ہری ونش سنگھ بنے راجیہ سبھا کے ڈپٹی چیئرمین

نئی دہلی: راجیہ سبھا کے ڈپٹی چیئرمین کے الیکشن میں این ڈی اے نے یوپی اے کو شکست دے دی ہے۔ جمعرات کو ۱۱ بجے شروع ہوئی ووٹنگ کے نتائج کا اعلان نائب صدر جمہوریہ اور راجیہ سبھا کے چیئرمین ایم وینکیا نائیڈو نے کیا۔ واضح ہو کہ این ڈی اے کی طرف سے جنتادل متحدہ کے رکن پارلیمنٹ ہری ونش نارائن سنگھ کو امیدوار بنایا گیا تھا جبکہ یوپی اے کی حلیف جماعتوں کے ذریعہ انکار کے بعد کانگریس نے بی کے ہری پرساد کو میدان میں اتارا تھا۔ وزیر اعظم نریندر مودی اور بی جے پی کے صدر امت شاہ کی جوڑی کے ذریعے بچھائی گئی اس سیاسی بساط پر کانگریس چاروں خانے چت ہوگئی۔ اس کی پہلی شکست تو اسی میں ہوگئی کہ وہ یوپی اے میں شامل اپنی کسی حلیف جماعت کو ڈپٹی اسپیکر کے عہدہ کے لیے اپنا امیدوار نامزد کرنے کے لیے راضی کرنے میں ناکام رہی۔
ہری ونش نارائن سنگھ

اس الیکشن کی خاص بات یہ بھی رہی کہ بی جے پی نے جے ڈی یو کے سہارے این ڈی اے سے دوری بناکر چلنے والی پارٹیوں سے قربت بڑھا لی ہے۔ واضح ہوکہ این ڈی اے کے امیدوار کو ۱۲۵؍ ووٹ ملے جبکہ بی کے ہری پرساد کے حق میں ۱۰۵؍ ووٹ ڈالے گئے۔بی جے پی سے ناراض چل رہی شیوسینا نے بھی جے ڈی یو امیدوار کے حق میں ووٹ دیا۔ اس کے علاوہ بی جے پی اور کانگریس کی قیادت والے سیاسی اتحاد سے الگ علاقائی پارٹیوں کا اتحاد بنانے کی کوششوں میں مصروف تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ کے چندر شیکھر راؤ کی پارٹی تلنگانہ راشٹریہ سمیتی اور اوڈیشہ کے وزیر اعلیٰ نوین پٹنائک کی بیجوجنتادل کے اراکین پارلیمنٹ نے بھی این ڈی اے کو ووٹ دیا۔ محبوبہ مفتی کی پی ڈی پی، عام آدمی پارٹی اور وائی ایس آر کانگریس نے الیکشن میں حصہ نہیں لیا۔ کانگریس کے امیدوار کو ترنمول کانگریس، این سی پی، ٹی ڈی پی، ڈی ایم کے، سماج وادی پارٹی، بہوجن سماج پارٹی اور بایاں محاذ کی جماعتوں کی حمایت حاصل تھی۔ ہری ونش نارائن سنگھ پہلی بار راجیہ سبھا کے رکن بنے ہیں جبکہ بی کے ہری پرساد تین بار سے پارلیمنٹ کے ایوان بالا کے رکن ہیں۔

راجیہ سبھا یعنی ایوان بالا کی رکنیت کی مدت چھ سال کی ہوتی ہے۔ ہر دوسرے سال پر کچھ ممبران ریٹائرڈ ہوتے ہیں اور پھر ان کی جگہ الیکشن ہوتا ہے۔ راجیہ سبھا میں کل ۲۵۰؍ رکن ہوتے ہیں۔ ایوان بالا میں ۱۲؍ اراکین کو صدر جمہوریہ نامزد کرتے ہیں۔ نامزد اراکین برسراقتدار جماعت کی پسند کے ہوتے ہیں اور حکومت کی سفارش ہی پر انہیں نامزد کیا جاتا ہے۔ اس میں عام طور پر فنون لطیفہ، ادب اور سماج کے دیگر شعبوں کی ماہر اور نامور شخصیات کو نامزد کیا جاتا ہے۔ جاوید اختر، شبانہ اعظمی اور سچن تندولکر وغیرہ اسی بنیاد پر راجیہ سبھا کے رکن بنے تھے۔
Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *