مجھے رحمت ہی رہنے دیں!

اسفر فریدیasfar
انسان کی زندگی میں ایسے بہت سے واقعات پیش آتے ہیں ، جن کے اثرات و نتائج کے بارے میں اسے کوئی علم نہیں ہوتا، مگر بعض عمل کے پہلے ہی اس کے انجام کا سب کو پتہ چل جاتا ہے۔ یہی حال معاشرے کا بھی ہے۔ انسان کو سماج کی نعمت عطاکرنے میں جس ایک عمل کا بہت بڑا دخل ہے ، اس کا نام شادی بیاہ ہے۔ اس کے اہم مقاصد میں گھربسانا اور نسل انسانی کو آگے بڑھانے کا فریضہ اداکرنا شامل ہے۔ ظاہر ہے جس عمل کا مقصد گھربسانا ہو، وہاں گھراجاڑنے جیسے عمل کے بارے میں سوچنا بھی کفر ہوگا۔ لیکن غور سے دیکھیں تو سائنسی اور اقتصادی ترقی میں نئی نئی بلندیاں سر کرنے والا انسان سماجی اعتبار سے ایسا ناسمجھ اور مستقبل کی فکر سے بے پروا ہوگیا ہے کہ کبھی کبھی اس کی ذات کی صفات کے بدل جانے کا شبہ پیدا ہونے لگتا ہے۔مشرقی دنیا کے تناظر میں تکلیف کی بات یہ ہے کہ سب کچھ دیکھتے اور سمجھتے ہوئے بھی اسلامی و ہندوستانی سماج اسی راہ پرچل رہاہے، جس راستے پر آنکھ بندکرچلنے سے مغربی دنیا کا سماجی تانابانا ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوکر رہ گیا۔ اب وہاں نہ تو شادی بیاہ کا وہ رواج ہے جس سے سماج بنتا ہے اور نہ ہی اس رشتے میں عام طور سے وہ مضبوطی رہتی ہے ، جس کی ایک گھر بنانے کے لیے اشد ضرورت ہوتی ہے۔ شاید اسی لیے وہاں شادی سے پہلے ہی طلاق کی بات شروع ہوجاتی ہے۔ اتفاق سے مسلمانوں کے ساتھ ساتھ ہندوستانی معاشرہ بھی مغربی سماج کی ان کوتاہیوں اور برائیوں سے بخوبی واقف ہے۔ اس سب کے باوجود اگر مسلمان اور ہندوستانی معاشرہ اسی راہ پر چل رہا ہے تو ان کے اس عمل پر تبصرہ کرنے کی شاید کوئی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی ہے۔

شادی بیاہ کے حوالے سے اسلام کی تعلیمات سے واقفیت رکھنے والے جانتے ہونگے کہ اس میں مہر کے علاوہ اور کہیں پر بھی پیسہ یا دولت کا ذکر نہیں ہے۔اسلام نے شادی کو آسان بنایا ہے۔ اس کے مطابق مرد وعورت کے ایک جوڑے کو اللہ اور رسول کے بتائے راستے پر زندگی بتانے کے مقصد سے اپنی اپنی رضامندی ظاہر کرنے کے لیے کسی پیسے یا دولت کی ضرورت نہیں ہے۔ انہیں چند گواہوں کی موجودگی میں ساتھ رہنے کا اعلان کرنا پڑتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں کہیں تو انہیں ایک دوسرے کو قبول کرنا پڑتا ہے۔ اس میں شوہر پر مہر اداکرنے کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ اس میں بھی شوہر کے لیے آسانی رکھی گئی ہے، یعنی وہ ایک ساتھ مہر کی رقم کو ادا کرسکتا ہے، نکاح کے وقت ادا کرسکتا ہے ، یا پھر بعد میں ۔ گویا ، شادی بیاہ کا عمل اتنا آسان ہے کہ اس کی انجام دہی کے لیے کسی کو بھی کبھی بھی قرض لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن،حقیقت حال بالکل اس کے برعکس ہے۔ اس کی وجہ سے والدین کے ساتھ ہی بیٹی کی پیشانی پر بھی فکرمندی اور ان جانے اندیشوں کے نشانات ہوتے ہیں۔ گھرمیں رحمت ہوتے ہوئے والدین دن رات کو زحمت سمجھتے ہیں، اور اس کو اپنے آپ سے دورکرنے کے لیے طرح طرح کے جتن کرتے رہتے ہیں۔ اس عمل کے دوران اکثر والدین کے ذہن میں یہ بات نہیں آتی کہ آخر جس کو اللہ نے رحمت بنا کر بھیجا ہے، وہ زحمت کیسے ہوجائیگی؟اگر کبھی کبھار ان کے ذہن میں یہ بات آتی بھی ہے تو اپنی غلطیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے وہ کہتے نظر آجائیں گے کہ بیٹی پہلے رحمت ہوا کرتی تھی، اب نہیں۔ اب تو وہ زحمت ہے۔ایسے الفاظ بیٹی کے بھی کانوں میں جاتے ہیں۔ بیٹیوں کے ذہن ودل میں وہ تیر ونشتر کی طرح چبھتے ہیں، لیکن وہ تہذیب کے گھر میں شرم وحیا کا لبادہ اوڑھے سمٹی رہتی ہیں اورکبھی اف تک نہیں کرتیں۔ ایک گاؤں کی دختر نیک اختر نے بھی اس کا لحاظ رکھا ، لیکن اپنی شادی کے فوراً بعد اس نے اپنے سماج کے نام کچھ اس طرح کا خط تحریر کیا:

آپ نے مجھے بہت پیارکیا۔ بچپن سے لے کر جوانی تک میری تمام جائز خواہشوں کو پورا کیا۔ ایک دو نہیں بلکہ بہت بار میں نے بے جا ضد کی، مگر آپ نے اس کا برا نہیں مانا۔ آخر میں آپ کی بیٹی جو تھی۔ البتہ جیسے جیسے میری عمر بڑھتی گئی، اس کے ساتھ ہی ساتھ مجھے احساس ہونے لگ گیا تھا کہ میرے بارے میں آپ کی سوچ بدل رہی ہے۔ آپ کا نظریہ تبدیل ہورہا ہے۔ پہلے نظروں میں جو پیار دکھائی دیتا تھا، وہ غائب ہونے لگا۔ شفقت کے ہاتھ اکثر سرپر آتے آتے لرزنے لگتے۔ مجھے دیکھ آپ کے چہرے پر خوشی اور مسکان کی بجائے پیشانی پر فکرکی لکیریں تن جاتیں۔ میں آپ سے جھوٹ نہیں بولوں گی، پہلے آپ کے اندر آنے والی ان تبدیلی کا معنی مطلب نہیں سمجھتی تھی۔ لیکن اچانک ایک دن میرے کانوں میں یہ آواز پڑی ۔ کسی نے کہا : ’’اب تو یہ جوان ہوگئی ہے، جلدی سے اس کی شادی کردو، بیٹی تو پرایا دھن ہوتی ہے۔‘‘اس دن مجھے احساس ہوا کہ مجھے دیکھتے ہی آپ پریشان کیوں ہوجاتے تھے۔اس کے بعد سے میں لگاتار پریشان رہنے لگی۔ اس کا احساس شاید آپ کو نہیں ہوا ہوگاکیونکہ آپ میرے اندر کی پریشانیوں کو محسوس کرنا ہی نہیں چاہتے۔ آپ کو ہر وقت یہی لگتا ہے کہ میں بچپن کی طرح آج بھی اپنی ہر خواہش کو پورا کروانے کے لیے بے جا ضد کرنے والی بچی ہوں۔ میں سچ بتاتی ہوں، آپ کی وہ بچی اسی دن مر گئی تھی، جس دن آپ میں سے ہی کسی نے اسے پرایا دھن کہا تھا۔ زحمت ہونے کا طعنہ سننا تو خیر دن رات میری تقدیر کا حصہ بن گیا تھا۔ اس سب کے باوجود میں آپ کا ، تمام سماج کا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں۔ آپ نے میرے والد محترم کی لاج رکھی۔ میری شادی کے لیے ضروری انتظامات کرنے میں ان کا ساتھ دیا۔ جہیز کے سامان تیار کرنے میں بھی آپ ساتھ ساتھ رہے۔ اس دن بھی آپ بہت سرگرم نظر آئے ،جب میری بارات آنے والی تھی۔ میں تو اپنی سہیلیوں کے درمیان ایک گھر میں ، اور گھر میں کیا صرف ایک پلنگ پر بندھی ہوئی گٹھری کی طرح پڑی ہوئی تھی۔ ہاں ، اسی گٹھری کی طرح کہ کوئی آئے اور پرائے دھن کو اٹھا لے جائے، اسے کوئی انتظار نہیں کرنا پڑے ۔اس کے باوجود مجھے ہر چہار طرف ہونے والی چہل پہل کا پورا پورا احساس ہورہا تھا۔ اس دن میں کبھی خوش ہوتی ، کبھی غمگین ہوجاتی۔ خوشی اس بات کی ہوتی کہ آپ سب میرے والد محترم کے ساتھ تھے، اور غم اس کا تھا کہ سب مل کر میرے ابو کو جو مجھے سچ میں بہت پیار کرتے ہیں، مقروض بنانے کے عمل میں اپنا اپنا کردار ادا کررہے تھے۔ آپ سب تو جانتے تھے کہ میرے ابو ہی میرے ماں باپ ہیں، اس کے باوجود کبھی آپ کے دل میں دماغ میں یہ بات کیوں نہیں آئی کہ اس کمزورانسان کے سر پر تھوڑی دیر کا جشن منانے کے لیے اتنا بڑا بوجھ کیسے ڈال رہے ہیں۔ آخر میری شادی سے پہلے بھی تو آپ لوگ کھاتے پیتے ہونگے۔ اس دن بھی آپ ضرور کھاتے جس دن میری شادی ہوئی تھی۔ ویسے بھی آپ نے میرے یہاں صرف ایک وقت کا کھانا کھایا ، وہ بھی آدھا ادھورا۔ لیکن اس کے انتظام کے لیے کیا کیا کرنا پڑا ، اس کا تو آپ کو احساس ہوہی گیا ہوگا۔ ایک اور بات!میری شادی سے پہلے بھی تو آپ کا لخت جگر نورنظر کسی برتین میں کھاتا ہوگا،پیتا ہوگا، کہیں بیٹھتا ہوگا، کہیں سوتا ہوگا اور آنے جانے کے لیے کسی سواری کا استعمال کرتا ہوگا۔ پھر ایسا کیا ہوجاتا ہے کہ مجھ سے شادی طے ہونے کے ساتھ ہی آپ کے فرزند ارجمند کی خواہشیں آسمان پر پھدکنے لگتی ہیں۔وہ اپنی بیوی کے گھر سے دنیا بھرکی آسائشوں کے سامان لانے کی مانگ کرنے لگتا ہے۔آپ کو سوچنا چاہیے کہ جو کام ایک بیٹے کے باپ کے لیے مشکل ہے، وہ ایک بیٹی کے باپ کے لیے بھی مشکل ہی ہوگا۔ویسے بھی گھر بسانے کی ذمہ داری بیٹے کی ہے، بیٹی کی نہیں۔ اس کا کام اس نیک عمل میں اپنا بھرپور تعاون دینا ہے۔ مجھ سے کوئی غلطی ہوئی ہو تو معاف کریں گے۔ والسلام ، آپ کی بیٹی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *