کس کروٹ بیٹھے گا یہ سیاسی اونٹ

Dr. Tasleem Rahmaniڈاکٹر تسلیم احمد رحمانی
مرکز میں نریندر مودی کی قیادت میں این ڈی اے کی حکومت قائم ہونے کے بعد سے جو حالات پیداہوئے ہیں،اس نے ملک میں فرقہ واریت کو ہوادی ہے اورہندواحساس تفاخرکے اضافے کی دانستہ کوشش کی گئی ہے۔وہ بحثیں جو ۱۹۴۷ء تک تقریباًختم ہوچکی تھیں ۲۰۱۴ء کے بعد پھر سے شروع ہوگئیں۔مثلا’گؤکشی پر پابندی‘،’وندے ماترم،‘’بھارت ماتاکی جئے‘،’مسلمانوں کی تعداد ہندوؤں سے بڑھ جانے کا مفروضہ‘،’یکساں سول کوڈ کی بحث‘وغیرہ وغیرہ یہ تمام وہ مسائل ہیں جن پر اس ملک میں ۱۹۰۵ء میں ہندومہاسبھاکی تشکیل کے بعد زبردست بحث ہوتی رہی،کبھی کبھی یہ بحث خونریز شکل بھی اختیار کرتی رہی۔ہندوقوم پرستوں کی انہیں بحثوں نے ملک میں مسلم لیگ کو طاقت دی تھی اوردوقومی نظریے کو پروان چڑھایاتھا،جس کے نتیجے میں ملک بالآخر مذہبی بنیادوں پر دوحصوں میں تقسیم ہوگیا۔مذہبی بنیاد پر پاکستان اسلام کا پیروکار بن کر مملکت خداداد کی حیثیت سے وجود میںآیامگر ہندوستان نے اس دوقومی نظریے کو بظاہر ردکرتے ہوئے سیکولرزم کو اپنالیا۔یہی بات بہت حیرت ناک ہے کہ جب ملک دومذہبی نظریات کے ٹکراؤ کے نتیجے میں تقسیم ہوااورایک نے اسلام کو اپنالیاتو دوسرے نے اتنی شدید ہندوتحریک کے باوجود ہندومذہب کو سرکاری طور پرتسلیم کرتے ہوئے اسے ہندوراشٹرکے طور پر کیوں نہیں قبول کیا۔عام طور پر کہایہ جاتاہے کہ اس وقت کی کانگریس قیادت سماج واد اورسیکولرزم کے نظریات کی حامی تھی، اسی لیے ملک کو ہندوراشٹرنہیں بننے دیااورملک میں موجود تمام مذاہب ونظریات کو ایک ساتھ رہنے پر ترجیح دی گئی۔سننے میں یہ بہت اچھالگتاہے لیکن اگر بغور آزادی کے وقت کے حالات کا تجزیہ کیاجائے تو یہ بات صاف ظاہر ہوجاتی ہے کہ مسلم راشٹرکی حیثیت سے پاکستان تو متحد رہ سکتاتھالیکن ہندوراشٹرکی حیثیت سے اتنابڑاہندوستان قائم کرناناممکن تھا۔اس لیے کہ کشمیر کے مسلمان،پنجاب کے سکھ،شمال مشرق کی عیسائی ریاستیں اورجنوبی ہندوستان کا مختلف ہندوازم اس مجوزہ ہندوراشٹرکو خارج کردیتااورہندوراشٹرکی حیثیت سے محض ہندی بیلٹ کا کچھ علاقہ ہی قائم رہتااورمتحدہ ہندوستان دوحصوں میں بٹنے کے بجائے متعدد حصوں میں تقسیم ہوجاتا۔اسی خدشے کے پیش نظر کانگریس کی قیادت نے ہندوراشٹرکے ہم نواؤں کو سمجھابجھاکر یاتو خاموش کردیایااپنے آپ میں ضم کرلیا۔خود نئے دستور میں بھی اس بات کا لحاظ رکھاگیاکہ ملک سیکولر ہونے کے باوجود ہندوبرتری کا غمازرہے ۔دستور ساز اسمبلی کی تمام بحثوں میں ان تمام تجاویز کو قبول کرلیاگیاجو ملک کو بتدریج غیر اعلانیہ ہندوراشٹرکی جانب لے جاتی تھیں اوراس کے بعد بتدریج کانگریس کی مختلف قیادتیں اوروزرائے اعظم اس غیر اعلانیہ ہندوراشٹر کے لیے ملک بھر میں ذہنی ہم آہنگی قائم کرنے کی راہ ہموار کرتے رہے۔اس کا سب سے بڑاثبوت یہ ہے کہ ہمارے زمانے کی تمام سیکولر سیاسی جماعتیں اسی کانگریس کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اسی ہندوتواکی ہمنواہیں جس کی وہ عوامی طور پر مخالفت کرتی ہیں۔
مذکورہ بالاپس منظر میں موجودہ حکومت کی کارکردگی یہ صاف ظاہر کرتی ہے کہ ملک کو ہندوراشٹرمیں تبدیل کرنے کی فضاکانگریس سازگار کرچکی ہے، اس لیے اب بظاہر کانگریس کے وجود کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہی اوربھارتیہ جنتاپارٹی وآرایس ایس جیسی سخت گیر ہندوتووادی طاقتیں ہی اب اس ملک کی زمام اپنے ہاتھ میں رکھیں گی اوراگر براہ راست ایساکرناممکن نہ ہواتو نام نہاد سیکولرجماعتیں جو خود اسی سخت گیر ہندوتوکی ہم نواہیں اورکسی نہ کسی موقع پر اس کی حلیف رہی ہیں،وہ ایک مخلوط سرکار کے ذریعے حکومت پر قابض رہیں گی۔گویادونوں جانب نظریہ ایک ہی ہوگا،سیکولرزم اورسماج واد ایک نعرے سے زیادہ اہم پہلے بھی نہیں تھا،اب بھی اپنامقام کھوچکاہے اورمستقبل قریب میں شاید یہ نعرہ سننابھی بند ہوجائے ۔ملک کے موجودہ ہیجان انگیز حالات میں جہاں ایک طرف مذہبی منافرت روز افزوں ہے ،دوسری طرف مہنگائی بڑھتی جارہی ہے ۔بے روزگاری میں اضافہ ہورہاہے،کرپشن کے خاتمے کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔کالادھن واپس آنے کے بجائے بڑھتاہوا اب پنامالیکس تک پہنچ گیاہو،ملک اقتصادی مندی سے دوچار ہو،کسان اوراس کی کھیتی دم توڑ رہی ہواورمیڈیااپنے چینلوں پر یامذہبی منافرت پروس رہاہویاہیجان انگیز یاشہوت خیز کہانیاں دکھاکراصل مسائل سے صرف نظر کررہاہو،ایسے میں اگر کچھ سیاسی پنڈت یہ کہیں کہ بی جے پی کاگراف بہت تیزی سے گر رہاہے اوراگلے انتخابات میں بی جے پی نہیں جیت سکے گی، تو ایک لمحے کے لیے بات فوراسمجھ میںآجاتی ہے،لیکن دوسرے ہی لمحے یہ سوال بھی آخر کھڑاہوجاتاہے کہ اگر بی جے پی کا گراف گررہاہے تو آخر کس پارٹی کا گراف بڑھ رہاہے ؟۔۔۔کانگریس کی جانب دیکھیں تو اس کی حکومتیں مختلف ریاستوں میں گرتی ہی چلی جارہی ہیں،خود لوک سبھامیں اس کی تعداد بے حد کم ہے اورراجیہ سبھامیں بھی مستقبل قریب میںیہ تعداد قابل رحم حد تک گر جائے گی۔کانگریس کی مرکزی قیادت کی سیاسی جست وخیز بھی اس قسم کی نہیں لگتی کہ مستقبل میں اس کاگراف بڑھنے کی کوئی امید ہویاکسی ریاست میں اس سے حکومت سازی کی کوئی امید کی جاسکے۔کمیونسٹ پارٹیوں کا حال اس سے بھی زیادہ دگر گوں ہے ۔ پہلے بھی وہ کوئی بڑی طاقت میں نہیں تھیں اوراب دونوں کمیونسٹ پارٹیاں اپنی قومی حیثیت بھی گنواچکی ہیں ۔مغربی بنگال میں جہاں ایک لمبے عرصے سے ان کی حکمرانی رہی،اب مستقبل میں کبھی ان کے دوبارہ اقتدار میںآنے کی توقع نہیں رہی۔اس کے بعد جو پارٹیاں بچتی ہیں،وہ تمام کی تمام ریاستی نوعیت کی علاقائی سیاسی جماعتیں ہیں،جن کے سیاسی نظریات اپنی ریاست سے زیادہ آگے تک دیکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔مثلاًاترپردیش کی سماج وادی پارٹی اوربی ایس پی ریاست سے باہر حکومت سازی کے لیے کبھی کوشاں نہیں رہیں،اڑیسہ کا بیجوجنتادل کبھی باہر نہیں نکلا،پنجاب کی اکالی پارٹیاں پنجاب میں ہی مگن ہیں،تمل ناڈوکی اماں اورکروناندھی پوڈوچیری سے آگے نہیں بڑھتے،تلنگانہ کی پارٹیاں تلنگانہ میں اورآندھراپردیش کے چندربابونائیڈواپنے ہی حلقوں میں بند ہیں۔یہ اوراس قسم کی تمام سیاسی جماعتوں کا مرکزی سطح پر حکومت سازی کا نہ کوئی ارادہ ہے اورنہ کوئی صلاحیت اورطاقت ۔ایسے میں بہارکے حالیہ اسمبلی انتخابات کے آغاز ہی سے جنتادل یونائٹیڈمرکزی سطح پر حکومت سازی کا دم بھرتی رہی ہے۔بہار الیکشن کے موقع پر بھی یہ اعلان کیاجاتارہاکہ قومی سطح پر نریندر مودی کا جواب نتیش کمار ہی ہوسکتے ہیں،بہار کے مسلمانوں نے اسی نعرے سے متأثر ہوکر بہار کے مہاگٹھ بندھن کو یکمشت ووٹ دے کر کامیابی سے ہمکنار کردیا۔یہاںیہ سوال پیداہوتاہے کہ کیابہار میں محدودہوکر رہ جانے والا جنتادل یونائٹیڈواقعی بہار سے نکل کر قومی سیاست میں کوئی انقلاب بپاکرنے کی صلاحیت رکھتاہے؟
گذشتہ دنوں ملک کے ایک معروف سیاسی تجزیہ نگار سے گفتگوکے دوران جب یہی سوال میں نے اٹھایاکہ ملک میں کس کا گراف بڑھے گاتو ان کا کہناتھاکہ سردست کوئی سیاسی پارٹی اس زمرے میں فٹ دکھائی نہیں دیتیں، لیکن اس قسم کی بحرانی سیاست میں عین وقت پر نئی سیاسی صف بندیاں بن جاتی ہیں جو ملک میں اقتدار کی کروٹ کو بدل دیتی ہیں۔اس سلسلے میں انہوں نے جنتاپارٹی کو مثال کے طورپر پیش کیاجس نے ۱۹۷۸ء میں پہلی بار کانگریس کو اقتدار سے بے دخل کیاتھااوراس کی دوسری مثال عام آدمی پارٹی کے طور پر پیش کی جس نے اچانک کھڑے ہوکر حیرت انگیز طور پر دہلی کے ریاستی انتخابات میں ایک تاریخ رقم کی تھی۔ان کا کہناتھاکہ اگلے انتخابات کے قریب اسی قسم کا کوئی نیاسیاسی گروہ کھڑاہوسکتاہے جو کانگریس اوربی جے پی دونوں کو اقتدار سے دور کردے۔
سینئر سیاسی تجزیہ نگاروں کا یہ تجزیہ اپنی جگہ درست ہوسکتاہے لیکن یہ بھی ذہن نشیں رہناچاہیے کہ اس قسم کے بروقت سیاسی تجربات کبھی بھی دیر پاثابت نہیں ہوئے۔مثلاًجنتاپارٹی جس تیزی سے وجود میںآئی اسی تیزی سے محض ۲۸؍مہینہ کے اندر نہ صرف یہ کہ اس کی حکومت گرگئی بلکہ پارٹی کی بھی دھجیاں بکھرگئیں اوراس وقت مختلف ریاستوں میں اسی پارٹی کے ٹوٹے ہوئے ٹکڑے اقتدار میں ہیں۔لالوپرساد یادوکی آرجے ڈی اورنتیش کمار کا جنتادل یواسی کا حصہ رہے ہیں اوراگر غور سے دیکھیں تو ملک میںآدھے سے زیادہ حکمراں سیاسی جماعتیں اسی جنتاپارٹی کا ٹوٹاہواحصہ ہیں۔عام آدمی پارٹی کا حال بھی اس سے زیادہ بہترنہیں ہے۔اچانک وجود میںآئی یہ سیاسی جماعت دہلی سے باہر اپنااثر نہیں جماسکی اوراب خود دہلی میں بھی اس کی گرفت اتنی مضبوط نہیں رہی۔پارٹی میں ایک تقسیم ہوچکی ہے اورمزید تقسیم کا اندیشہ ہر وقت برقرار ہے۔چنانچہ یہ سیاسی تجربے تھوڑی دیرکے لیے بجلی جیسی ایک چمک توپیداکرسکتے ہیں لیکن آسمان سیاست پر جگمگاتے ہوئے چاند اورسورج بن جائیں،اس کے امکانات مخدوش ہیں۔
۱۰؍اپریل ۲۰۱۶ء کو شرد یادونے جنتادل یونائٹیڈ کی صدارت ترک کردی۔وہ تین مرتبہ پارٹی کے صدر رہے۔ان کی پارٹی کے دستور کے مطابق لگاتاردومرتبہ سے زیادہ اس عہدے پر کوئی فائز نہیں رہ سکتا۔ان کی تیسری مدت کے لیے بھی دستور میں ترمیم کرنی پڑی تھی ۔پارٹی کے بڑے لیڈران ان کو چوتھی مدت دینے کے لیے ایک بار پھر پارٹی کے دستور میں ترمیم کے لیے رضامند تھے لیکن خود شرد یادونے اسے پسند نہیں کیااوربہت سختی کے ساتھ ردکرتے ہوئے نئی قیادت کے لیے راستہ ہموار کردیا۔پارٹی کی قومی مجلس عاملہ میں انہوں نے خود بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار کانام پارٹی کی صدارت کے لیے پیش کیااوراتفاق رائے سے اسے قبول کرلیاگیا۔اس میٹنگ کے بعد پارٹی کے قومی ترجمان کے سی تیاگی نے کہاکہ پارٹی کا فوری نشانہ ۲۰۱۷ء کا اترپردیش انتخاب ہے لیکن پا رٹی کا اصل نشانہ ۲۰۱۹ء کا لوک سبھاانتخاب ہوگا۔اس کا براہ راست مطلب یہ ہے کہ ۲۰۱۹ء تک نتیش کمار بہار میں وزیراعلیٰ رہتے ہوئے مختلف ریاستوں میں پارٹی کو مضبوط کرنے اوردوسری ریاستی پارٹیوں کو یاتوپارٹی میں ضم کرنے یاان سے اتحاد بنانے کی کوشش کرتے رہیں گے اوربالآخر ۲۰۱۹ء میں قومی سطح پر ایک سیاسی قوت بن کر ابھریں اورکانگریس وبی جے پی کا مقابلہ کریں۔یہاں دوباتیں واضح رہنی چاہیے۔ایک تو یہ کہ خود بہار میں لالوپرساد یادوکی پارٹی کیا۲۰۱۹ء تک نتیش کمار کو برداشت کرے گی ؟لالوپرساد یادوپارٹی میں اپنے ہی خاندان کے لوگوں کا قد بڑھانے میں مصروف ہیں۔سیکولرزم کی دعویداری ثانوی ہے اورسماج واد کا نظریہ پریوار واد میں بدل چکاہے ۔اگر واقعی وہ پارٹی کو ریاست میں مضبوط کرنے کے لیے سنجیدہ ہوتے تو ریاست کے نائب وزارت اعلیٰ کی کرسی پر اپنے بیٹے کو بھیجنے کے بجائے عبدالباری صدیقی کو متمکن کرکے وہ نہ صرف ریاست کو بلکہ پورے ملک کو بہت مثبت پیغام دے سکتے تھے لیکن اتنے سنگین حالات میں بھی انہوں نے ایساکوئی اقدام نہ کرکے واضح اشارہ دے دیاہے کہ انہوں نے ماضی سے کوئی سبق نہیں سیکھاہے اورنہ صرف ریاست بلکہ پورے ملک میں لالوپرساد جیسے سب سے زیادہ سیکولرسمجھے جانے والے سیاسی لیڈر وں کو بھی مسلمانوں کا اقتدار پسند نہیں ہے ۔ایسے میں وہ نتیش کو بھی کتنی دیر تک برداشت کریں گے یہ آنے والاوقت بتائے گا۔بہر حال ۲۰۱۷ء تک بہار میں کوئی سیاسی خطرہ دکھائی نہیں دیتااورشاید نتیش کمار بھی اسی لیے پرامید ہیں۔لیکن سوال یہ پیداہوتاہے کہ انہیں شرد یادواورنتیش کمار کی قیادت میں قومی سطح پر جس مہاگٹھ بندھن کی بات چلی تھی اورسب پارٹیوں کو توڑ کر ایک پارٹی میں ضم کرنے کی منصوبہ سازی کی جارہی تھی وہ حمل استقرار سے پہلے ہی ساقط ہوگیا۔اس کی دوسری کوشش بہار انتخابات کے بعد آسام میں کی گئی لیکن وہی کانگریس جس نے مہاگٹھ بندھن کے ذریعے بہار میں اپنی مردہ عروق کو گرم لہوفراہم کیا،اسی نے آسام میں اس مہاگٹھ بندھن کا راستہ مسدود کردیااوراب یہی کانگریس اترپردیش میں پھر اسی مہاگٹھ بندھن کو مضبوط کرکے بہار کی طرز پر اپنے آپ کو اترپردیش کے اندر مضبوط کرنے کی فراق میں ہے۔خود نتیش کماربھی اس معاملے میں کانگریس کے ہم خیال ہیں،حالانکہ اترپردیش کی صورت حال یہ ہے کہ یہ مہاگٹھ بندھن جو بہار میں فاتح ثابت ہواتھااترپردیش میں اجیت سنگھ کے راشٹریہ لوک دل اورڈاکٹر ایوب انصاری کی پیس پارٹی کو جنتادل یو میں ضم کرلینے کے باوجود اورکانگریس کے حلیف بن جانے کے بعد بھی ریاست میں ووٹ کٹواسے زیادہ حیثیت کی حامل نہیں ہوسکتی۔
واضح رہے کہ یہاں بھی یہ گٹھ بندھن اویسی کو بے مہار چھوڑکے رکھے گااور ریاست کی دوبڑی سیاسی جماعتیں بی ایس پی اورسماج وادی پارٹی اس مہاگٹھ بندھن کا حصہ کبھی نہیں بنیں گی۔یہ عوامل ظاہر کرتے ہیں کہ نتیش کی قیادت والایہ مہاگٹھ بندھن ۲۰۱۹ء تک بہت زیادہ برگ وبار لانے کی پوزیشن میں دکھائی نہیں دیتااورملک کی بیشترپارٹیاں اپنی ریاستی مفادات کے مدنظراپنے وجود کو ختم کرنے پر آمادہ نہیں ہوں گی ،چاہے وہ جنتادل سیکولر جیسی چھوٹی پارٹی ہی کیوں نہ ہو۔یہاںیہ امر بھی واضح رہناچاہیے کہ نظریاتی طور پر خود نتیش کمار نے آرایس ایس اوربی جے پی کی مخالفت کبھی نہیں کی بلکہ پارٹی کی صدارت کے اپنے انتخاب کے بعد بھی انہوں نے اپنے بیان میںیہ کہاکہ بی جے پی اٹل اورآڈوانی کی پارٹی نہیں رہی ،اس لیے اس سے ان کو اختلاف ہے۔یعنی وہ یہ ظاہر کرتے رہے ہیں کہ ان کا اصل اختلاف ذاتی طور پر نریندر مودی سے ہے ،بی جے پی کے نظریات سے نہیں۔اسی لیے ۱۷؍سال تک وہ بی جے پی کے حلیف کے طور پر بہار میں حکمراں رہے۔گویااگر آخری مرحلے پر بھارتیہ جنتاپارٹی نریندر مودی کو سامنے سے ہٹاکر راج ناتھ سنگھ جیسے کسی لیڈر کو آگے کردیتی ہے تو نتیش کمار سے بجاطور پر یہ توقع کی جائے گی کہ وہ اس بی جے پی کا ہاتھ ایک بار پھر تھام لیں۔یہی وہ اصل صورت حال ہے کہ جو اس ملک کے مستقبل کی سیاست کے لیے سب سے زیادہ تشویش ناک ہے ۔یعنی سیکولرلوگ کرپٹ ہیں اورغیر سیکولرایک دوسرے کے حلیف ۔ایسے میں مسلمانوں،دلتوں،قبائلیوں اورانتہائی غریب عوام کے لیے کوئی انصاف پسند سیکولر سماج وادی سیاسی متبادل قومی سطح پر اچانک آکھڑاہوگا،اس کے امکانات سردست دکھائی نہیں دیتے اورنتیش کمار شاید اسی صورت حال کا سیاسی فائدہ اٹھاناچاہتے ہیں۔
(مضمون نگار مسلم پولیٹیکل کونسل کے صدر ہیں )

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *