ماب لنچنگ کے خلاف بنے مؤثر قانون: نظر عالم

تاریخ اسلام کا ہر گھر میں مطالعہ عام کیا جائے: بیداری کارواں
پٹنہ: پریس ریلیز۔ ہندوستان، لنچستان بن گیا ہے، آئے دن لنچنگ کے واردات بڑھتے ہی جارہے ہیں، مسلم نوجوانوں کو بھیڑ کے ذریعے ماردیا جاتا ہے، ملک کے حالات اس قدر سنگین ہوگئے ہیں کہ ہندو اکثریت اسے مرتا دیکھ بچانے کے بجائے اس کا ویڈیو بناتی ہے، پولیس اسے لنچنگ چھوڑ کچھ اور نام دے دیتا ہے، ملک میں قانون کی حکومت ختم ہوچکی ہے اور ہو بھی کیوں نہیں، جب ملک ہی غنڈہ موالیوں کے ہاتھوں میں سونپ دیا جائے، فرقہ وارانہ طاقتیں اپنے عروج پر ہو، تو ایسے میں کن حالات کی توقع کی جاسکتی ہے۔ گذشتہ دنوں قاری اویس اور محمدعمر کی لنچنگ میں ہوئے موت کی جانکاہ خبر ملی، دل بہت مغموم ہے اورمتفکر ہوں کہ ملک کے حالات، ملک کی سالمیت، ملک کی یکجہتی سب ٹوٹتی جارہی ہے۔ ملک کو عالمی سیاست نے مار دیا ہے۔ قوموں کے عروج و زوال کی کہانیوں پر جب نظرپڑتی ہے تو اس بات کا یقین ہوجاتا ہے کہ ہندو قوم بے چینی کی حالت میں ہے، ”چرچِل“ نے کہا تھا کہ کسی ملک کی عدلیہ اور اس کا قانون مجبور ہوجائے تو انتظار کرو وہ ملک ملک نہیں رہے گا۔ مذکورہ باتیں آل انڈیا مسلم بیداری کارواں کے قومی صدر
نظرعالم نے پریس بیان میں کہی۔
متعلقہ خبر:
مسٹرعالم نے آگے کہا کہ ہم مرکزی حکومت اور تمام ریاستی حکومتوں سے مطابہ کرتے ہیں کہ لنچنگ کے خلاف سخت سے سخت قانون بنائیں اور ملزموں کو پھانسی دیں۔ مسٹرنظرعالم نے مسلم بھائیوں سے بھی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ جہاں ڈر ہے وہاں اسلام نہیں ہے، آپ خود اپنے محافظ ہیں، اپنی حفاظت خود کریں اور یہ کیسے ہوگا یہ آپ سے بہتر کوئی نہیں جانتا۔ تاریخ اسلام کا ہر گھروں میں مطالعہ عام کیا جائے۔ یہی میری آخری گزارش ہے! اخیر میں نظرعالم نے کہا کہ تمام مسلمان بھائیوں کو منظربھوپالی کی یہ غزل  نذر کرتا ہوں:
اب آسمانوں سے آنے والا کوئی نہیں ہے
اٹھو کے تم کو جگانے والا کوئی نہیں ہے
محافظ اپنے ہو آپ ہی تم یہ یاد رکھو
پڑوس میں بھی بچانے والا کوئی نہیں ہے
فضا میں بارود اُڑ رہی ہے جدھر بھی دیکھو
جہاں میں اب گُل کھلانے والا کوئی نہیں ہے
یہاں پہ بستی جلانے والے بہت ہیں لیکن
چراغ دل کا جلانے والا کوئی نہیں ہے
تمہارا ہادی ہے صرف قرآں، وہی ہے رہبر
کہ اور راستہ دِکھانے والا کوئی نہیں ہے
خدا نے وعدہ کیا ہے تم سے اے حق پرستو
تمہیں زمیں پر مٹانے والا کوئی نہیں ہے
تمہارے سر پر ہے جب تلک سایہ نبوت
سروں کی قیمت لگانے والا کوئی نہیں ہے
Facebook Comments
Spread the love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply