وجے مالیا کوبھگانے میں حکومت کا ہاتھ: ایس ڈی پی آئی

afsar sb
نئی دہلی ، ۱۵؍مارچ( پریس ریلیز) :
سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) نے نریندر مودی کی قیادت میں این ڈی اے کی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ بینکوں سے ۹۰۰۰؍ کروڑ روپے کا قرض لے کر نہیں چکانے کے الزام کا سامنا کررہے شراب کے تاجر وجے مالیا کوملک سے باہر بھگانے میں حکومت اور اس کی ایجنسیوں نے مدد کی ہے۔ اس ضمن میں جاری کردہ اپنے اخباری اعلامیہ میں ایس ڈی پی آئی کے قومی جنرل سکریٹری افسر پاشا نے کہا کہ نریندر مودی کی وائٹ کالر جرائم پیشہ افراد کے ساتھ ملی بھگت کے لیے وجے مالیا ایک واضح مثال ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اس طرح کے افرادپر بھروسہ کرکے حکومت ملک کی معیشت کے ساتھ سمجھوتہ کررہی ہے ۔

ایس ڈی پی آئی کے قومی جنرل سکریٹری نے مزید کہا کہ جو لوگ سمجھتے ہیں کہ سی بی آئی کی تلاش نوٹس کو تبدیل کرکے اور بینک حکام کے علم کے بغیر وجے مالیا ملک چھوڑ کر جاسکتے ہیں وہ بھولے بھالے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ اقتدار میں ہیں ان کی مرضی کے بغیرمالیا ملک چھوڑ کر نہیں جا سکتے ہیں۔افسر پاشا نے مزید کہا کہ مالیا کی کمپنی تقریباً پانچ سال سے اپنے ملازمین کے ٹی ڈی ایس اورپی ایف کی رقم جمع نہیں کررہی تھی۔ اس سلسلے میں کانگریس کی قیادت والی یو پی اے حکومت نے کبھی سوال نہیں کیا ۔مالیا بہت بڑی سرکاری رقم ہڑپ کرکے امیر ترین لوگوں کی طرح اپنی زندگی جی رہے ہیں اور ان کے پاس دنیا بھر میں کروڑوں ڈالر کی ملکیت کی رہائش گاہیں ہیں، اس کے باوجود وہ دیوالیہ ہونے کا دعوی کررہے ہیں۔ لہذا مالیا کی مذموم سرگرمیوں کے لیے بی جے پی اور کانگریس دونوں ذمہ دار ہیں۔ لیکن کانگریس کا کہنا کہ بی جے پی نے مالیا کو فرار ہونے میں مدد کی ہے یہ سب سے بڑا مذاق ہے۔

افسر پاشانے اس بات کی طرف خصوصی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ مالیا نے راجیہ سبھا کے حلف نامہ میں صفر قرض دکھا یا ہے ،اور ایک جھوٹا حلف نامہ درج کرنا تعزیرات ہند کے تحت ایک فوجداری جرم ہے اور ایک ایسا شخص گذشتہ ۱۲؍برسوں سے راجیہ سبھا کا رکن ہے ؟ مرکزی حکومت کا کہنا کہ مالیا پر سی بی آئی اور انفورسمینٹ ڈائرکٹوریٹ کے مقدمات کے باوجود وہ عدالت کے حکم کے بغیرمالیا کو ملک سے باہر جان سے روک نہیں سکتی ہے ۔ یہ مرکزی حکومت کی دوغلی پالیسی ہے کیونکہ گرین پیس کارکن پریا پلائی کو عدالتی حکم کے بغیر جنوری ۲۰۱۵؍میں لندن جانے والی فلائٹ سے اتارا گیا تھا۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *