا کہ دہلی کے ان حضرات کی خدمات کے اعتراف میں اکیڈمی کو جلسے کرنا چا ہیے جو اردو کی بے لوث خدمت کر رہے ہیں۔ اس لیے آج تین شخصیات جناب گلزار دہلوی،جناب شاہد علی خاں اور جناب وقار مانوی کی خدمات کے اعتراف میں جلسہ ہو رہا ہے۔ تینوں حضرات نے اپنے اپنے میدان میں اردو کی بے لوث خدمت کی ہے۔
اس موقع پر غالب اکیڈمی کے صدر اورمعروف نقادپروفیسر شمیم حنفی نے کہا کہ گلزار دہلوی ایک معروف علمی و ادبی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں نے پنڈت برج موہن دتاریہ کیفی اور نواب سراج الدین احمد سائل دہلوی سے مشورۂ سخن کیا ۔انہوں نے دلی اسکول کی روایت کو زندہ رکھا بلکہ اسے نئی منزلوں سے بھی روشناس کرایا۔انہوں نے مشرق و مغرب کے متعدد ملکوں میں اردو شعرو ادب کا نام روشن کیا۔جنا ب شاہد علی خاں کے بارے میں پروفیسر شمیم حنفی نے کہا کہ شاہد علی خاں نے مکتبہ جامعہ ممبئی میں اپنی ملازمت کے دوران اسے ادیبوں و شاعروں کا مرکز بنا دیا اور دہلی آئے تو مکتبہ جامعہ کو اردو کا سب سے بڑا اشاعت گھر اور ادبی مرکز بنادیا، بے شمار علمی و ادبی کتابیں شائع کیں ۔وقار مانوی کے بارے میں پروفیسر شمیم حنفی نے کہا کہ وقار مانوی ایک انفرادی حیثیت کے مالک ہیں۔ انہوں نے دہلی کے ادبی و شعری ماحول پر گہری چھاپ چھوڑی ہے اور اپنے شاگردوں کے ساتھ شہر دہلی کی شعری روایت کو آگے بڑھایا ہے۔اس موقع پر پروفیسر شمیم حنفی نے تینوں حضرات کو غالب اکیڈمی کی طرف سے ایک شال،میمنٹو اور ایک حقیر نذرانہ پیش کیا۔ اس تقریب میں پروفیسر خالد محمود اور پروفیسروہاج الدین علوی نے بھی اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔آخر میں ایک مشاعرے کا اہتمام کیا گیاجس میں اسرار جامعی ،ظفر مراد آبادی، گلزار دہلوی، وقار مانوی،حبیب سیفی،ڈاکٹر آر جی کنول، ڈاکٹر احمد علی برقیؔ اعظمی،متین امروہوی، اسرار احمد رازی، سرفراز فرازؔ ،علی اصغر ادریسی اور ذہینہ صدیقی وغیرہ نے اپنے کلام سے سامعین کو محظوظ کیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *