مرکزی  و ریاستی حکومت مآب لنچنگ پر روک لگانے میں پوری طرح ناکام: بیداری کارواں 

مرکزی  و ریاستی حکومت مآب لنچنگ پر روک لگانے میں پوری طرح ناکام: بیداری کارواں
مآب لنچنگ میں شامل دہشت گردوں کو قومی دہشت گرد قرار دیا جائے: نظرعالم
مسلمانوں کے صبر کا امتحان نہ لیا جائے، جلد قانون نہیں بنا تو ملک بھر میں کریں گے احتجاج
پٹنہ: (پریس ریلیز) ملک بھر میں لگاتار مسلمانوں کو مآب لنچنگ کے نام پر بے رحمی سے مارا جارہا ہے۔ ابھی ہریانہ میں مسجد کے نابینا امام اور ان کی مجبور اہلیہ کو بھی درندوں نے لنچنگ کا شکار بناکر بے رحمی سے مار دیا گیا ہے۔ حد تو یہ ہوگئی ہے کہ قتل کے مقدمہ کی جگہ ملک بھر میں پولیس والے 304 کا سیکشن لگارہے ہیں اور لنچنگ میں شامل دہشت گردوں کو ہرطرح کی مدد پہنچاکر بچانے کا کام کررہی ہے  اورجب پولیس والے دہشت گردوں کو بچا لیتے ہیں تو مرکزی و ریاستی حکومت کے لیڈراس دہشت گردوں کو پھولوں کا مالا پہناکر، پارٹی میں جگہ دے کر حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ ملک کے مسلمانوں کو پہلے سے ہی  کانگریس کی حکومت نے کہیں کا نہیں چھوڑا ہے اور اب ایسا لگتا ہے کہ کانگریس کے ہی طرز پر بھاجپا بھی مسلمانوں کو یکطرفہ نشانہ بناکر جہاں تہاں، جیسے تیسے جان سے مروارہی ہے۔ مذکورہ باتیں آل انڈیا مسلم بیداری کارواں کے قومی صدرنظرعالم نے میڈیا سے گفتگو کے دوران کہی۔ مسٹر نظرعالم نے کہا کہ کانگریس کی خاموشی اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک میں مسلمانوں کے ہورہے قتل پر کانگریس سمیت پورے اپوزیشن کی تمام پارٹیاں خاموش بن کر بھاجپا کا ساتھ دے رہی ہیں۔آخر کیا بات ہے، کس کا ڈر ہے کہ اپوزیشن جماعت بھاجپا کے اقتدار کے خلاف سڑکوں پر مظاہرہ کرنے یا ہاؤس میں مضبوط مخالفت کرنے سے ڈرتی ہے۔ مسلمانوں کو اس حالت میں پہنچانے میں بھاجپا سے زیادہ کانگریس ذمہ دار ہے۔ جب کہ ملک کی عوام آج بھی کانگریس سمیت پورے اپوزیشن پارٹیوں کی طرف اُمیدبھری نگاہ سے دیکھ رہی ہے کہ کوئی تو اٹھے گا جو مودی کے آتنک راج کا صفایا کرے گا لیکن ایسا کہیں سے کچھ ہوتا دکھائی نہیں دے رہا ہے۔ مسٹرعالم نے آگے کہا کہ مآب لنچنگ جیسی ناسور بیماریوں پر مرکزی و ریاستی حکومت  روک لگانے میں پوری طرح سے ناکام ثابت ہورہی ہے ایسا لگتا ہے کہ حکومت کی سرپرستی میں ہی مسلم طبقے کے لوگوں کی مآب لنچنگ کے نام پر پورے ملک میں قتل کا ننگا کھیل کھیلا جارہا ہے۔ ہماری تنظیم آل انڈیا مسلم بیداری کارواں مطالبہ کرتی ہے کہ جتنی جلد ہو مرکزی و ریاستی حکومت اس معاملے پر چپی توڑے اور فوراً اس کے خلاف سخت سے سخت قانون بنائے، لنچنگ میں شامل دہشت گردوں کوقومی دہشت گرد قرار دے اور پھانسی کے پھندے پر لٹکائے۔ اگر حکومت اس معاملے پر جلد سنجیدہ نہیں ہوئی تو ملک بھر میں اس کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کی شروعات کی جائے گی۔ اپنے حق حقوق اور تحفظ کے لئے جس طرح دوسری قوم ذات کے لوگ آندولن کے ذریعے  اپنے مطالبات کو منوا لیتی ہے مسلمانوں کو بے بس نہ سمجھا جائے۔ اگر مسلمان سڑکوں پر آگئے تو حکومت کی نیند حرام ہوجائے گی۔ مسٹرعالم نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ آندولن کی شروعات سرزمین بہار سے ہی کی جائے گی کیوں کہ بہار سماجوادیوں کی سرزمین رہی ہے یہاں سے اُٹھنے والے آواز مرکز کی گنگی، بہری اور اندھی حکومت کی جڑ ہلانے کے لئے کافی ہے۔ مسٹرعالم نے کہا کہ جس طرح سے مآب لنچنگ کی وارداتیں ملک بھر میں لگاتار انجام دی جارہی ہے اس سے مسلم طبقہ میں کافی غصہ پایا جارہا ہے کہیں یہ غصہ آندولن میں تبدیل ہوگیا تو مرکزی و ریاستی حکومت کو سنبھالنا مشکل ہوجائے گا۔ اس لئے حکومت مسلمانوں کے صبر کا امتحان نہ لے اور ملک کے حق میں جتنی جلد ہو لنچنگ کے خلاف سخت سے سخت قانون بنائے تاکہ اس ناسور بیماری جس سے ملک تباہی کی طرف بڑھ رہا ہے اس پر روک لگ سکے۔
Facebook Comments
Spread the love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply