غالب اکیڈمی کے ۴۷ویں یومِ تاسیس پر سجی محفلِ کلامِ غالب

Dr. Aqil Ahmadزبان کے ساتھ ساتھ اردو کی اسکرپٹ کو بھی بچانا ضروری ہے: ڈاکٹر عقیل احمد

نئی دہلی، ۲۰ فروری (نامہ نگار): غالب اکیڈمی، حضرت نظام الدین میں آج محفلِ کلامِ غالب سجائی گئی، جس میں مشہور غزل گلوکارہ محترمہ سمن دیوگن نے اپنی خوبصورت آواز سے سامعین کے دل مسحور کر لیے۔ ہر سال کی طرح اِس سال بھی غالب اکیڈمی کے سکریٹری ڈاکٹر عقیل احمد نے اکیڈمی کے ۴۷ویں یومِ تاسیس اور غالب کی ۱۴۷ویں یومِ وفات کے موقع پر مختلف پروگراموں کا اہتمام کیا ہے۔ سمن دیوگن کی غزل سرائی سے اس تین روزہ پروگرام کا افتتاح ہو چکا ہے۔ کل، یعنی ۲۱ فروری کو ’’غالب کی معنویت‘‘ عنوان سے سمینار اور آخری دن، یعنی ۲۲ فروری کو طرحی مشاعرہ کا اہتمام کیا جائے گا۔

محترمہ سمن دیوگن نے غالب کے کلام ’’نہ تھا کچھ تو خدا تھا کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا ۔۔۔ ڈبویا مجھ کو ہونے نے نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا‘‘ گاکر محفلِ کلامِ غالب کا باقاعدہ آغاز کیا۔ اس کے بعد انھوں نے یکے بعد دیگرے غالب کی کئی غزلیں گائیں اور اپنی سریلی آواز سے سامعین کے دل جیت لیے۔

Suman Devgan

محفلِ کلامِ غالب شروع ہونے سے قبل غالب اکیڈمی کے سکریٹری ڈاکٹر عقیل احمد نے اکیڈمی کی سرگرمیوں کے بارے میں سامعین کو تفصیلی معلومات فراہم کیں۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ کیسے حکیم عبدالحمید نے اکیڈمی کی بنیاد ڈالی تھی اور اس کے پیچھے ان کا مقصد کیا تھا۔ انھوں نے بتایا کہ حکیم عبدالحمید غالب پر شائع ہونے والے مضامین وغیرہ کے تراشے جمع کر لیا کرتے تھے، تاکہ بعد میں غالب پر تحقیق کرنے والوں کو اس سے استفادہ کرنے کا موقع مل سکے۔ بعد میں انھیں تراشوں پر مبنی کتابیں بھی تصنیف ہوئیں۔ غالب اکیڈمی کے بارے میں بتاتے ہوئے انھوں نے کہا کہ یہاں پر نہ صرف ایک اچھی لائبریری موجود ہے، بلکہ غالب کا ایک میوزیم بھی ہے، جس کو دیکھ کر غالب کی زندگی کا ایک پورا نقشہ ہمارے سامنے آ جاتا ہے۔ اس کے علاوہ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ اندرا گاندھی نیشنل اوپن یونیورسٹی (اِگنو) کے اشتراک سے یہاں پر اردو سکھانے کے لیے ڈپلہ اور سرٹیفکیٹ کورس بھی چلائے جا رہے ہیں۔ ساتھ ہی دہلی اردو اکادمی کا سرٹیفکیٹ کورس بھی کافی دنوں سے یہاں چل رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اسکرپٹ کے بغیر اردو ادھوری ہے، لہذا ہمیں زبان کے ساتھ ساتھ اس کی اسکرپٹ کی بھی حفاظت کرنے کی ضرورت ہے۔

Mahfil-e-Kalam-e-Ghalib

آج کے پروگرام کا آغاز مشہور شاعر متین امروہوی کے کلام سے ہوا، محفل کلام غالب کے باضابطہ افتتاح سے قبل خیر مقدمی پروگرام میں نظامت کے فرائض محمد انیس فیضی اناؤنسر آل انڈیا ریڈیو نے انجام دیے۔ اس موقع پر جی آر کنول، سرفراز احمد فراز، ڈاکٹر شبانہ نذیر، ڈاکٹر قمر تبریز، اسفر فریدی، شعیب رضا فاطمی، ریاض قدوائی، ظہیر برنی، شو شنکر، نسیم عباسی، جے این وارثی، سلیم دہلوی اور مولانا انور علی قاسمی کے علاوہ بڑی تعداد میں سامعین موجود تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *