حکومت پرسنل لاء میں مداخلت سے باز آئے: مولانا انور چشتی

پھپھوند شریف: جامعہ صمدیہ پھپھوند شریف کے سربراہ مولانا سید محمد انور چشتی نے مرکزی حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہندوستان کے آئین نے سبھی مذہبوں کے ماننے والوں کو اپنے مذہبی قانون پر عمل کرنے کی آزادی دی ہے، اس لیے وہ مسلمانوں کے پرسنل لاء میں مداخلت کی مذموم حرکتوں سے باز آئے۔ وہ جامعہ صمدیہ میں طلاق ثلاثہ پر مرکزی حکومت کے مخالفانہ موقف، قانون کمیشن کے ذریعہ اس مسئلے پر رائے طلبی اور سپریم کورٹ میں دائر حلف نامہ کے خلاف احتجاج اور غم وغصے کے اظہار کے لیے منعقدہ ایک اہم نششت سے خطاب کر رہے تھے۔ نشست کی صدارت کے فرائض جامعہ کے شیخ الحدیث مفتی محمد انفاس الحسن چشتی نے انجام دیے۔
مولانا سید محمد انور چشتی نے مزید کہا کہ مرکزی حکومت ہندوستانی مسلم خواتین پر ظلم وزیادتی کے انسداد کا بہانہ بنا کر یکساں سول کوڈ کے نفاذ کی جو ناپاک کوشش کررہی ہے، ہندوستانی مسلمان اسے کسی بھی قیمت پربرداشت نہیں کرے گا۔ مرکزی حکومت کی جانب سے طلاق ثلاثہ کے سلسلے میں داخل حلف نامہ ہندوستانی مسلمانوں کی مذہبی آزادی پر حملہ اور خالص شرپسندی ہے۔ طلاق ثلاثہ خالص مسلم پرسنل لاء کا مسئلہ ہے، اس میں مرکزی حکومت کو کسی بھی طرح مداخلت کا کوئی حق حاصل نہیں ہطلاے۔ ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے جہاں ہر مذہب کے ماننے والوں کو اپنے مذہبی آئین کی روشنی میں زندگی گذار نے کا دستوری حق حاصل ہے، اس میں کسی بھی طرح چھیڑ چھاڑ ملک کی جمہوری حیثیت کو چیلنج کر نے کے مترادف اور ملک کو توڑنے کی ایک ناپاک سازش ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مرکزی حکومت یکساں سول کوڈ کے نفاذ اور طلاق ثلاثہ کے مسئلے پر سر کھپانے کے بجائے مسلمانوں کے اقتصادی، معاشی اور تعلیمی مسائل پر توجہ دے تو بہتر ہوگا، دراصل مرکزی حکومت اس طرح کے ایشوز اٹھا کر اپنی ناکامیوں کو چھپانا اور عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنا چاہتی ہے۔ مرکزی حکومت کو یہ بات اچھی طرح یاد رکھنی چاہیے کہ ہندوستانی مسلمان شرعی قوانین میں کسی بھی قسم کی ترمیم کوہرگز برداشت نہیں کرے گا، مسلمانوں کے لیے اسلام کا پیش کردہ نظامِ حیات کافی ہے، انہیں کسی بھی نئے قانون کی ضرورت نہیں۔
جامعہ صمدیہ کے شیخ الحدیث حضرت مفتی محمد انفاس الحسن چشتی نے اپنے بیان میں کہا کہ طلاق ثلاثہ کے نفاذ کا مسئلہ قرآن و حدیث، صحابہ کرام، تابعین اور ائمہ اربعہ کے یہاں متفق علیہ ہے، ہر زمانے میں ہمارے سلف و صالحین نے ایک نششت میں تین طلاق کو تین ہی قرار دیا ہے، اس میں نہ تو عورت پر کوئی ظلم وزیادتی ہے اور نہ ہی اس کے حقوق کی پامالی۔ مرکزی حکومت کے ذریعہ مسلمانوں کے ایک متفق علیہ مذہبی وفقہی مسئلے کو موضوع بحث بنا کر اس میں ترمیم کا مطالبہ کرنا سراسر بد دیانتی اور آئین ہند کی بھی خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملک کے مسلمان بڑی خستہ حالی اور بے روزگاری کا شکار ہیں، خواتین کی عزت وآبرو داؤ پر لگی ہے، آئے دن لوٹ کھسوٹ، قتل وغارت اور عصمت دری کے واقعات رونما ہو رہے ہیں، عورتوں کی خود کشی اور خود سوزی کی ہیبت ناک خبریں روزانہ میڈیا میں ظاہر ہوتی ہیں، حکومت ان سنگین مسائل کے سد باب کے لیے کوئی موثر لائحہ عمل کیوں تیار نہیں کرتی؟ کیا صرف طلاق ثلاثہ کامسئلہ مسلم خواتین کی زندگیوں کو خوشگوار بنا دے گا؟ دراصل چند مسلم خواتین کو ہائی جیک کر کے آر ایس ایس کی ذہنیت رکھنے والے لوگ مسلمانوں کے مذہبی مسائل کو موضوع بحث بنا کر یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اسلام کا نظام نکاح و طلاق ان کے حقوق کی حفاظت نہیں کرسکتا اس لیے ملک کی مسلم خواتین کے حقوق کی حفاظت یکساں سول کوڈ کے نفاذ کے ذریعہ ہی ممکن ہے۔
انہوں نے مرکزی حکومت کے اس تشویش ناک اقدام کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اپنا حلف نامہ واپس لے کر اسلامی شریعت میں مداخلت سے باز آئے ورنہ اس کے سنگین نتائج سامنے آئیں گے۔ انہوں کہا کہ سپریم کورٹ کو چاہیے کہ اس عرضی کو فوری طور پر خارج کرکے مرکزی حکومت کے اس اقدام کی مذمت کرے کیوں کہ مسلم پرسنل لاء میں کسی بھی طرح کی مداخلت آئین ہند کی سراسر خلاف ورزی ہے۔
نششت میں حضرت مولانا غلام محبوب سبحانی ازہری، مولانا محمد ساجد رضا مصباحی، مولانا غلام جیلانی مصباحی، مولانا خلیل اللہ نظامی، مولانا امیرالحسن چشتی، مولانا احکام علی چشتی، مولانا عابد چشتی، مولانا انصار رضا مصباحی، مولانا توقیر رضا مصباحی، مولانا آفتاب عالم صمدی، مولانا گل شاد چشتی، قاری عبد الحمید چشتی، قاری سرتاج چشتی، قاری ایوب چشتی، حافظ ہاشم چشتی اور مخلتف شعبوں کے اساتذہ و طلبہ نے شرکت کی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *