ہمایوں کا مقبرہ: دہلی کی سب سے خوبصورت عمارت

Humayun's Tomb

ڈاکٹر قمر تبریز

دہلی میں یوں تو بہت سی تاریخی عمارتیں ہیں، لیکن جو خوبصورتی ہمایوں کے مقبرہ میں ہے، وہ کسی اور میں نہیں۔ نظام الدین میں واقع ہمایوں کے مقبرہ کی یہی وہ خوبصورتی ہے، جس نے مغل بادشاہ شاہجہاں کو اپنی بیگم کے لیے لازوال یادگار ’تاج محل‘ بنانے کا ڈیزائن مہیا کرایا۔ شاہجہاں نے تاج محل کا ڈیزائن ہمایوں کے مقبرہ سے ہی مستعار لیا۔ دونوں ہی عمارتیں ایک اونچے چبوترے پر بنی ہوئی ہیں۔ دونوں ہی عمارتوں میں چہار باغ کی طرز پر فن معماری کا اعلیٰ ترین مظاہرہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ دونوں ہی عمارتیں ایک اونچے چبوترے پر مستطیل شکل میں بنائی گئی ہیں، جن کے بیچ میں ایک گول گنبد ہے۔ ہمایوں کے مقبرہ اور تاج محل میں بنیادی فرق صرف میناروں کا ہے، جو ہمایوں کے مقبرہ میں نہیں ہے، لیکن تاج محل میں اس کا استعمال کیا گیا ہے۔ پانی کے چشمے دونوں ہی جگہ دیکھنے کو ملتے ہیں۔ اسی طرح دونوں ہی عمارتیں یمنا ندی کے کنارے بنائی گئی ہیں، جہاں سے اُس زمانے میں ان عمارتوں میں پانی کی سپلائی ہوا کرتی تھی۔ جس طرح ہمایوں کا مقبرہ ایک خوبصورت باغ کے اندر واقع ہے، اسی طرح تاج محل بھی ایک باغ کے بیچ میں بنایا گیا ہے۔

ہمایوں کا مقبرہ دہلی میں بستی حضرت نظام الدین میں واقع ہے۔ یہ عمارت شان و شوکت کے لحاظ سے اپنے آپ اس حقیقت کو بیان کرتی ہے کہ یہ کسی مغل حکمراں کا مقبرہ ہے، لیکن چند قدم کی دوری پر حضرت نظام الدین اولیاء کا مقبرہ بھی ہے۔ عمارت کے لحاظ سے دونوں مقبروں میں شاہ و فقیر کا تو فرق موجود ہے، لیکن جو رونق حضرت نظام الدین اولیاء کے مقبرہ پر ہے، وہ ہمایوں کے مقبرہ میں دیکھنے کو نہیں ملتی۔ ہمایوں کا مقبرہ ایک وسیع و عریض باغ میں ضرور موجود ہے، جہاں ایک ساتھ لاکھوں کی تعداد میں لوگ جمع ہو سکتے ہیں، اس کے باوجود وہاں ویرانی کا احساس ہوتا ہے۔ دوسری طرف ایک چھوٹی سی جگہ پر موجود حضرت نظام الدین اولیاء کا مقبرہ بھلے ہی کشادہ جگہ پر نہ ہو، لیکن وہاں ہمایوں کے مقبرہ کے مقابلہ کئی گنا بھیڑ ہمیشہ لگی رہتی ہے۔ اس کے علاوہ ہمایوں کے مقبرہ پر کوئی بھی پھولوں کی بارش نہیں کرتا، جب کہ حضرت نظام الدین اولیاء کی درگاہ پر چوبیسوں گھنٹے پھولوں کی بارش ہوتی رہتی ہے۔ گویا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ مغل بادشاہ جہاں دنیاوی لحاظ سے کامیاب تھا، وہیں حضرت نظام الدین اولیاء کو اللہ کی قربت حاصل تھی اور اسی لیے انھیں ولیوں کے ولی، یعنی ’اولیاء‘ کا لقب عطا کیا گیا تھا۔

ہمایوں کے مقبرہ کی تعمیر مغل بادشاہ ہمایوں کی بیوہ حمیدہ بانو نے اپنی شوہر کی یاد میں ۱۵۶۲ سے ۱۵۷۲ کے درمیان کرائی تھی۔ اس کی تعمیر کا کام مشہور ایرانی معمار میرک مرزا غیاث کی زیرنگرانی مکمل کرایا گیا۔ بعد میں ہندوستان میں مغلوں نے جتنی بھی عمارتیں بنوائیں، ان سب میں اس طرزِ تعمیر کی نقل کی گئی۔ چند سال قبل دہلی میں تیز آندھی کی وجہ سے اس کے گنبد کو نقصان پہنچا تھا، جسے آغاں خان ٹرسٹ فار کلچر نے دوبارہ مرمت کرایا۔ اس مرمت میں کل چھ سال لگے، جس کے بعد اس عمارت کی خوبصورتی مزید دوبالا ہوگئی۔ مرمت کے اس کام میں سر دورابجی ٹاٹا ٹرسٹ نے بھی مالی تعاون پیش کیا اور آثارِ قدیمہ سروے آف انڈیا کی مدد بھی پوری طرح شامل حال رہی۔ بتایا جاتا ہے کہ آغا خان ٹرسٹ نے مرمت کے اس کام میں سنگ تراشوں، چونے کا کام کرنے والے فنکاروں، ٹائل بنانے والوں اور لکڑی کا کام کرنے والوں سمیت کل دو لاکھ لوگوں کی خدمات حاصل کیں۔ اس کے لیے باقاعدہ ازبیکستان سے ماہرین بلائے گئے۔ ازبیکستان مغل حکمراں بابر کا آبائی وطن تھا، لہٰذا اس عمارت کی مرمت کے لیے وہاں کے ماہرین نے ہندوستانی فنکاروں کو ٹریننگ دی۔ ان کاریگروں نے ہمایوں کے مقبرہ کی چھت پر بیسویں صدی میں ڈالے گئے دس لاکھ کلو کنکریٹ کو بھی ہٹایا، تاکہ عمارت کو آئندہ کوئی نقصان نہ پہنچے۔ اس کے علاوہ ان کاریگروں نے مقبرے کے گنبد کے جوڑ چونے سے مضبوط کیے اور ان کی اوپری سطح کا کام ٹائلوں سے مکمل کیا۔ مقبرے کی اندرونی جانب لگے ہوئے پتھروں کو کم سے کم چھیڑا گیا اور دس فیصد سے زیادہ کو تبدیل کیا گیا۔ ان سبھی کاموں میں وہی آلات و طریقے استعمال کیے گئے، جو مغلیہ دور کے معمار کیا کرتے تھے۔

ہمایوں کے مقبرہ میں داخل ہونے کے بعد بائیں طرف عیسیٰ کا مقبرہ اور بہت سے باغات بھی ہیں، جو پہلے بند رہا کرتے تھے۔ لیکن، اب ان تمام باغات کو دوبارہ بحال کر دیا گیا ہے، جس سے اس عمارت میں خوبصورتی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ عیسیٰ کے مقبرہ کی مرمت کا کام ابھی جاری ہے۔

ملک و بیرونِ ملک کے سیاحوں کی یہاں ہمیشہ بھیڑ رہا کرتی ہے۔ پہلے اس عمارت کو دیکھنے کے لیے ٹکٹ نہیں لگتا تھا، لیکن اب ہندوستانی سیاحوں کے لیے ایک ٹکٹ ۱۰ روپے کا، جب کہ بیرونی سیاحوں کے لیے ۲۵۰ روپے فی کس کے حساب سے ٹکٹ لگتا ہے۔ ۱۵ سال تک کے بچوں کے لیے داخلہ مفت ہے۔ دہلی کے اندر مغلیہ خاندان کی زیادہ تر قبریں یہیں پر ہیں۔ اتفاق کی بات یہ ہے کہ آخری مغل حکمراں بہادر شاہ ظفر کو ۱۸۵۷ کی بغاوت کے دوران انگریزوں نے اسی جگہ سے گرفتار کیا تھا اور پھر انھیں رنگون (میانمار) لے جاکر قید کر دیا تھا، جہاں اب بھی ان کی قبر موجود ہے۔

دہلی آکر اگر آپ نے ہمایوں کے مقبرہ کو نہیں دیکھا، تو سمجھ لیجئے آپ نے کچھ بھی نہیں دیکھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *