حکیم اجمل خاں کی وراثت ملت کا سرمایہ: پروفیسر رئیس الرحمن

????????????????????????????????????

نئی دہلی، ۱۲؍ فروری: حکیم اجمل خاں یکجہتی اور قومی اتحاد کے عظیم علمبردار تھے ۔ اپنا یہ کردار انہوں نے اس طرح ثابت کیا تھا کہ کوئی ان کی نیت پر شک بھی نہیں کرتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ انہوں نے مسلم لیگ کے اجلاس کی بھی صدارت کی اور ہندو مہاسبھا کے اجلاس کی بھی،یہ بات محترمہ ڈاکٹر نجمہ ہبت اللہ ، مرکزی وزیر براے اقلیتی امورنے کہی۔ وہ’ حکیم اجمل خاں ۔ ہمہ گیر شخصیت اور لازوال خدمات‘کے موضوع پرجامعہ ملیہ اسلامیہ کے اشتراک سے منعقد سنٹرل کونسل فار ریسرچ ان یونانی میڈیسن کے ماتحت تحقیقی ادارہ حکیم اجمل خاں انسٹی ٹیوٹ فار لٹریری اینڈ ہسٹاریکل ریسرچ ان یونانی میڈیسن کے قومی سمینار کے افتتاحی جلسے کو خطاب کررہی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ حکیم اجمل خاں نے ہمیشہ دیسی طبوں کو بڑھاوادینے کی کوشش کی اور اسی لیے انہوں نے ’ ہندوستانی دواخانہ‘ کے نام سے فارمیسی کھولی۔انہوں نے کہا کہ ہمیں ان کی وراثت کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر ہم اپنی دیسی طب کی آج کی ضرورت کے مطابق تجدید کریں اور سائنٹفک انداز میں تحقیق کریں تو یہ حکیم صاحب کے لیے ہمارا سب سے بہتر خراج عقیدت ہوگا۔

پروفیسر طلعت احمد، وائس چانسلر ، جامعہ ملیہ اسلامیہ نے کہا کہ حکیم اجمل خان ایک ہمہ گیر شخصیت تھے اور جامعہ سمیت کئی دیگر تعلیمی اداروں کی تاسیس و ترقی میں ان کا بہت اہم رول رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ جامعہ اور سی سی آر یوایم کو مشترکہ طور پرطب کے ان پہلوؤں پر تحقیق کرنا چاہیے جہاں یہ ادارے اپنے آپ کو قائد اور پیش رو کے طور پر ثابت کرسکیں۔ انہوں نے کہا کہ جامعہ کے لیے یہ اعزاز کی بات ہے کہ وہ اپنے بانی حکیم اجمل خاں پر دو روزہ قومی سمینارکے انعقاد میں سی سی آر یوایم کے ساتھ اشتراک کر رہی ہے۔

????????????????????????????????????

اس موقع پر ڈاکٹر جی، این قاضی، وائس چانسلر ، جامعہ ہمدرد نے کہا کہ حکیم اجمل خاں نے دیسی طب میں سائنٹفک تحقیق کی بنیاد رکھی اور اس کی ترویج و اشاعت کے لیے ہر ممکن کوشش کی۔ ساتھ ہی انہوں نے حکیم عبد الحمید کی شکل میں ایسا جانشیں بھی چھوڑا جنہوں نے ان کے نامکمل کاموں کو بحسن و خوبی پایۂ تکمیل تک پہنچایا اور مثال کے طور پر انہوں نے جامعہ ہمدرد کو پیش کیا۔ انہوں نے ڈاکٹر سلیم الزماں کی سائنسی تحقیقات کا بھی تذکرہ کیا اور انہیں سراہا۔

اپنے کلیدی خطبہ میں پروفیسر الطاف احمد اعظمی نے کہا کہ حکیم اجمل خاں ایک عظیم قائد اور حکیم ہونے کے علاوہ وہ عربی و فارسی ادب کے شاعر بھی تھے۔ انہوں نے کہا کہ حکیم صاحب نے ہندوستانی مسلمانوں کی تعلیمی ترقی اور یونانی طب کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کیا۔
قبل ازیں پروفیسر رئیس الرحمن، ڈائرکٹر جنرل، سی سی آریوایم نے اپنے استقبالیہ خطبہ میں کہا کہ آج قومی یکجہتی، حب الوطنی اور دیسی طبوں کے تحقیق میں حکیم اجمل خاں کی وراثت اور روایت کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکیم صاحب نے آیوروید اور یونانی طب کو ایک چھت کے نیچے جمع نہ کیا ہوتا تو شاید حکومت ہند کے ذہن میںیونانی سمیت دیگر دیسی طبوں کو آیوش میں یکجا کرنے کا خیال نہ آیا ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ آزاد ہندوستان میں حکیم صاحب کی خدمات کا کما حقہ اعتراف نہیں کیا گیا اور کئی سطح پر انہیں نظر انداز کیا گیا۔ انہوں نے اس کی تلافی کے لیے انہیں بھارت رتن ایوارڈ سے سرفراز کیے جانے کی وکالت کی۔

اس موقع پر مہمانوں نے سمینار کے یادگاری مجلہ، سی سی آر یوایم کے سہ ماہی اردو مجلہ جہان طب کے حکیم مظہر عثمان سبحانی نمبر اور تین دیگر مطبوعات کا اجرا بھی کیا۔ ساتھ ہی ڈاکٹر محمد فاضل اور ڈاکٹر فخرعالم کی تالیف کردہ کتاب ’نشان اجمل‘ کا بھی اجرا عمل میں آیا۔ سی سی آریوایم نے اس موقع پریونانی طب کے فروغ میں بیش بہا خدمات کے لیے حکیم مظہر سبحان عثمانی اور پروفیسر اشتیاق احمد کو پس مرگ لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے نوازا۔ ساتھ ہی حکیم عبد الجبار خاں کو لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈسے اورحکیم خورشید احمد شفقت اعظمی، حکیم وسیم احمد اعظمی اور ڈاکٹر شارق علی خاں کی خدمات کا بھی اعتراف کرتے ہوئے انہیں ایوارڈ سے سرفراز کیا گیا۔
سمینار کی افتتاحی تقریب کے اخیر میں ڈاکٹر محمد فضیل نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔ دوروزہ سمینار کے تکنیکی جلسوں میں حکیم اجمل خاں کی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر ۵۰ سے زائد مقالات پیش کیے جائیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *