ہاپوڑ یوپی میں مسلمانوں پر حملہ کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہو… جمعیت علماء ہند

نئی دہلی۲۳؍ جون ۲۰۱۸ (پریس ریلیز)..
ملک میں مظلوموں کے لیے ہر محاذ پر لڑنے والی نامور تنظیم جمعیۃ علماء ہند نے ہاپوڑ کے پلکھوہ گاؤں میں وحشیانہ طریقے سے پیش آئے ماب لنچنگ کے سانحہ کو انتہائی افسوس نا ک بتایا ہے ۔ اس سلسلے میں جمعیۃ علماء ہند کے ایک وفد نے آج ضلع مجسٹریٹ اور ایس پی کے ساتھ الگ الگ بیٹھک کرکے ظالموں کے خلاف سخت کارروائی او راہل خانہ کے لیے معقول معاوضہ کا مطالبہ کیا ۔
جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی نے جہاں اس واقعہ پر گہری تشویش ظاہر کی ہے وہیں دوسری طرف ان کی ہدایت پر مولانا حکیم الدین قاسمی سکریٹری جمعیۃ علماء ہندکی سربراہی میں مرکزی و ضلعی ارکان پر مشتمل ۲۳؍رکنی وفد آج ہاپوڑ ڈی ایم دفتر پہنچا اور اس سے متعلق ضلع مجسٹریٹ کو ایک میمور نڈم سونپا  جس میں شہید قاسم کے لیے پچیس لاکھ کا معاوضہ ، ان کی بیوہ کو پینشن، بچوں کے لیے تعلیم و رہائش اسی طرح زخمی سمیع الدین کے لیے پندرہ لاکھ کا معاوضہ اورسرکاری خرچ پر علاج کا مطالبہ کیا گیا ۔جمعیۃ کے وفد نے مجسٹریٹ سے کہا کہ ظالموں کو کیفر کردار تک پہنچانے تک جمعیۃعلماء خاموش نہیں بیٹھے گی ۔ وفد نے کہا کہ اس ملک میں اقلیتو ں پر حملہ ایک فیشن بن گیا ہے جس کے بعد خود مجرمین ویڈیو بنا کر جاری کرتے ہیں تا کہ پورے بھارت کو ڈرایا جاسکے ۔ وفد نے کہا کہ قاتلو ں میں ایسا زعم پیدا ہو گیا ہے کہ وہ قانون کے رکھ والوں کے چہیتے ہیں۔وہ اپنی ناپاک حرکت کو اعلانیہ طور سے پیش کرکے ہندو دھرم اور اس ملک کی مشترکہ ثقافت کو بدنام کررہے ہیں.
جمعیۃ علماء ہند کے وفد نے ازیں قبل شہید محمد قاسم کے گھر پہنچ کر ان کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا اور ان کا غم بانٹنے کی کوشش کی ، اس کے بعد65سالہ بزرگ زخمی سمیع الدین کی عیادت کے لیے ہسپتال بھی پہنچا ۔مرحوم محمد قاسم کے بھائی محمد شاہد، محمد سلیم ، محمد ندیم برادر نسبتی محمد عرفان اور دیگر اعزاء واقرباء نے بتایا کہ ہم لوگ فروٹ کا کاروبار کرتے ہیں اور کبھی کبھی بکرا وغیرہ خرید کر بیچتے ہیں ۔ ۱۸؍جون کو بھائی محمد قاسم مرحوم معاش کی تلاش کے لیے تقریبا گیارہ بجے گھر سے نکلے تھے ، پلکھوہ سے پانچ کلو میٹر دور بجھیڑا خورد میں شرپسندوں نے کھیت کے پاس اتنا مارا کہ محمد قاسم کا انتقال ہو گیا اور بعد میں پولس کی موجودگی میں لاش کی بے حرمتی کی گئی ۔محمد قاسم کے فی الوقت پانچ بچے اور ایک بیوہ ہیں ، ایک کی شادی ہوگئی ہے ، ایک بچی شادی کی عمر کو پہنچ گئی ہے اور دو چھوٹے چھوٹے بچے ہیں ۔حالات سے گھرے ہوئے مرحوم قاسم کے اہل خانہ نے جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی کے نام ایک تحریر میں انصاف دلانے میں قانونی تعاون کی درخواست کی ہے ۔
ادھر جب جمعیۃ کا وفد دیونندنی ہسپتال ہاپوڑ کی آسی یو میں زیر علا ج بوڑھے سمیع الدین سے ملاقات کی تو وہ اظہار ہمدردی کے دوران اپنے غم کو چھپا نہ سکے،حالاں کہ وہ اب تک درست طریقے سے بات نہیں کر پارہے تھے ۔ان کے بھائی یسین نے بتایا کہ سمیع الدین کھیت پر کام کررہے تھے ، شرپسندو ں نے مارتے مارتے مردہ سمجھ کر چھوڑ دیا ۔ ہاسپٹل کے ڈاکٹر فراز نیر نے بتایا کہ ان کے سر ، کڈنی اور پاؤں میں چوٹ ہے ، جب کہ دو پسلیاں ٹوٹ گئی ہیں۔وفد نے آسی یو میں باضابطہ طبی لباس پہن کر سمیع الدین کی حالت  کاجائزہ لیا ۔
پلکھوہ جانے والے جمعیۃ علماء ہند کے وفد میں مولانا حکیم لدین قاسمی سکریٹری جمعیۃ علما ء ہند ، مولانا افتخار احمد قاسمی صدر جمعیۃ علماء ہاپوڑ، قاری احمد عبداللہ رسول پوری آرگنائزر جمعیۃ علماء ہنداور مولانا غیور احمد قاسمی شامل تھے ، ان کے علاوہ ضلعی جمعیۃ علماء کے ذمہ ذمہ داران بھی شریک رہے.
Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *