سمری بختیارپورکے تریاواں گاؤں میں گھرمیں گھس کرایک شخص کوجان سے مارنے کی کوشش۔

سمری بختیارپورکے تریاواں گاؤں میں گھرمیں گھس کرایک شخص کوجان سے مارنے کی کوشش۔

شکایت دہندہ بھوشن کمار

سہرسہ(جعفرامام قاسمی)بختیارپورتھانہ حلقہ کے تریاواں گاؤں کے پنڈت ٹولہ میں رات کے تقریباایک بجے گاؤں کے ہی دلیشورپنڈت عرف کیلوپنڈت اورانورودھ سادہ نے اپنے پڑوسی بھوشن کمارکے گھرمیں گھس کراسے جان سے مارنے کی کوشش کی۔لیکن وہ جان بچاکربھاگنے میں کامیاب رہا۔بھوشن کمارنے بختیارپورڈی ایس پی مردولاکماری کواس کی تحریری شکایت دے کرانصاف کی اپیل کی ہے۔اس نے اپنے شکایت نامہ میں لکھاہےکہ سنیچرکورات کے تقریباایک بجےکیلوپنڈت اہنے ہاتھ میں تھری نٹ اورانورودھ سادہ لاٹھی اوربڑی چاقو لیے میرے گھرکادروازہ توڑکراندرداخل ہونے کی کوشش کی۔ان دونوں کاارادہ بھانپ کر گھرکے پچھلے دروازے سے بھاگ کرمیں نے اپنی جان بچائی۔اس نے شکایت نامہ میں اس معاملے کی وجہ بتاتے ہوئے لکھاکہ کچھ دنوں قبل کیلوپنڈت گاؤں کے جنوبی حصے میں واقع ہریجن اسکول سے متصل ایک پلیاکی تقریباآٹھ ہزاراینٹ زبردستی اکھاڑلایااوراس سے اپناگھرتعمیرکرلیا۔اس کے خلاف گاؤں کے تقریباسوسے زائد لوگوں نے بختیارپورتھانہ میں اپنے دستخط کے ساتھ تحریری شکایت درج کروائی۔لیکن اب تک پولیس نے اس پرکوئی کارروائی نہیں کی ۔اسی بات کولے کر وہ گاؤں والے کوڈراتااوردھمکی دیتارہتاہے۔اورچوں کہ اس میں میں پیش پیش تھااس لیے بارباروہ مجھے گالی گلوج کرتااورجان سے مارنے کی دھمکی دیتاتھا۔اس کی بھی تحریری شکایت میں گزشتہ ماہ تھانہ میں دیاتھالیکن پولیس نے اس بابت اس سے کوئی پوچھ تاچھ نہیں کی۔بھوشن کمار نے شکایت نامہ میں یہ دعوی بھی کیاکہ کیلوپنڈت کاتعلق شروع سے ہی سماج دشمن عناصرسے ہے۔اسی بل پرآئے دن وہ غنڈہ گردی کرکے گاؤں میں دہشت پھیلاتارہتاہے۔اس نے نمائندہ کوبتایاکہ 2007 میں ہریجن پرائمری اسکول کی تعمیر کے لیے لائی گئی سیکڑوں اینٹ اٹھالی تھی اوراس موقع پر اسکول کے پرنسپل سے ایک لاکھ روپے کی رنگداری بھی طلب کی تھی جس بناپراسے جیل بھی جاناپڑاتھا۔واضح رہے کہ کیلوپنڈت کئی معاملے میں سرخیوں میں رہاہے۔اوربیوی کے وارڈ ممبربننے کے بعد سے اس کی غنڈہ گردی مزید پروان چڑھ گئی ہے۔بختیارپورتھانہ میں گاؤں والوں کی طرف سے اس کے خلاف کئی شکایتیں درج کروائی گئیں ہیں لیکن پولیس اس پرکارروائی کرنے میں برابر سستی دکھاتی آرہی ہے۔

Facebook Comments
Spread the love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply